سانحۂ کربلا

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ 
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ … بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙالَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿۱۵۶﴾ؕاُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ رَحۡمَۃٌ ۟ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾ 
(البقرۃ:۱۵۳ تا ۱۵۷)… صَدَقَ اللہُ الْعَظیمْ 

ان آیات کی تلاوت اور ادعیۂ مسنونہ کے بعد ڈاکٹر صاحب موصوف نے فرمایا :
’’حضرات! دو دن بعد محرم الحرام ۱۴۰۲ھ کی دس تاریخ ہو گی جو ’’یومِ عاشوراء‘‘ کہلاتا ہے. یقینا یہ بات آپ کے علم میں ہو گی کہ ۱۰ محرم الحرام سن ۶۱ ہجری کو ایک نہایت افسوس ناک حادثہ دشتِ کربلا میں پیش آیا تھا‘ جس میں سبطِ رسولؐ سیدنا حضرت حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور آپ کے خانوادے کے اکثر افراد نیز آپؓ کے اعوان و انصار کی کثیر تعداد نے جامِ شہادت نوش فرمایا تھا. اس حادثہ کے متعلق یہ بات اچھی طرح سمجھ لی جانی چاہئے کہ یہ اچانک ظہور پذیر ہونے والا حادثہ نہیں تھا بلکہ درحقیقت اسی سبائی سازش کا ایک مظہر تھا جو پورے پچیس سال قبل اس سے بھی کہیں زیادہ افسوس ناک حادثے کو جنم دے چکی تھی‘ یعنی نبی اکرم کے دوہرے داماد اور تیسرے خلیفۂ راشد حضرت عثمان ذوالنورین ؓ کی مظلومانہ شہادت.حضرت عثمانؓ کی شہادت کا سانحہ۱۸ذی الحجہ ۳۶ھ کو پیش آیا تھا اور ۱۶اکتوبر۱۹۸۱ء (۱۷ذی الحجہ۱۴۰۱ھ) کے جمعہ کے اجتماع میں‘ مَیں نے حضرت عثمان ص:کی سیرت اور ان کی شہادت کے تاریخی پس منظر پر کچھ گفتگو کی تھی(۱جس پر زیادہ دن نہیں گزرے .لہٰذا مجھے آج سہولت محسوس ہو رہی ہے کہ واقعۂ کربلا کے بیان کے ضمن میں ‘ مَیں اپنی گفتگو کا تسلسل اسی کے ساتھ جوڑ سکتا ہوں.

اوّلاً ذہن میں یہ بات تازہ کر لیجئے کہ حق و باطل کی جو کشمکش ازل سے چلی آ رہی ہے‘ بقول علامہ اقبال ؎ 
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی 

اس کے ضمن میں ہمیں تاریخ کا کچھ ایسا نقشہ نظر آتا ہے کہ زیادہ تر غلبہ باطل کا رہا. حق کے غلبے کے ادوار بڑے مختصر رہے. یہ بھی ایک حقیقت ِکبریٰ ہے کہ جب کبھی حق کا غلبہ ہوا ہے تو باطل نے اسے اپنی آخری شکست تسلیم نہیں کیا بلکہ ایسے مواقع پر وہ وقتی طور پر دبک جاتا رہا ہے. اس نے منافقانہ طور پر حق کا لبادہ اوڑھ لیا یا وہ وقتی طور پر زیرِ زمین چلا گیا . چنانچہ وہ اندر ہی اندر اپنی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جاری رکھتا ہے اور ایسے موقع کی تاک میں رہتا ہے جب وہ حامیانِ حق کے درمیان کوئی شدید اختلاف و انتشار پیدا کر کے اپنے لیے راستہ بنا سکے اور حق کے خلاف کھڑا ہو سکے.

چنانچہ جب نبی اکرم: نے تاریخ کا عظیم ترین معجزہ دنیا کودکھادیا یعنی 
جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ کا نقشہ بالفعل قافلۂ انسانیت کو چشمِ سر سے دیکھنے کا موقع فراہم فرما دیا اور ایک وسیع و عریض خطۂ زمین پر حق کو بالفعل قائم و نافذ فرما کر رہتی دنیا تک کے لیے ایک کامل نمونہ پیش فرما دیاتو حق غالب اور باطل سرنگوں ہو گیا لیکن باطل نے انقلابِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے آخری مرحلے میں وہی روش اختیار کی کہ وقتی طور پر شکست تسلیم کر کے وہ اس انتظار میں رہا کہ موقع آئے تو میں وار کروں اور (۱) اس خاص موضوع پر ڈاکٹر صاحب موصوف کا پُرتاثیر خطاب ’’شہید مظلوم‘‘ کے نام سے مطبوعہ موجود ہے. (مرتب) کاری وار کروں.

