حضرات! چند سال قبل سے مجھے احباب و رفقاء کے شدید تقاضے پر متعدد نکاح پڑھانے کا اتفاق ہوا. میرا شروع ہی سے یہ معمول رہا کہ خطبۂ نکاح کی غرض و غایت اور حکمت میں مَیں تقریر ضرور کیا کرتا تھا‘ جس میں ان آیات و احادیث کی تشریح بھی ہوتی جو نکاح کے خطبۂ مسنونہ میں پڑھی جاتی ہیں. ساتھ ہی مروّجہ رسومات پر بھی تنقید ہوتی اور اصلاح کے لیے کچھ مشوروں اور نصیحتوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا. نومبر ۱۹۷۳ء میں اپنے چھوٹے بھائی ڈاکٹر ابصار احمد سلمہٗ کی شادی کے موقع پر میں نے طے کیا کہ جن اصلاحات کی طرف میں لوگوں کو متوجہ کراتا ہوں ان پر خود عمل کر کے دکھاؤں‘ ورنہ ان باتوں کا کہنا چھوڑ دینا چاہیے. بقول علامہ اقبال مرحوم ؏ یا سراپا نالہ بن جا‘ یانوا پیدا نہ کر! چنانچہ پنجاب میں شاید یہ پہلی شادی تھی جو ٹھیٹھ سنت نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے مطابق انجام پائی. نکاح مسجد میں منعقد ہوا اور ان تمام رسومات سے اجتناب کیا گیا جو غیر اسلامی ہی نہیں بلکہ خالص ہندوانہ ہیں.

میں نے ۱۹۷۳ء کے اواخر ہی میں میثاق میں لکھا تھا کہ کراچی میں بعض تجارت پیشہ برادریوں میں نکاح کی مجالس کے مساجد میں انعقاد کا معمول کافی عرصہ سے جاری ہے. تعجب کی بات ہے کہ کراچی سے جس برائی کا آغاز ہو ‘ا سے لاہور یا پنجاب کے دوردراز گوشوں تک پہنچنے میں کوئی دیر نہیں لگتی ‘لیکن ایک بھلا کام جو وہاں عرصے سے ہو 
رہا ہے‘ اس کے بارے میں یہاں تاحال سوچا بھی نہیں گیا. چنانچہ میں نے اپنے بھائی کا نکاح مسجد میں منعقد کر کے اور تمام غیراسلامی رسوم سے اجتناب کر کے اصلاحی کام کا آغاز کر دیا ہے. نیز میں نے اس کے ساتھ ہی ’’میثاق‘‘ میں اپنے ان فیصلوں کا بھی اعلان کر دیا کہ میں آئندہ سے:

ا) کسی بارات میں شرکت نہیں کروں گا ‘کیونکہ میرے محدود مطالعہ کی حد تک بارات کا رائج الوقت طریقہ خالص ہندوانہ تصورات پر مبنی ہے.

ب) نکاح کے موقع پر کسی دعوت طعام میں شامل نہیں ہوں گا ‘کیونکہ خیرالقرون سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا. شادی کے ضمن میں لڑکے والوں کی طرف سے دعوتِ ولیمہ مسنون ہے‘ جس کا نہ صرف ثبوت نبی اکرم کا تاکیدی حکم بھی ملتا ہے.

ج) نکاح کی کسی ایسی تقریب میں شرکت نہیں کروں گا جو مسجد میں منعقد نہ ہو.

الحمد للّٰہ والمنۃ! میں اپنے ان فیصلوں پر کاربند ہوں. (۱میں آپ حضرات کو مخلصانہ مشورہ دوں گا کہ صرف نکاح کے مسجد میں انعقاد پر اکتفا نہ کیجیے‘ بلکہ معاشرے سے شادی بیاہ کی ان تمام رسومات کو ختم کرنے کی کوشش کیجیے جن کا اسلام سے سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جن کا طومار اور بوجھ ہم نے خود اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے. شادی بیاہ کی ان تمام رسوم کا‘ جن کا ہمارے ہاں رواج ہے‘ جب بھی منصفانہ جائزہ لیا جائے گا تو معلوم ہو گا کہ ان کی اصل ہندوانہ رسم و رواج ہیں. اللہ تعالیٰ نے تو قرآن حکیم اور اسوۂ رسولؐ کے ذریعے ہمارے کاندھوں پر سے بوجھ اتارے ہیں. جیسا کہ سورۃ الاعراف کی آیت ۱۵۷ میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَ یَضَعُ عَنۡہُمۡ اِصۡرَہُمۡ وَ الۡاَغۡلٰلَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ ’’اور (ہمارا یہ نبی اُمیؐ ) 

(۱) نومبر۱۹۷۸ء میں ڈاکٹر صاحب موصوف کی پہلی بچی کی شادی ہوئی . موصوف نے اپنی بچی کو نہ خود زیادہ جہیز دیا اور نہ ہی اعزہ و اقارب اور احباب کی جانب سے دیے ہوئے تحائف قبول کیے اور نکاح کے بعد بچی کو مسجد ہی سے رخصت کر دیا. ان کے ہاں مہمانداری کی کسی نوع کی بھی کوئی تقریب نہیں ہوئی. (ج ر) لوگوں پر سے وہ بوجھ اُتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے!‘‘ پس نبی اکرم کا احسانِ عظیم یہ ہے کہ آپؐ نے دین کو آسان سے آسان بنایا ہے. آپؐ نے ہدایت دی کہ یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا (متفق علیہ) ’’ آسانیاں پیدا کرو‘ مشکلات پیدا نہ کرو‘‘ . لیکن ہم ہیں کہ مشکل پسند بن گئے ہیں. ہم نے شادی بیاہ کی تقریب میں لاتعداد اضافی رسوم کو اختیار کر رکھا ہے‘ جس سے شادی ایک بے انتہا گراں مسئلہ بن گیا ہے. وجہ اس کی یہ ہے کہ توارث اور برادریوں کے تعامل سے جو ہندوانہ رسوم ہمارے ہاں جاری ہیں ان کو چھوڑنے کے لیے ہم تیار نہیں.

ہندوستان میں جن برادریوں اور خاندانوں نے اسلام قبول کیا وہ اپنے ساتھ اپنی رسوم بھی لائے اور ان کو چھوڑنے کے بجائے ان کے نام بدل دیے اور ان کو جاری رکھا اور اب تک جاری رکھے ہوئے ہیں. سننے میں آیا ہے ‘اور میں نہیں کہہ سکتا کہ اس بات میں کہاں تک حقیقت ہے کہ قیام پاکستان سے قبل میو قوم میں میوات کے بعض علاقوں میں نکاح کے موقع پر مولوی صاحب آ کر نکاح بھی پڑھاتے تھے اور پھر پنڈت جی آ کر پھیرے بھی ڈلواتے تھے‘ تاکہ پکا کام ہو جائے. آخر نسلاً بعد نسل جو چیز دلوں میں بیٹھی ہوئی تھی تو اس وجہ سے ان کا اطمینان نہیں ہوتا تھا کہ صرف دو بول کہنے سے بندھن بندھ گیا. اسی لیے وہ دولہا دلہن کے کپڑوں میں گرہ لگا کر اگنی کے سات پھیرے بھی لگواتے تھے اور اس طرح ان کو اطمینان ہوتا تھا کہ اب معاملہ مضبوط ہو گیا ہے. 
اس بات پر تو آپ لازماً مسکرائیں گے یا اسے بہت ہی بعید از قیاس گمان کریں گے ‘لیکن جائزہ لیجیے کہ بعینہٖ یہی حال ہمارا ہے. نکاح حضور کے طریقے پر ہو‘ لیکن بارات کا طومار ہے‘ جہیز کا انبار ہے‘ رسومات ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر. جو لوگ صاحب ثروت ہیں‘ وہ اپنی دولت و ثروت اور امارت کے اظہار کے لیے پرانی رسموں ہی پر اکتفا نہیں کرتے‘ بلکہ نئی نئی رسوم اور بدعات ایجاد کرتے رہتے ہیں. اس معاملہ میں ان کا ذہن بڑا زرخیز ثابت ہوتا ہے‘ حالانکہ ان تمام رسومات کی نبی اکرم کی سنت 
اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تعامل میں کوئی بنیاد نہیں. کراچی کی بعض برادریوں نے چند اصلاحی اقدامات کیے ہیں. مجھے یہ عرض کرنے پر معاف کیا جائے کہ ان اصلاحی اقدامات کا اصل محرک دین کی تعلیمات پر عمل کرنے کے جذبے سے زیادہ معاشرتی مجبوریاں تھیں‘ جن کی بنیاد پر فیصلے کیے گئے کہ نکاح مسجد میں ہو اور بارات کا تصور ختم کر دیا جائے ‘لڑکی والے کے ہاں دعوت نہ ہو‘ وغیرہ. لیکن مجھے معلوم ہوا ہے کہ چور دروازے کھلے ہوئے ہیں. بیٹی والا مہندی کی دعوت اور استقبالیہ وغیرہ کے نام سے اب تک پرانی رسوم کوز ندہ کیے ہوئے ہے. رسم پرستی کا جو بُت دل کے سنگھاسن پر براجمان ہے وہ اپنی اطاعت ضرور کرائے گا اور اسی کا کسی طرح ظہور ضرور ہو گا.

