مَا جِئْتُ بِہ ٖسے کیا مراد ہے؟

اب ایک اورعلمی بات آ رہی ہے کہ زیر مطالعہ حدیث میں مَا جِئْتُ بِہٖ سے کیا مرادہے اور اس کا مصداق کیا ہے لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَـکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ ’’تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی دلی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت اور دین کے تابع نہ ہوں‘‘ اب پہلی چیز جو آپ  لائے ہیں وہ قرآن حکیم ہے جو لفظ بلفظ محفوظ ہے. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قرآن مجید کو ایک جلد میں جمع کیا گیا تھا اور اب قرآن ’’مَابَیْن الدُّفَّتَین ‘‘ ہے.یہ حقیقت ہے کہ بِسم اللّٰہ کی با سے وَالنَّاس کی سین تک یہ سب اللہ کا کلام ہے اور قطعی اور حتمی طور پر ہر طرح سے محفوظ ہے. اس کی پیروی کرنا اور اس کے احکام کو ماننا لازم ہے. البتہ واضح رہے کہ قرآن کو سمجھنے اور اس سے احکام کو مستنبط کرنے کے لیے علم کا ہونا بہت ضروری ہے ‘اس لیے کہ اس قرآن کے اندر واضح احکام کے ساتھ ساتھ کبھی بات مجازاً ہوتی ہے‘ کبھی تمثیلاً ہوتی ہے اور کبھی اشارہ وکنایہ میں. نیز قرآن کا کوئی حکم خاص ہوتا ہے‘ کوئی عام ہوتا ہے.

اس ضمن میں یہ بات بہت اہم ہے کہ اللہ کے رسول کو قرآن کے خاص کو عام کرنے یا عام کو خاص کرنے کا حق حاصل تھا. جیسا کہ آپ کو معلوم ہے‘ سورۃ النورمیں زانی مرد و عورت کے لیے سو کوڑے کی جو سزا آئی ہے وہ عام ہے : اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیۡ فَاجۡلِدُوۡا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا مِائَۃَ جَلۡدَۃٍ ۪ ’’زانی مرد اور زانیہ عورت‘ دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو‘‘ حضور نے اس سزا کو غیر شادی شدہ مرد وعورت کے لیے خاص فرمایا‘ جبکہ شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لیے رجم کی سزا مقرر فرمائی‘ جو سنت سے ثابت ہے. گویا قرآن کے خاص کو عام کر دیا . اسی طرح قرآن میں حکم آیا کہ تم دوبہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع نہیں کر سکتے وَ اَنۡ تَجۡمَعُوۡا بَیۡنَ الۡاُخۡتَیۡنِ (النسائ:۲۳حضور نے اس حکم میں توسیع فرما دی کہ پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کا بھی یہی حکم ہے کہ انہیں بھی بیک وقت نکاح میں نہیں رکھا جا سکتا. مزید برآں قرآنی احکام میں ناسخ و منسوخ کا معاملہ بھی ہے. ایک حکم پہلے نہیں آیا‘ بعد میں آ گیا. یا ایک حکم پہلے آیا‘ بعد میں تبدیل ہو گیا. شراب کی حرمت تدریجاً ہوئی ہے. جب تک آخری حکم نہیں آیا اس وقت تک لوگ پی رہے تھے‘ اس لیے کہ وہ حرام تو ہوئی ہی نہیں تھی.لہٰذا قرآنی احکام میں ناسخ و منسوخ کا معاملہ بھی دیکھنا پڑتا ہے. چنانچہ فہم قرآن کے لیے عربی زبان اور عربی گرامر کے فہم کے ساتھ ساتھ ذخیرۂ حدیث پر گہری نظر‘اور ائمہ فقہاء اور سلف صالحین کی آراء کا بھی علم ہونا چاہیے کہ اسلاف نے یہاں کیا رائے قائم کی ہے اور ان کے کیا دلائل ہیں.

اس کے علاوہ ایک دوسری چیز بھی حضوراکرم لائے ہیں اور اس کے بارے میں خود رسول اللہ نے فرمایا: اَلَا اِنِّیْ اُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَمِثْلَہٗ مَعَہٗ (۱’’آگاہ رہو کہ مجھے قرآن بھی دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک اور شے بھی دی گئی ہے‘‘. مِثْلَہٗ مَعَہٗ سے مراد سنت رسول ہے.سنت بھی گویا قرآن کے ہم پلہ ہے .یہ سمجھنا کہ سنت حجت نہیں ہے یا اس سے شرعی احکام ثابت نہیں ہوتے‘یہ درحقیقت بہت بڑی گمراہیوں میں سے ہے جو سو‘سوا سو سال سے بہت تیزی کے ساتھ ہمارے معاشرے کے اندر پھیلی ہے جب سے مغرب کے علوم‘خاص طورپر سائنس اور فلسفہ وغیرہ ہمارے ہاں آئے ہیں اور غیروں کے تہذیب و تمدن نے ہمارے اندررواج پایا ہے.چنانچہ حدیث کا استخفاف بر عظیم پاک و ہند میں بہت عروج پر ہے‘ چاہے وہ علامہ مشرقی کی صورت میں ہو‘یا غلام احمد پرویز‘علامہ عبداللہ چکڑالوی یا اسلم جیراج پوری کی صورت میں. یہ لوگ جو ماڈرنسٹ کہلاتے ہیں‘ سنت کی حجیت کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں‘ حالانکہ رسول اللہ کا واضح فرمان ہے کہ قرآن کے ساتھ اس جیسی ہی ایک اورشے اللہ نے مجھے دی ہے. اس پہلو سے قرآن مجید کے ساتھ سنت کا اتباع بھی لازم ہے.