 چنانچہ آنحضور کے انتقال کے فوراً بعد فتنوں کا ہجوم اٹھ کھڑا ہوا. کئی کاذب مدعیانِ نبوت میدان میں آگئے اور ان کے ساتھ کافی جمعیت ہو گئی. پھر مانعین و منکرینِ زکوٰۃ سے سابقہ پیش آیا اور اہلِ ایمان کو بیک وقت ایسے ایسے عظیم فتنوں سے نبرد آزما ہونا پڑا کہ وقتی طور پر تو محسوس ہوتا تھا کہ حق کا چراغ اب بجھا کہ بجھا! یہ درحقیقت وہ انقلاب دشمن قوتیں (Counter-Revolutionary Forces) تھیں جن سے عہدہ برآ ہونے کے لیے واقعتا صدیق ہی نہیں بلکہ صدیق اکبر کی شخصیت درکار تھی‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ. صدیق دراصل نبی کا عکس کامل ہوتا ہے.چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ثابت کر دیا کہ جس انقلاب کی تکمیل نبی اکرم نے بنفس نفیس فرمائی تھی اس کے خلاف آپؐ ‘کی وفات کے بعد جو ردّعمل ظاہر ہوا‘اس کی سرکوبی کرنے کی پوری صلاحیت اور عزیمت اور آہنی قوتِ ارادی ان کے نحیف و نزار جسم میں موجود تھی. حضرت ابوبکر ؓ نے نبی اکرم کے انقلاب کو مستحکم (Consolidate) کیا اورزمامِ کار حضرت عمر فاروق ؓ کے حوالے کر کے وہ بھی اپنے مالک حقیقی کی طرف مراجعت فرماگئے.

حضرت عمر فاروق ؓ کا دورِ خلافت ‘ اور جیسا کہ میں حضرت عثمان ؓ کی شہادت والی تقریر میں عرض کر چکا ہوں کہ حضرت ذوالنورینؓ کے بارہ سالہ دورِ خلافت میں سے بھی کم و بیش دس سال بالکل دورِ فاروقی ہی کی شان کے حامل تھے ‘لہٰذا ان کو بھی شامل کر لیجئے تو یہ بیس سال اسلام کے استحکام اور اس کی توسیع کے سال ہیں. انقلابِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے زیرِ نگیں عراق و شام و فارس (ایران) کے پورے کے پورے ملک اور شمالی افریقہ کا مصر سے مراکش تک کا وسیع علاقہ آ گیا اور اس پر اسلام کا جھنڈا لہرانے لگا اور اللہ کا دین غالب و نافذ ہو گیا. اب ظاہر بات ہے کہ اس کے خلاف بھی ایک ردّعمل ہونا تھا. یہ جو 
Historical Process ہے‘ اس کے کچھ غیر متبدل اصول ہیں. آپ کے علم میں ہے کہ جس انقلاب کی تکمیل اندرونِ عرب نبی اکرم‘ نے بنفس نفیس فرمائی‘ اس کے ردّعمل میں مخالفانہ تحریکیں (Reactionary Movements) اٹھ کھڑی ہوئیں تو توسیع کا جو مرحلہ آپؐ کے جاں نثاروں کے ہاتھوں انجام پایا‘ اس کا ردّعمل کیوں نہ ہوتا! چنانچہ باطل نے پہلا وار کیا حضرت عمر فاروق ؓ کی ذات پر.باطل پرست یہ سمجھتے تھے کہ شاید یہ پوری عمارت اسی ایک ستون پر کھڑی ہے‘ اس کو گرا دو توعمارت زمین بوس ہو جائے گی. الحمد للہ کہ ان کی توقع غلط ثابت ہوئی اور عمارت برقرار رہی. یہ خالص ایرانی سازش تھی. ابولؤلو ٔفیروز پارسی ایرانی غلام اور اس کی پشت پر ہرمز ان ایک ایرانی جرنیل تھا. 

