مسلمان کی پردہ پوشی کرنا

زیر مطالعہ روایت میں رسول اللہ نے تیسری بات یہ فرمائی: وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ’’جو شخص کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے گا‘اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی عیب پوشی فرمائے گا‘‘.آپ کی نظر میں کسی کا کوئی عیب آ گیا ہے تجسس تو آپ نے نہیں کرنا اور ٹوہ میں نہیں لگے رہنا ‘اس لیے کہ سورۃ الحجرات میں واضح حکم ہے : وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا ’’اور ایک دوسرے کے حالات کی ٹوہ میں نہ رہا کرو‘‘. آپ نے خود سے تو کسی کا عیب تلاش نہیں کیا‘ لیکن ایک چیز آپ کے سامنے آ ہی گئی تو اس پر پردہ ڈالو.یہ نہیں کہ اس کا ڈھنڈورا پیٹواور لوگوں کے اندر اس کا چرچا کرنا شروع کرد و. اللہ تعالیٰ کو یہ کسی صورت پسند نہیں ہے‘اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِیۡعَ الۡفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ۙ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ (النور:۱۹’’بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ

اہل ِایمان میں بے حیائی کا چرچا ہو ‘اُن کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے‘‘.کسی کا کوئی عیب‘ کوئی گناہ یا بے حیائی کی کوئی بات آپ کے علم میں آجائے تو اس کو چھپاؤ‘ اس کا چرچا مت کرو. رسول اللہ نے فرمایا کہ جوکسی مسلمان کی سترپوشی کرے گا‘ عیب پوشی کرے گا تواللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوںمیں اس کی عیب پوشی فرمائے گا.آخر تمہارے اندر بھی تو کوئی عیب ہے نا‘بے عیب ذات تو صرف اللہ کی ہے. کون ہے جس میں کوئی خطا نہیں ہے ‘ کوئی کمی نہیں ہے؟ وہ حدیث بھی یاد کر لیجیے: کُلُّ بَنِیْ آدَمَ خَطَّائٌ وَخَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُوْنَ (۱کہ تمام بنی آدم نہایت خطاکار ہیں اور ان خطاکاروں میں بہتر وہ لوگ ہیں جو توبہ کریں‘ رجوع کریں‘ گناہ پر اصرار نہ کریں اور کسی گناہ پر ڈیرا ڈال کر بیٹھ نہ جائیں.اس کے لیے میں مثال دیا کرتا ہوں کہ اگر کہیں بارش کی وجہ سے کیچڑ بن گیا ہے‘ آپ وہاں سے گزر رہے ہیں ‘آپ کا پائوں پھسلا اور آپ (۱) سنن ابن ماجہ‘ کتاب الزھد‘ باب ذکر التوبۃ. وسنن الترمذی‘ ابواب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع. گرگئے. اب آپ وہاں پڑے تو نہیں رہتے‘ بلکہ فوراً اٹھتے ہیں اور کپڑے صاف کرکے آگے چل پڑتے ہیں.اسی طریقے سے کہیں نفس امارہ کے بہکاوے کی وجہ سے آپ سے کوئی لغزش ہو گئی یا ماحول کے اثرات کے تحت آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا تو فوراً اللہ کی جناب میں توبہ کرو. اس بارے میں سورۃ النساء میں ارشاد ہے کہ اگر فوراً توبہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے ذمے تمہاری توبہ کو قبول کرنا واجب ہے.فرمایا: اِنَّمَا التَّوۡبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوۡبُ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ (آیت ۱۷’’اللہ کے ذمے ہے توبہ قبول کرنا ایسے لوگوں کی جو کوئی بری حرکت کر بیٹھتے ہیں جہالت اور نادانی میں‘پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں‘ تو یہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرمائے گا.‘‘