فریضہ نہی عن المنکر سے پہلوتہی پر بنی اسرائیل کا انجام

آخر میں‘میں آپ کے سامنے بنی اسرائیل کا تذکرہ کروں گا. نہی عن المنکر سے پہلوتہی اور اعراض کا معاملہ اہل کتاب میں بھی ہو گیا تھا اوراسے اُمت ِمسلمہ کے لیے گویا تنبیہہ کے طور پر قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے. چنانچہ سورۃ المائدۃ میں ارشاد ہوا: 

لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ 
(۱) رواہ الدارمی‘ عن الحسن مرسلاً. بحوالہ مشکاۃ المصابیح‘ کتاب العلم‘ الفصل الثالث. لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۶۳﴾ (المائدۃ) 
’’کیوں نہیں منع کرتے انہیںان کے درویش(صوفی اورپیرو مرشد) اور علماء و فقہاء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام خوری سے؟بہت ہی برا ہے وہ کام جو وہ کر رہے ہیں.‘‘

یعنی بنی اسرائیل کے اولیاء اللہ ‘ صوفیاء‘ مشائخ‘ احبار یا بڑے بڑے علماء نے اپنے لوگوں کو گناہ کی بات زبان سے کہنے اور حرام خوری سے کیوں نہیں روکا؟ جب انہوں نے اپنے فرضِ منصبی کو اداکرنے سے اعراض کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اس مقام و منصب سے معزول کردیا جو ان کو عطا ہوا تھا اور پھر ہماری اُمت کو اُمت مسلمہ کا درجہ دے دیاگیا.اسی منصب پر ہم سے پہلے بنی اسرائیل دو ہزار برس تک فائز رہے ہیں اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے. اب ہمیں بھی چودہ سو برس ہوگئے ہیں. بحیثیت ِاُمت ان کی تاریخ شروع ہوتی ہے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام سے. حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہما السلام تک چودہ سو برس کا عرصہ تھا.بنی اسرائیل کے خلاف قرآن مجید میں جو فردِ جرم آئی ہے ‘ان جرائم میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کے راہب اور علماء اپنی قوم سے نذرانے لیتے رہے‘ ان سے خدمتیں اور اکرام کراتے رہے‘ لیکن انہیں بدی سے نہیں روکا.ظاہر بات ہے کہ یہ ان کے جرائم میں سے ایک بہت بڑا جرم ہے. اسی لیے فرمایا: 

کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوۡنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۷۹﴾ 
(المائدۃ) 
’’(ان لوگوں کے جرائم میں سے ایک یہ بھی ہے کہ) وہ نہیں روکتے تھے ایک دوسرے کو اس منکر سے جو وہ کرتے تھے.بہت ہی بری ہے وہ بات جووہ کررہے تھے.‘‘

اس ضمن میں ایک حدیث میں آیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلے جو خرابی پیدا ہوئی وہ یہ تھی کہ ان کے علماء لوگوں کو روکتے توتھے کہ یہ غلط کام ہے‘ یہ برا کام ہے‘ لیکن ان کے ساتھ میل جول اور کھانے پینے سے احتراز نہیں کرتے تھے‘ ان کے دسترخوانوں پر جاکر بہترین‘لذیذ اور مرغن کھانے کھاتے تھے.اس کا نقصان یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو بھی ویسا ہی خراب کر دیا.حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

لَمَّا وَقَعَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ فِیْ الْمَعَاصِیْ نَھَتْھُمْ عُلَمَاؤُھُمْ فَلَمْ یَنْتَھُوْا‘ فَجَالَسُوْھُمْ فِیْ مَجَالِسِھِمْ وَوَاکَلُوْھُمْ وَشَارَبُوْھُمْ‘ فَضَرَبَ اللّٰہ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ وَلَـعَنَھُمْ عَلیَ لِسَانِ دَاوُدَ وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ‘ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ (۱
’’جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوگئے تو (ابتدا میں) اُن کے علماء نے اُن کو ان سے روکا لیکن جب وہ باز نہ آئے ‘لیکن (اس کے باوجود) انہوں نے اُن کی ہم نشینی اور ان کے ساتھ باہم کھانا پینا جاری رکھا تو (اس کے نتیجے میں)اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو بھی باہم مشابہ کردیا اور پھر ان پر دائود اور عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) کی زبانی لعنت فرمائی‘ اور یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی روش اختیار کی اور وہ حدود سے تجاوز کرتے تھے.‘‘

الغرض منکرات سے دل میں نفرت ‘جسے کمزور ترین ایمان قرار دیا گیا ہے‘کا تقاضا یہ ہے کہ برائی کا ارتکاب کرنے والے لوگوں کے ساتھ دوستی نہ رکھی جائے .آپ ہر رات کو دعائے وتر میں اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرتے ہیں: وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَفْجُرُکَ ’’اے اللہ! جوبھی تیری نافرمانی کرے ہم اس سے ترکِ تعلق کرتے ہیں اور اس سے علیحدہ ہو جاتے ہیں‘‘.یہ بہت بڑا دعویٰ ہے.لیکن اگر بالفعل ان سے ترکِ موالات نہیں ہے‘ انہی میں گھل مل رہے ہیں‘ ہنسی اور گپ شپ ہو رہی ہے تو یہ ایمان کی نفی ہے.ان سے ملاقاتیں کرنی ہیں تو دعوتِ دین کی خاطر کریں‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے کریں ورنہ برائی سے نفرت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان کے ساتھ سوشل بائیکاٹ کیا جائے اور اس طرح کم سے کم اپنے آپ کو بچا لیں. اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے.

آمین یارب العالمین! 
اَقُوْلُ قَوْلِیْ ھٰذَا وَاَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ لِیْ وَلَکُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِیْنَ والمُسلمات (۱) سنن الترمذی‘ ابواب التفسیر‘باب ومن سورۃ المائدۃ.