اس سازش کی ناکامی کے بعد جو دوسرا وار ہوا ‘وہ بہت کاری وارتھا. اس میں یہود کی عیاری اور کیادی شامل تھی. ان کا سازشی ذہن اور اس میں مہارت ضرب المثل بن چکی ہے. عبد اللہ بن سباء یمن کا ایک یہودی اٹھتا ہے‘ اسلام کا لبادہ اوڑھتا ہے ‘ مدینہ منورہ میں آ کر قیام کرتا ہے اور نئے نئے شگوفے چھوڑنے شروع کر دیتا ہے. کہیں محبت ِآلِ رسولؐ کے پردے میں حضرت عثمان ؓ کی خلافت کے متعلق وسوسہ اندازی کرتا ہے اور حضرت علی ؓ کے استحقاقِ خلافت کا پروپیگنڈا کرتا ہے .وہ کہتا ہے کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے اور وہی خلافت کا حق دار ہوتا ہے‘ تو اصل میں حضور کے وصی حضرت علیؓ ہیں لہٰذا خلافت کے حق دار وہ ہیں. ان کی بجائے جو بھی مسند ِخلافت پر فائز ہوا یا اب ہے ‘ وہ غاصب ہے. کہیں حضرت علیؓ کی الوہیت کے عقیدے کا پرچار کرتا ہے جس سے اسلام کی جڑ’’ توحید‘‘‘ پر کاری ضرب لگتی ہے. ایرانی نو مسلم جن کی گھٹی میں نسلاً بعد نسلٍ شاہ پرستی اور 
Hero Worship پڑی ہوئی تھی اور جو نسب کی بنیاد پر اقتدار کی منتقلی کے خوگر تھے ‘ ان پر اس کا کتنا گہرا اثر ہوا ہوگا! کہیں بظاہر آنحضور کی عظمت بیان کرنے کے لیے یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ جب حضرت مسیح ؑ کا نزولِ ثانی ہو گا تو ہمارے رسولؐ جو افضل الانبیاء ہیں ‘ وہ بھی دوبارہ واپس تشریف لائیں گے اب دیکھئے کہ غیر عرب نو مسلم خوش عقیدہ لوگوں کے دلوں کو یہ بات کتنی بھانے والی ہے کہ اس طرح آنحضور کی عظمت کا بیان ہو رہا ہے.

 یہی حربہ ہے جو اس دور میں قادیانیوں نے استعمال کیا. حضرت مسیح ؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے اور ان کے نزول کے عقیدے کی نفی کرنے کے لیے انہوں نے اسی دلیل کا رخ اس طرف رکھا کہ اس طرح تو ہمارے رسولؐ ‘ کی عظمت مجروح ہو گی‘ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے نبیؐ تو فوت ہو گئے ہوں اور حضرت مسیح ؑ آسمان پر زندہ موجود ہوں اور دوبارہ تشریف لائیں! گویا اصل بات یہی ہے کہ عوام الناس کی اکثریت عقیدت کی بنیاد پر اس قسم کے مغالطوں میں مبتلا ہو جاتی ہے. ان باتوں نے سادہ لوح لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں گھر کرنا شروع کر دیا. یہ شخص مدینہ سے بصرہ گیا‘ وہاں بھی اس نے اپنا ایک مرکز قائم کیا. پھر کوفہ گیا‘ وہاں اس نے اپنا ایک مرکز قائم کیا. دِمشق جا کر وہاں کوشش کی لیکن وہاں دال نہ گلی.پھر مصر گیا ‘وہاں اپنے ہم خیالوں کی ایک جماعت پیدا کی .

یوں ہر طرف اس نے ایک فتنہ و فساد کی فضا پیدا کر دی اور حضرت عثمان ؓ کے دورِ خلافت کے آخری دو سال اس فتنہ و فساد کی نذر ہو گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امامِ مظلوم حضرت عثمان ؓ کی شہادت ہوئی جو تاریخ انسانی کی عظیم ترین مظلومانہ شہادت ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ وہ اس وقت عظیم ترین مملکت کے فرماں روا تھے‘ لاکھوں کی تعداد میں فوجیں موجود تھیں جو ان کے اشارے پر کٹ مرنے کے لیے تیار تھیں‘ جب مٹھی بھر باغیوں نے اس شہید ِمظلوم ‘کامحاصرہ کر رکھا تھا تو مختلف صوبوں کے گورنروں کی طرف سے استدعا آ رہی تھی کہ ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم فوجیں لے کر حاضر ہو جائیں اور ان باغیوں کی سرکوبی کریں‘ لیکن وہ امامِ وقت یہ عزم کئے ہوئے تھے کہ میں اپنی جان کی حفاظت و مدافعت میں کسی کلمہ گو کا خون بہانے کی اجازت نہیں دوں گا. اتنی عظیم قو ت و سطوت کا حامل اور اس طرح اپنی جان دینے کے لیے آمادہ ہو جائے اور اپنی جان کی حفاظت و مدافعت میں کسی کا خون بہانے کے لیے تیار نہ ہو‘ واقعہ یہ ہے کہ پوری تاریخِ انسانی میں اس کی کوئی مثال ممکن نہیں ہے. یہ بات بھی جان لیجئے کہ ہمارے ہاں شاعری میں بے پناہ مشرکانہ اوہام موجود ہیں. غلط فکر اور عقیدوں کی ترویج میں شاعری نے بہت حصّہ لیا ہے. ایسے اشعار زبان زد ِعوام و خاص ہو جاتے ہیں جن میں غلو بھی ہوتا ہے اور غلط فکر بھی. شعراء کے متعلق قرآن حکیم نے یہ دو ٹوک بات فرما دی ہے کہ:

