(4) اتباعِ قرآن مجید

اب اس کے بعد نبی اکرم سے ہمارے صحیح تعلق کی چوتھی بنیاد کا ذکر ہے اور وہ ہے نورِ قرآن مجید کو حرزِ جان بنانا‘ اسے اپنا راہنما قرار دینا اور اس کا اتباع کرنا. فرمایا: وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْ اُنْزِلَ مَعَہٗ ’’ اور اتباع کیا اُس نور کا جو اُن ( ) کے ساتھ (یا ان پر) نازل کیاگیا.‘‘ یہاں نور سے مراد قرآن ہے‘ یہ وہ نورِ ہدایت ہے جو نبی اکرم پر نازل ہوا‘ اس کا اتباع لازم ہے. غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جو تین اصطلاحات پہلے بیان ہو چکیں ‘یعنی ’’اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ‘‘ تو وہ انتہائی جامع تھیں. اب اس چوتھی بات کا اضافہ کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے کہ ’’وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْ اُنْزِلَ مَعَہٗ!‘‘ یہ اس لیے ضروری تھا کہ نبی اکرم بہرحال اس دنیا سے تشریف لے جانے والے تھے. ایک معین مدت تک کے لیے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آنحضور کے وجودِ قدسی کی معیت اور صحبت حاصل رہنی تھی. آنحضور کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ابد الآباد تک کے لیے جس چیز کو محمدٌ رسول اللہ کا جانشین اور قائم مقام بننا تھا وہ یہی قرآن مجید ہے‘ جو فرقانِ حمید بھی ہے اور کتابِ مبین بھی. یہ اللہ کا وہ کلام ہے جو محمدٌ رسول اللہ پر نازل کیا گیا‘ گویا آپ کے ساتھ اُترا. اور یہ وہ نور ہے جو دائم و قائم ہے. بقول اقبال: ؎

مثلِ حق پنہاں و ہم پیداست ایں زندہ و پائندہ و گویاست ایں!

چنانچہ حجۃ الوداع کے خطبہ میں حضور نے جو آخری بات فرمائی وہ اسی قرآن مجید کے بارے میں تھی. مسلم شریف کی روایت میں خطبہ حجۃ الوداع کے اختتامی اور آخری الفاظ یہ ہیں:

وَقَدْ تَرَکْتُ فِیْکُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَہٗ اِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِہٖ کِتَابُ اللّٰہِ (۱)
’’اور میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں جس کا سر رشتہ اگر تم مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے‘ وہ چیز ہے کتاب اللہ‘‘.

نبی اکرم کے اس ارشادِ گرامی کے بارے میں گفتگو سے قبل مناسب ہو گا کہ ہم اس ارشاد گرامی کا موقع اور محل اچھی طرح سمجھ لیں. ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حجۃ‘الوداع کے موقع پر نبی اکرم نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ آپؐ :کشمکشِ حیات کی آخری منزلیں طے فرما رہے ہیں. اس احساس کا اظہار پورے خطبے میں موجود ہے‘ بلکہ خطبے کے آغاز ہی میں آپؐ نے ارشاد فرمایا:

اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ وَاللّٰہِ لَا اَدْرِیْ لَعَلِّیْ لَا اَلْقَاکُمْ بَعْدَ یَوْمِیْ ھٰذَا بِمَکَانِیْ ھٰذَا‘ فَرَحِمَ اللّٰہُ مَنْ سَمِعَ مَقَالَتِی الْیَوْمَ فَوَعَاھَا… (۲)
’’لوگو! اللہ کی قسم‘ میں نہیں جانتا‘ شاید آج کے بعد میں تم سے اس مقام پر دوبارہ نہ مل سکوں. پس اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے آج میری باتوں کوسنا (۱) صحیح مسلم‘ کتاب الحج‘ باب حجۃ النبی .

(۲) سنن الدارمی ‘ المقدمۃ‘ باب الاقتداء بالعلماء. 
اور ان کو یاد رکھا…‘‘

چنانچہ اس خطبہ میں آنحضور کے ارشادات کا انداز وصیت کا سا ہے‘ یعنی اُمت کو ان اُمور کی تاکید و تلقین جن کی دین و شریعت میں اساسی حیثیت ہے. خطبے کے آخری حصے میں آپنے یہ بات تاکیداً ارشاد فرمائی کہ میرے بعد قرآن کو تھامنا‘ اسے حرزِ جان بنانا‘ اس کے دامن سے وابستہ رہنا اور ہرگز یہ خیال نہ کرنا کہ میں تم کو بے یار و مددگار چھوڑ کر جا رہا ہوں. تمہاری ہدایت اور رہنمائی کے لیے میں اپنے پیچھے اللہ کی کتاب چھوڑے جا رہا ہوں‘ اللہ کا نازل کردہ وہ نور چھوڑے جا رہا ہوں جو تمہیں کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال کر توحید کے صراطِ مستقیم کی طرف لے جائے گا. اگر تم اس قرآن کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے.