نیکی کی قبولیت کے لیے ایمان شرطِ لازم!

آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات نوٹ کرلیجیے کہ کوئی کافر او رمشرک بھی بعض اوقات نیکی کا کام کرتا ہے ‘ لیکن ان کی وہ نیکی قبول نہیں ہوتی‘ اس لیے کہ نیکی کی قبولیت کے لیے مؤمن ہونا شرطِ لازم ہے ‘یعنی وہ اللہ کومانتاہو اوراللہ پر ایمان رکھتا ہو.نیکی کے حوالے سے ہمارے ’’مطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب‘‘ کے درس ۲ میں سورۃ البقرۃ کی آیت۱۷۷ موجود ہے جوتقویٰ اور نیکی کی اصل حقیقت کے حوالے سے قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے. چنانچہ اس آیت کو ’’آیۃُ البر‘‘ کا نام دیاگیا ہے.اس میں واضح طور پر فرمادیا گیا: 

لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی 
حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ … 
’’نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر دو‘بلکہ اصل نیکی اس کی ہے جو ایمان لایا اللہ پر ‘اور یومِ آخر پر‘ اور فرشتوں پر ‘اور کتابوں پر اور انبیاء پر.اور دیا اس نے مال اس کی محبت کے علی الرغم رشتے داروں کو‘اور یتیموں کو‘اور محتاجوں کو‘اور مسافرکو‘اور سائلوں کواور گردنوں کے چھڑانے میں…‘‘

اس آیت میں بہت سی نیکیوں کا تذکرہ کیا گیاہے‘لیکن اوّلین اور شرطِ لازم ایمان کو قرار دیا گیا ہے ‘اس لیے کہ درحقیقت ایمان سے نیت کا تعین ہوتا ہے کہ آپ نیکی کس لیے کر رہے ہیں. اگر تو اللہ پر ایمان ہے تو یہ نیکی اللہ کے لیے ہے اور اللہ سے اجرو ثواب حاصل کرنے کے لیے ہے ‘اور اگر ایمان نہیں ہے تو پھر ریاکاری ہو رہی ہو گی یادنیا کا کوئی اورمقصد پیش نظر ہوگا.مثلاً کسی نے عوام کی فلاح وبہبود کے لیے ایک فائونڈیشن قائم کر دی ہے اوروزیر اعظم سے اس کا افتتاح بھی کرالیاہے‘لیکن اس کے پیش نظر لوگوں کی فلاح وبہبود نہیں‘بلکہ بہت سے دوسرے فائدے اٹھانا ہے‘لہٰذانیکی کی قبولیت کا دارومدار آپ کی نیت پر ہے.

دوسری بات اس آیت میں یہ فرمائی گئی کہ نیکی کی قبولیت کے لیے آخرت کا یقین بھی ضروری ہے ‘یعنی اس نیکی کا کوئی بدلہ دنیا میں مطلوب نہ ہو‘بلکہ اس کا پورے کا پورا اجرآخرت میں مطلوب ہو.اس لیے کہ دنیا کے بدلے کے لیے کوئی بھی کام کرناکاروبار اورتجارت کے زمرے میں آتاہے جو حلال طریقے سے ہو تو جائز ہے‘حرام نہیں ہے. لیکن نیکی کے کام میںاس کا کوئی بدلہ دنیا میں اگر مطلوب ہے تو وہ نیکی نہیں رہے گی‘بلکہ نیکی کی نفی ہو جائے گی. 

بہرحال سورۃ المؤمن کی زیر مطالعہ آیت میں فرمایا گیا: وَ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ ’’اور جس نے نیکی کا کوئی کام کیا‘ خواہ وہ مرد ہو خواہ عورت اور ہووہ مؤمن ‘‘ فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ یُرۡزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۴۰﴾ ’’تو وہ لوگ ہوں گے جو جنت میں داخل کیے جائیں گے اور وہاں انہیں جو کچھ ملے گا وہ حساب کتاب سے ماورا ہو گا‘‘.یعنی نیکی کا اجر ‘دس گنا یاسات سو گنامیں مقید نہیں ہے‘بلکہ نیکی کا جواجر ان کے لیے جنت میں ہے‘اس کا تو کوئی حساب کتاب ہی نہیں ہے.