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الۡغَاوٗنَ ﴿۲۲۴﴾ؕاَلَمۡ تَرَ اَنَّہُمۡ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ ﴿۲۲۵﴾ۙ
’’اور شعراء کی بات تو یہ ہے کہ ان کے پیچھے تو بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں. کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں.‘‘

محتاط ترین لوگ بھی جب شاعری کی ترنگ میں آتے ہیں تو ان کی زبان و قلم سے بھی غیر محتاط اور غلط باتیں نکل جاتی ہیں. مثلاً آپ علامہ اقبال کے اس شعر پر غور کیجئے ؎

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ ابتدا ہے اسمٰعیل ؑ 

غور طلب بات یہ ہے کہ شہادت حسینؓ اور ذبح اسمٰعیل ؑ میں کون سی چیز مشترک ہے! حضرت اسمٰعیل ؑکو ذبح کرنے کے لیے آمادہ کون ہوئے؟ اللہ کے ایک جلیل القدر پیغمبر! کیا حضرت حسین ؓ کی شہادت بھی کسی ایسے ہی ایک جلیل القدر شخص کے ہاتھوں ہوئی ہے؟ معاذ اللہ‘ ثم معاذ اللہ‘ ثم معاذ اللہ. کون سی قدر مشترک ہے؟ حضرت اسمٰعیل ؑ نے تو ذبح ہونے کے لیے خود ہی اپنی گردن پیش کی تھی ‘ازروئے آیتِ قرآنی : فَلَمَّا اَسْلَمَا … ’’پس جب ان دونوں (باپ بیٹوں) نے سرِ تسلیم خم کر دیا‘‘. باپ اور بیٹے دونوں نے فرماں برداری کا بے مثال اور تاریخ ساز مظاہرہ پیش کیا‘ لہذا اس آیت میں تثنیہ کا صیغہ اَسْلَمَا آیا ہے. حضرت حسین ؓ نے دادِ شجاعت دیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا تھا. اور وہ ’’فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ‘‘ (سورۂ توبہ) ’’تووہ قتل کرتے بھی ہیں اور (کبھی) قتل ہو بھی جاتے ہیں‘‘ کے مصداقِ کامل بنے تھے. تو وہ کون سی بات ہے جو اِن دونوں واقعات کے مابین کسی پہلو سے مشترک قدر قرار دی جا سکتی ہے؟ پھر وہاں تو ارادۂ ذبح تھا‘ لیکن ذبح بالفعل ہوا نہیں. یہاں حضرت حسین ؓ بالفعل شہید کئے گئے ہیں .لہذا ان واقعات میں آپ کو کوئی قدر مشترک نہیں ملے گی. ہاں ایک واقعاتی اشتراک پیدا ہو سکتا ہے. علامہ اقبال مرحوم بقید حیات ہوتے تو ان کی خدمت میں عرض کرتا کہ اس شعر کے دو سرے مصرعے کو تبدیل کر کے یوں کر دیا جائے تو واقعاتی اقدار کا اشتراک پیدا ہوجائے گا کہ ؎ 

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی ہیں عثمانؓ ابتدا ہابیل

حضرت ہابیل کا قتل ہوا ہے اور اس شان کے ساتھ ہوا ہے کہ بھائی قتل پرتُلا ہوا ہے‘ اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے لیکن وہ اللہ کا بندہ اپنی مدافعت میں ہاتھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں. انہوں نے اپنے بھائی قابیل سے کہا:

لَئِنۡۢ بَسَطۡتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقۡتُلَنِیۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیۡکَ لِاَقۡتُلَکَ ۚ (المائدہ: ۲۸)
’’اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھاؤ گے تب بھی میں اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا تم کو قتل کرنے لیے.‘‘

اور ہابیل قتل ہو گئے . بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا. یہ وہ واقعہ ہے جس کا کلام اللہ میں سورۃ المائدۃ میں بڑے اہتمام اور بڑی شان کے ساتھ ذکر ہوا ہے. یہی وہ واقعہ ہے جس پر ہمیں وہ آیت مبارکہ ملتی ہے کہ’ ’اسی لیے ہم نے یہ لکھ دیا ہے کہ جس شخص نے بھی کسی ایک انسانی جان کو ناحق اور بغیر سبب قتل کیا تو اس نے گویا پوری نوعِ انسانی کو قتل کر دیا اور جس نے ایک بھی جان بچائی‘ اس نے گویا پوری نوع انسانی کی جان بچائی‘‘. 

فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ مَنۡ اَحۡیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ (المائدہ: ۳۲)

یہ واقعہ حضرت ہابیل کا ہے. اس کی کامل مناسبت اور مشابہت حضرت عثمان ؓ کی شہادت میں ہے. ہاتھ اٹھانے کو تیار نہیں ہوئے. طاقت ہے‘ قوت ہے‘ سب کچھ ہے. حضرت طلحہؓ ‘ حضرت زبیر بن العوامؓ ‘ حضرت علی ؓ محاصرین کی سرکوبی کی اجازت طلب کر رہے ہیں. انصار آ رہے ہیں کہ ہمیں اجازت دیجئے‘ ہم دوسری مرتبہ اللہ کے انصار بننا چاہتے ہیں. پہلے ہم نے جناب محمد رسول اللہ‘ کی جاں نثاری میں اللہ کے مددگار ہونے کا خطاب حاصل کیا ‘آج ہم خلیفۃ الرسول کی مدد کرنے کے خواستگار ہیں. ہمیں موقع دیجئے کہ ہمارے اس خطاب کی پھر تجدید ہو جائے. مختلف صوبوں کے گورنروں کے جو پیغامات آ رہے تھے کہ ہمیں فوجیں لے کر آنے کی اجازت دیجئے .اس کا میں ذکر کر چکا ہوں.حضرت عثمان ؓ کا ‘ جو صبر و ثبات کے کوہ ہمالیہ ثابت ہوئے ‘ جواب یہی تھا کہ نہیں‘ میں اپنی مدافعت میں کسی کلمہ گو کا خون بہانے کی اجازت نہیں دوں گا.

حضرت حسنؓ ‘ حضرت حسینؓ ‘ حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ دروازے پر پہرے دار تھے لیکن باغی پیچھے سے دیوار پھاند کر گئے اور اس ہستی کو شہید کر دیا جس کو ذوالنورین کا لقب حاصل تھا اور جس سے نبی اکرم‘ راضی تھے اور جس کے حق میں دعا فرمایا کرتے تھے کہ ’’اے اللہ! میں عثمانؓ سے راضی ہوں‘ تُو بھی اس سے راضی رہیو.‘‘ حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ جو اسلام قبول کرنے سے پہلے ایک جید یہودی عالم تھے‘ وہ آتے ہیں اور باغیوں کو مخاطب کرتے ہیں کہ لوگو! باز آ جاؤ‘ میں تورات کا عالم ہوں اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اللہ کے کسی نبی کو قتل کیا گیا ہو اور اس کے بعد کم سے کم ستر ہزار انسان قتل نہ ہوئے ہوں یا کبھی کسی نبی کے خلیفہ کو قتل کیا گیا ہو اور اس کے بعد کم از کم پینتیس ہزار انسانوں کو قتل نہ کیا گیا ہو. جان لیجئے کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جو فتنے کی آگ بھڑکی‘ اس میں چوراسی ہزار مسلمان قتل ہوئے. 

حضرت علیؓ کے عہد خلافت کے پورے پونے پانچ برس باہم خانہ جنگی میں گزرے. جنگ جمل ہے اور جنگ صفین ہے. جنگ نہروان ہے. مسلمان کے ہاتھ میں مسلمان کا گریبان ہے اور مسلمان کی تلوار مسلمان ہی کا خون چاٹ رہی ہے. مسلمان کا نیزہ ہے جو مسلمان کے سینے کے پار ہو رہا ہے. اور کیسے کیسے لوگ! حضرت طلحہؓ شہید ہو رہے ہیں‘ حضرت زبیرؓ شہید ہو رہے ہیں‘ حضرت عمار بن یاسرؓ شہید ہو رہے ہیں. پھر یہ کہ حضرت علیؓ شہید ہو رہے ہیں. حضرت امیر معاویہؓ پر حملہ ہوا لیکن ان پر وار کاری نہ پڑا اور وہ بچ گئے. حضرت عمرو بن العاصؓ پر حملہ ہوا ‘ لیکن وہ اس روز کسی وجہ سے نماز فجر کے لیے نہ آئے تھے‘ اس لیے ان کے مغالطے میں ان کے قائم مقام شہید ہوئے. پھر نہ جانے ان کے علاوہ کیسے کیسے مخلص اور شجاع مسلمان ان جنگوں میں کھیت رہے. 
اس بات کو ذہن میں رکھئے کہ اس سارے فتنے کی آگ بھڑکانے والے عبد اللہ بن سبا کے حواری تھے اور یہ وہ آگ تھی جو پھر ٹھنڈی نہ ہو سکی.

اس سبائی سازش کو سمجھنے کے لیے مَیں جنگ جمل کا ایک چھوٹا سا واقعہ پیش کرتا ہوں جوتمام مستند تاریخوں میں موجود ہے. یہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فوج کے ساتھ نکلی ہیں اور بصرہ پران کا قبضہ ہوا. حضرت عائشہؓ ‘ خلافت کی مدعی نہیں تھی‘ معاذ اللہ.ان کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ خونِ عثمانؓ ‘ کاقصاص لیا جائے. اس وقت دونوں لشکر آمنے سامنے تھے اور حضرت عائشہؓ اور حضرت علیؓ جنگ کے بجائے گفت و شنید سے قضیہ نمٹانے پر آمادہ ہو گئے تھے. حضرت علیؓ ‘کی طرف سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ خونِ عثمانؓ ‘کاقصاص لینے کے لیے بالکل تیار ہیں‘ لیکن پہلے ان کے ہاتھ تو مضبوط کئے جائیں. اگر ان کے ہاتھ پر بیعت ہو جائے اور انہیں تقویت پہنچائی جائے تو وہ فتنہ پردازوں سے پور اپورا حساب لیں گے. لہذا بات چیت شروع ہوئی. ایک بڑی امید افزا فضا نظر آنے لگی کہ حالات درست ہو جائیں گے. لیکن عین اس وقت عبد اللہ بن سبا اور مالک بن اشتر نخعی رات کی تاریکی میں سازش کرتے ہیں کہ اس طرح تو ہمارا بھانڈا پھوٹے گا‘ ہماری سازش کا پردہ چاک ہو گا‘ یہ جو ڈرامہ کھیلنے کے لیے ہم نے سٹیج بچھائی ہے‘ یہ تو برباد ہو جائے گی. لہذا وہ رات کی تاریکی میں کچھ لوگوں کو لے کر حضرت عائشہ ؓ کے کیمپ پر حملہ کر دیتے ہیں.

اِدھر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حضرت علیؓ کی فوجوں نے حملہ کر دیا ہے. اُدھر وہ حضرت علیؓ کے‘ کیمپ میں یہ پیغام بھیجتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ کے لشکر نے حملہ کی ابتدا کی ہے اور وہ اچانک ہم پر ٹوٹ پڑے ہیں. چنانچہ دونوں لشکر ایک دوسرے سے پوری طرح بھڑ گئے. آپ اس بات کو پیشِ نظر رکھئے کہ جب جنگ چھڑ جاتی ہے تو تحقیق کا کوئی وقت نہیں ہوتا اور یہ قطعاً ممکن نہیں ہوتا کہ عین اس وقت تفتیش ہو کہ اصل معاملہ کیا ہے! کس نے ابتدا کی تھی اور اس کا اصل محرک کیا ہے؟ یہ تو وہ وقت ہوتا ہے کہ لوگ اپنی جان ہتھیلیوںپر رکھے برسرپیکار ہوتے ہیں. پھر جوخون ریزی ہوئی ہے اور سو ‘دو سو نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں مسلمان ایک دوسرے کی تلوار سے شہید ہوئے ہیں‘ یہ ہماری تاریخ کا ایک دردناک باب ہے. اس سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ واقعتا فتنے کی آگ کو بھڑکانے والا چھوٹا سا گروہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو اس کو اس طرح بھڑکا دے کہ پھر اسے بجھایا نہ جا سکے. یہی معاملہ جنگِ صفین کے موقع پر ہوا ہے. وہاں بھی مصالحانہ گفتگو کی فضا پیدا ہو گئی تھی‘ لیکن سبائی سازشی گروہ نے اسے بھی ناکام بنا دیا اور فتنہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس میں ’’خوارج‘‘ کے گروہ کا اضافہ ہو گیا اور ایک نیا محاذ کھل گیا.

آگے چلیے! وقت کی قلت کی وجہ سے مجھے جو کچھ عرض کرنا ہے ‘اختصار کے ساتھ کرنا ہے. حضرت علی ؓ کی ایک خارجی کے ہاتھوں شہادت ہوتی ہے. اس موقع پر یہ بات بھی ذہن میں رکھئے کہ حضرت علی ؓ کے عہدِ خلافت میں عالمِ اسلام ایک وحدت کی صورت میں باقی نہیں رہا تھا. امیر معاویہ ؓ شام کے گورنر کی حیثیت سے اس بات کے مدعی تھے کہ خونِ عثمانؓ ‘کا قصاص لیا جانا چاہئے.یہ بات بھی سمجھ لیجئے کہ حضرت معاویہؓ نے قطعاً خلافت کا دعویٰ نہیں کیا تھا. وہ ہرگز مدعی خلافت نہ تھے‘ نہ حضرت علیؓ ‘کی خلافت کے منکر. وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ حضرت علی ؓ خلافت کے حق دار نہیں‘ معاذ اللہ. اور یہ کہ ان کے بدلے مجھے خلافت ملنی چاہئے‘ ہرگز نہیں.وہ صرف خونِ عثمانؓ کے قصاص کے مدعی تھے.ان کی ایک وسیع رقبے پر بحیثیت گورنر حکومت رہی ہے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ قاتلانِ عثمانؓ ‘کو جو حضرت علی ؓ کے کیمپ میں شامل اور معاملات میں پیش پیش تھے‘ سزا دی جائے. اس کے بعد وہ بیعت کر لیں گے. ان کا موقف صحیح تھا یا غلط‘ اس پر گفتگو کا یہ موقع و محل نہیں ہے. فی الوقت پیشِ نظر صرف اس صورتِ واقعی کا بیان ہے کہ اس وقت عالمِ اسلام ایک وحدت کی حیثیت سے موجود نہیں تھا.

حضرت علی ؓ کی شہادت کے بعد کوفہ میں حضرت حسن ؓ کے ہاتھ پر بیعت ِ خلافت ہوئی. اب معلوم ہوا کہ نئے سرے سے تصادم کی نوبت آنے والی ہے. اِدھر حضرت حسنؓ ‘کوفے سے چالیس ہزار فوج لے کر چلتے ہیں‘اُدھر حضرت معاویہؓ دمشق 
سے ایک بڑی فوج لے کر روانہ ہوتے ہیں. مدائن کے آس پاس دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ ہوتی ہے. حضرت حسن ؓ کی فوج کا ہراول دستہ آگے آگے جا رہا تھا. اس کے متعلق یہ افواہ اڑ گئی کہ اس کو شکست ہو گئی. یہ افواہ کس نے اڑائی…واللہ اعلم. نتیجہ یہ نکلا کہ وہی کوفی جو حضرت حسنؓ کے ساتھ تھے‘ انہوں نے وہاں وہ طوفان بدتمیزی برپا کیا کہ بیان سے باہر ہے. بغاوت کر دی‘ خیمے لوٹ لیے ‘جناب حسن ؓ پر دست درازی کی‘ آنجناب کے کپڑے پھاڑ ڈالے . ان باغی کوفیوں کے ہاتھوں اپنی جان کا خطرہ دیکھ کر آنجناب‘کو کسریٰ کے محل میں پناہ لینی پڑی. اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت حسن ؓ کو ان کوفیوں کے مزاج کا بخوبی تجربہ ہو گیا. چنانچہ انہوں نے مصالح دین کی خاطر وہیں سے حضرت معاویہؓ کو مصالحت کی پیش کش ارسال کر دی جسے حضرت معاویہؓ نے فوراً قبول کر لیا اور اپنی طرف سے ایک سادہ سفید کاغذ پر اپنی مہر لگا کر حضرت حسنؓ کے پاس اس پیغام کے ساتھ بھیج دیا کہ جو شرطیں آپ چاہیں لکھ دیں‘ مجھے منظور ہوں گی.اس کو ہمBlank Cheque سے تعبیر کر سکتے ہیں. چنانچہ مصالحت ہو گئی. مصالحت نامہ میں ایک شرط یہ تھی کہ ایران کے صوبے اہواز کا خراج حضرت حسنؓ ‘کو ملے گا.

یہ ایران کا وہی صوبہ ہے جس کا آج کل اخبارات میں ایران و عراق کی جنگ کے سلسلے میں کافی ذکر ہو رہا ہے اور جہاں عرب کافی تعداد میں آباد ہیں. ایک دوسری شرط یہ تھی کہ بیس لاکھ درہم سالانہ میرے چھوٹے بھائی حضرت حسینؓ کو ملیں گے. ایک اور شرط یہ بھی تھی کہ وظائف کی تقسیم کے معاملے میں بنی ہاشم کے حق کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تسلیم کیا جائے گا. ایک شرط یہ بھی تھی کہ اب تک جو کچھ ہوا ہے ‘اس پر کسی سے باز پرس نہیں ہو گی .گویا کہ یہ عام معافی (General Amnesty) کا اعلان تھا.حضرت معاویہ ؓ نے تمام شرائط منظور کر لیں اور الحمد للہ تقریباً پانچ سال کے اختلاف‘ افتراق ‘ انتشار اور باہمی خانہ جنگی کا دروازہ بند ہو ا. اب پورا عالمِ اسلام ایک وحدت بن گیا. واضح رہے کہ اس کے بعد حضرت معاویہؓ نے بیعتِ خلافت لی.اس صلح کے واقعہ پر حضرت حسنؓ نے ان الفاظ میں تبصرہ فرمایا کہ ’’اگر خلافت ان کا یعنی حضر ت معاویہؓ ‘ کا حق تھی تو ان تک پہنچ گئی اور اگر میرا حق تھی تو میں نے بھی ان کوسونپ دی جھگڑا ختم ہوا.‘‘ یہ وہ بات تھی جس کی پیشین گوئی آنحضرت‘ نے فرمائی تھی کہ میرے اس بیٹے یعنی حضرت حسنؓ کے ذریعے اللہ تعالیٰ ایک وقت میں مسلمانوں کے دو گروہوں میں مصالحت کرائے گا. یہ خصوصی مقام اور رتبہ ہے جناب حسن ؓ کا…؏ 