پھر دوسری رسمیں بھی جوں کی توں باقی ہیں‘ بلکہ ان میں کچھ اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے. حالانکہ ہمارے دین نے صرف دعوتِ ولیمہ کی تاکید کی ہے. نبی اکرم‘ نے فرمایا کہ ولیمہ ضرور کیا کرو ‘اور جس کو ولیمہ میں بلایا جائے وہ اس میں ضرور جائے. اس کی حکمت پر آپ جب غور کریں گے تو خود اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ شادی لڑکے والوں کے لیے ہی اصلاً خوشی کا موقع ہوتاہے. ایک نئے خاندان کی تاسیس ہو رہی ہوتی ہے. لڑکی والوں کے لیے بلاشبہ اس لحاظ سے تو خوشی کا مقام ہے کہ وہ بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہو رہے ہیں‘ لیکن نگاہِ حقیقت بین سے دیکھئے تو بیٹی والوں کے لیے تو یہ بڑی آزمائش کا وقت ہوتا ہے. بچی کوپالا پوسا‘ اس کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا اور پھر جوان ہونے پر دوسرے خاندان کے حوالے کر دیا. ہزار دیکھ بھال لیا ہو‘ معلومات کر لی ہوں‘ اطمینان کر لیا ہو‘ لیکن یہ اندیشے پھر بھی لاحق رہتے ہیں اور یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نہ معلوم آگے کیا ہو گا! مزاج ملیں گے یا نہیں‘ موافقت ہو گی یا نہیں‘ پتہ نہیں سسرال والوں کا سلوک کیسا ہو گا؟ وغیرہ وغیرہ. یہی وجہ ہے کہ اکثر بچی کی رخصتی کے وقت ماں کی ہچکیاں لگی ہوتی ہیں‘ بہنیں پچھاڑے کھا رہی ہوتی ہیں اور باپ اور بھائیوں کی آنکھیں آنسوؤں سے نم ہوتی ہیں.

میں کہا کرتا ہوں کہ بیٹی والوں کا ایثار دیکھو کہ وہ اپنے لخت جگر کو دوسروں کے حوالے کر رہے ہیں ‘لیکن پھر بھی بیٹے والوں کا دل نہیں بھرتا اور رسومات کے نام پر اُن کے مطالبات کی فہرست کا کوئی ٹھکانا ہی نہیں. جہیز ویسے ہی ہندوانہ رسم ہے‘ لیکن پہلے یہ ہمارے ہاں عام گھریلو استعمال کی اشیاء تک محدود رہتا تھا‘ لیکن اب تو بیٹے والوں کو فریج بھی چاہیے‘ ٹیلی ویژن بھی اور کار بھی! میں نے سنا ہے کہ مکان اور فلیٹ کا بھی مطالبہ ہوتا ہے. خدارا غور کیجیے کہ جس بچی کے باپ کے پاس یہ سب مطالبات پورے کرنے کے وسائل و ذرائع نہ ہوں اور پھر اس کی ایک نہیں اور بھی بچیاں ہوں تو وہ کیاکرے‘ کہاں جائے‘ اپنی سفید پوشی کا بھرم کیسے قائم رکھے اور اپنی جوان بیٹیوں کوکیسے بیاہے!!

وقت کی اہم ضرورت ہے کہ رسومات کا جو بُت دلوں میں چھپا بیٹھا ہے اس کو پوری طرح مسمار کیا جائے .اس لیے میں آپ حضرات سے عرض کروں گا کہ اس بات پر غور کریں کہ ہمارے سامنے شادی بیاہ کے لیے اصل معیار کیا ہے؟ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے اصل معیار صرف یہ ہے کہ کیا چیز نبی اکرم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے. مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ کا مفہوم یہ بھی ہے کہ جو چیزنبی اکرم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے‘ وہ سر آنکھوں پر اور جو چیز ثابت نہیں اس کو پاؤں تلے روندنے کے بجائے اگر ہم نے بسر و چشم قبول کیا تو اچھی طرح جان لیجیے کہ دین کے ساتھ ہمارا تعلق مخلصانہ نہیں‘ اور ہمیں اس تعلق کو درست کرنے کی فکر کرنی چاہیے! 

اَقُوْلُ قَوْلِیْ ھٰذَا وَاسْتَغْفِرُ اللّٰہَ لِیْ وَلَکُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ
اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنَا رُشْدَنَا وَاَعِذْنَا مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا‘ اَللّٰہُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَہٗ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَہٗ… آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ!