امربالمعروف ونہی عن المنکر‘احادیث کی روشنی میں

زیر مطالعہ حدیث مسلم شریف کی ہے اور حضرت ابوسعید خدریh سے مروی ہے. وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول کو فرماتے ہوئے خود سنا: مَنْ رَاٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَـیِّرْہُ بِیَدِہٖ ’’جو شخص بھی تم میں سے کسی منکر(بدی) کو دیکھے‘ اس کا فرض ہے کہ اسے اپنی طاقت سے بدل دے‘‘.غور کیجیے یہ فرض ہے . یہ نہیں کہ انسان سوچے کہ جو کوئی برائی کرتا ہے کرتا رہے‘ خود عذاب سہے گا.ہرگز نہیں!اسے برائی سے روکنا آپ پر فرض ہے اور اگر آپ نہیں روک رہے تو آپ گناہ کا ارتکاب کررہے ہیں.چنانچہ جہاں آپ کا اختیار ہو وہاں اپنے زورِ بازو سے برائی کو روکیں. حکومتی سطح پر تو طاقت موجود ہوتی ہے‘ چنانچہ حکومت وقت اپنے اہلکاروں کے ذریعے برائی کو بزور روک سکتی ہے اور اچھائی کا نفاذ کرا سکتی ہے.لیکن اگر طاقت نہیں ہے تو: فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ ’’پھراگر اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اسے بدل دے‘‘. یعنی اپنی زبان سے برائی کو روکے. غلط کام کرنے والے سے برملا کہے کہ خدا کے بندے ‘ یہ غلط کام مت کرو‘یہ حرام کا م ہے‘ اس سے باز آجاؤ.اور اگر زبان سے روکنے کی بھی طاقت نہیں ہے‘ یعنی معاشرے میں زبانوں کے اوپر بھی اس طریقے سے تالے ڈال دیے جائیں کہ بولنا بھی گویا جرم شمارہورہا ہو اور آواز اُٹھانے پر زبان کھینچ دی جاتی ہو تو اس صورت میں یہ ہے کہ: فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ ’’پھر اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہوتو کم سے کم اپنے دل میں (اس کے خلاف) ایک نفرت کا معاملہ رکھے‘‘. وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ ’’اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے‘‘.اگر دل میں بھی گناہ اور بدی سے نفرت کا معاملہ نہ ہو تو پھر ایمان کی مطلق نفی ہے.

اس حدیث کی ہم مضمون ایک اور روایت ہے جو ذرا مفصل انداز میں ہے‘وہ بھی آپ سن لیجیے.اسے بھی امام مسلم نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے اور یہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے. وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: مَا مِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ فِیْ اُمَّۃٍ قَبْلِیْ اِلاَّ کَانَ لَہٗ مِنْ اُمَّتِہٖ حَوَارِیُّوْنَ وَاَصْحَابٌ ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کوئی نبی کسی اُمت میں نہیں بھیجا مگر اس کے لیے اس کی امت میں سے کچھ نہ کچھ حواری اور اصحاب ہوتے تھے‘‘.وہ خصوصی طور پر دوکام کرتے تھے‘پہلا کام یہ تھاکہ : یَاْخُذُوْنَ بِسُنَّتِہٖ ’’وہ اس کی سنت کو مضبوطی سے تھامتے تھے‘‘ اور دوسرا کام یہتھا کہ وَیَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِہٖ ’’اور وہ اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے‘‘.وقت گزرنے کے ساتھ اور نئی نسل کے آجانے سے جذبہ ٹھنڈا پڑنا شروع ہوجاتا ہے اورپھر ناخلف اور نافرمان لوگ پیدا ہوتے ہیں.نبی اکرم نے اس بات کو بایں الفاظ فرمایا: ثُمَّ اِنَّھَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِھِمْ خُلُوْفٌ ’’پھر ہمیشہ یہ ہوتا رہا کہ ان نبیوں کے بعد ایسے ناخلف لوگ پیدا ہوتے رہے‘‘.ان کے دوکام یہ تھے کہ: یَـقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ وَیَفْعَلُوْنَ مَا لَا یُؤْمَرُوْنَ ’’جو کہتے تھے وہ کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ تھے جس کا انہیں حکم نہیں ہواتھا‘‘.آگے فرمایا: فَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِیَدِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ ’’تو جو شخص ان (ناخلف لوگوں)کے خلاف اپنی طاقت سے جہاد کرے تووہ مؤمن ہے‘‘ ومَنْ جَاھَدَھُمْ بِلِسَانِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ ’’اور جو کوئی ان کے خلاف اپنی زبان سے جہاد کرے وہ بھی مؤمن ہے‘‘ ومَنْ جَاھَدَھُمْ بِقَلْبِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ ’’اور جو ان کے خلاف اپنے دل سے جہاد کرے (یعنی نفرت رکھے)وہ بھی مؤمن ہے‘‘. وَلَیْسَ وَرَائَ ذٰلِکَ مِنَ الْاِیْمَانِ حَبَّۃُ خَرْدَلٍ(۱’’اور اس کے بعد تو ایمان رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں ہے.‘‘