شرک اور اقسامِ شرک

اب غور کیجیے کہ اس حدیث کے اندرگناہوں کی مغفرت کے لیے اللہ عزوجل نے کتنی شرطیںرکھی ہیں:(۱) اگر تم مجھے پکارتے رہے‘(۲) مجھ سے امید واثق رکھی‘ (۳)مجھ سے مغفرت چاہی‘ اور (۴) میرے ساتھ شرک نہ کیا ‘تو میں تمہارے سب گناہ بخش دوں گا.اس آخری شرط کے حوالے سے جان لیں کہ ’’ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں‘‘ کے مصداق یہ شرط بنیادی اور لازمی ہے .اس سے آپ کو اندازہ ہو جاناچاہیے کہ شرک درحقیقت کتنا عظیم گناہ ہے‘ لیکن اس کی حقیقت کو سمجھنا آسان کام نہیں ہے.؏ ’’ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں‘‘ کے مصداق آپ نے بت سامنے رکھ کر نہیں پوجا‘لیکن اپنی خواہش نفس کو پوج لیا تو یہ بھی شرک ہے. پچھلی نشست میں ہم یہ آیات پڑھ چکے ہیں: اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ (الفرقان:۴۳’’(اے نبی !) آپ نے غورکیا اس شخص کے حال پر جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے!‘‘ کوئی بت خانہ نہیں ہے‘لیکن اندر کا بت خانہ آباد ہے.لہٰذا شرک کی اقسام کیا ہیں اور شرک کی حقیقت کیا ہے‘اس کا جاننا بہت ضروری ہے. ہمارے ہاں شرک اور توحید کی بحثوں کو بعض خاص نکات پر مرکوز کر دیا جاتا ہے مثلاًنور وبشر کا مسئلہ ‘ علم غیب کا مسئلہ ‘ قبر پرستی کا مسئلہ .ٹھیک ہے یہ چیزیں بھی اپنی جگہ پر اہم ہیں ‘لیکن جس نے آج کے دور کے شرک کو نہ پہچانا تو وہ تباہی کے دہانے پر ہے.

ہمارے پچھلے علماء نے شرک کی جو اقسام بیان کی ہیں‘ وہ ان کے اپنے زمانے کے اعتبار سے تھیں.آج وہ شرک بھی ہو رہے ہیں. قبر پرستی بھی ہو رہی ہے‘اولیاء پرستی بھی ہو رہی ہیں ‘ سب کچھ ہورہا ہے ‘لیکن آج کا اصل شرک انفرادی سطح پر نفس پرستی اور دولت پرستی ہے‘جبکہ اجتماعی سطح پر حاکمیت انسانی آج کے دور کا سب سے بڑا شرک ہے.اس لیے کہ حاکم تو اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں اور تم نے انسانوں کو حاکم بنا دیا. کبھی حاکم ایک ہوتا تھا نمرود یا فرعون کی شکل میں‘ جبکہ آج جمہوریت میں تمام انسانوں کو نمرودبنا دیاگیا ہے. گویاوہ نجاست جو ٹنوں کے حساب سے ایک شخص کے سر پر رکھی ہوئی تھی‘ اسے جمہوریت میں ماشہ ماشہ سب عوام کو بانٹ دیاگیا.اب نجاست تو نجاست ہی رہے گی‘چاہے وہ تولہ ہو ‘ماشہ ہو ‘یا ٹن کے حساب سے ہو .پھر آج کے دور کا ایک بہت بڑا شرک مادہ پرستی (Materialism) بھی ہے کہ سارا توکل ‘ سارا اعتماد مادی وسائل پر ہے. اسی طرح وطن پرستی بھی شرک کے زمرے میں آتا ہے کہ اس دورِ جدید میں وطن کو ہی معبود بنا لیا گیا. علامہ اقبال نے اسے دورِ حاضر کا سب سے بڑا ’’بت ‘‘ قرار دیا ہے : ؎

اس دور میں مے اور ہے‘ جام اور ہے ‘ جم اور
ساقی نے بنا کی روشِ لطف و ستم اور
تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے‘ وہ مذہب کا کفن ہے

چنانچہ فرمایا: ؎

ب
ازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے
نظارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے!

’’جئے ہند‘‘ کیا ہے؟ یہی کہ وطن معبود ہے‘ محبوب ہے!آج قوم کی شیرازہ بندی وطن کی بنیاد پر ہو رہی ہے‘حالانکہ قوم کی شیرازہ بندی ایمان کی بنیاد پرہونی چاہیے. اقبال نے کہا تھا: ؎

نہ افغانیم و نے ترک و تتاریم
چمن زادیم و از یک شاخساریم
تمیز رنگ و بو بر ما حرام است
کہ ما پروردۂ یک نو بہاریم!

یعنی ہم افغان‘ ترک اور تاتاری نہیں ہیں‘بلکہ ہم تو چمنستانِ اسلام کے شگوفے اور ایک شاخِ ایمان کے پھول ہیں.ان پھولوں کے مابین رنگ و بو کی تمیز ہم پر حرام ہے‘ کہ ہمیں تو ایک ہی نئی بہار نے پروان چڑھایاہے. لہٰذا شرک کی حقیقت اورشرک کی اقسام شرک فی الذات‘ شرک فی الصفات‘ شرک فی الحقوق‘ شرک فی العبادت ‘ شرک فی الدعاء کو سمجھنا بہت ضروری ہے تاکہ شرک سے بچا جاسکے.

شرک کے موضوع پر میرے بہت سے خطابات ہیں اوراس اُمت کے لیے میرے بڑے ابتدائی تحفوںمیں سے ایک ’’حقیقت و اقسامِ شرک ‘‘کے عنوان سے میری چھ گھنٹے کی تقریریں تھیں جو مسجد دارالسلام میں ہوئیں.چھ گھنٹے کی ان تقاریر کو پہلے صفحہ قرطاس پراتار کر مرتب کیا گیا‘ پھرقسط وار ماہنامہ میثاق میں شائع کیا گیا اور اب انہیں کتابی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ ہے. ٭ شرک کی حقیقت اور آج کے دور میں شرک کی اقسام کو سمجھنے کے لیے ان کا مطالعہ بہت مفید ہوگا.شرک کی حقیقت اور اقسام کو سمجھنا اس لیے ضرور ی ہے کہ شرک وہ شے ہے جو معاف نہیں ہو گی.