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا!
لیکن ذہن میں رکھئے ‘ کہ وہ سازشی سبائی اس صورتِ حال سے سخت مشتعل تھے. انہوں نے حضرت حسن ؓ پر طعن کیا‘ آپ کی طرح طرح سے توہین کی‘ آپ‘کو 
’’ یَا عار الْمُوْمِنِیْنَ‘‘ یعنی ’’اے اہل ایمان کے حق میں عار اور ننگ اور شرم کے باعث انسان‘‘ اور یَا مُذِلَّ الْمُوْمِنِیْنَ یعنی ’’اے مسلمانوں کو ذلیل کرنے والے انسان‘‘ کہا گیا.یہ توہین آمیز خطابات وہ لوگ آپ کودیتے تھے جو بظاہر آپ کے حامی تھے .وہ برملا کہتے تھے کہ اے حسنؓ ‘تم نے یہ صلح کر کے ہماری ناک کٹوا دی ہے اور ’’اہلِ ایمان‘‘ کے لیے تم نے کوئی عزت کا مقام باقی نہیں رکھا ہے. لیکن اللہ تعالیٰ اس اُمت کی طرف سے ابد الآباد تک حضرت حسن ؓ کو جزاءِ خیر عطا فرمائے کہ ان کے اس ایثار کی بدولت وہ رخنہ بند ہو گیا اور وہ دراڑ پُر ہو گئی جو عالمِ اسلام میں اس آپس کے خلفشار کی وجہ سے‘پڑگئی تھی.

اب اس بات کو ذہن میں رکھئے کہ پورے بیس برس تک عالمِ اسلام پھر متحد رہا. یہ بات مَیں اس سے پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ حضرت امیر معاویہ ؓ کے عہدِ حکومت کو اہلِ سنت دورِ خلافت راشدہ میں شامل نہیں کرتے. اسلامی حکومت کا آئیڈیل مزاج وہ ہے جو ہمیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے لے کر حضرت عثمان ؓ کے ابتدائی دس سال تک نظر آتا ہے. حضر ت معاویہؓ ‘ صحابی اور کاتب وحی ہیں.کسی بدنیتی کو ہم ان کی طرف منسوب نہیں کر سکتے. لیکن یہ بھی حقیقت ہے اور صحیح ہے کہ ان کا وہ مقام اور مرتبہ کبھی کسی نے نہیں سمجھا جو حضرت علی ؓ ‘ کا ہے.میں نے پہلے 
بھی کئی بار عرض کیا ہے اور اس کا آج پھر اعادہ کرتا ہوں کہ حضرت علی ؓ کے دورِ خلافت میں جو جھگڑے رہے اور مسلمانوں میں آپس میں جو جنگیں ہوئیں‘ حاشا و کلّا ان کا کوئی الزام حضرت علی ؓ کی ذات پر نہیں ہے.

اس میں ان‘ کا نہ کوئی قصور تھا نہ کوتاہی… معاذ اللہ. یہ تو اغیار کی سازش تھی کہ انہوں نے فتنہ کی آگ کو اس طرح بھڑکایا تھا کہ اس کو بجھایا نہ جا سکا .لیکن حضرت معاویہؓ کے عہد خلافت کے یہ بیس سال امن کے سال ہیں. باہمی خانہ جنگی ختم ہو گئی. ؏ ’’ہوتا ہے جادۂ پیما پھر کارواں ہمارا‘‘ کی کیفیت پیدا ہوئی اور دعوت و تبلیغ اور جہاد و قتال کے عمل کا احیاء ہوا. توسیع از سر نو شروع ہوئی. فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا. یہ بیس سالہ دَور خلافتِ راشدہ کے بعد اُمت کی تاریخ میں جتنے بھی ادوار آئے ہیں‘ ان میں سب سے افضل اور بہتر دور ہے. اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے. سب سے اہم بات یہ کہ سربراہ ِ حکومت ایک صحابی ہیں.ان کے بعد معاملہ آتا ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا لیکن وہ صحابی نہیں ہیں‘ تابعی ہیں. ؏ ’’گر حفظ ِمراتب نہ کنی زندیقی‘‘.ہم کسی غیر صحابی کو صحابی کے ہم پلہ اور ہم مرتبہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں. اہلِ سنّت کا مجمع علیہ عقیدہ ہے کہ ادنی ٰ سے ادنی ٰ صحابی بھی اُمت کے بڑے سے بڑے ولی سے افضل ہے.

چنانچہ یہی بات ایک دوسرے انداز میں حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے کہی تھی. ان سے دریافت کیا گیا کہ عمر بن عبدالعزیزؒ افضل ہیں یا امیر معاویہؓ ‘ انہوں نے جواب دیا کہ ’’معاویہؓ سے عمر بن عبدالعزیزؒ کے افضل ہونے کا سوال کیا پیدا ہو گا. عمر بن عبدالعزیزؒ سے تو وہ خاک بھی افضل ہے جو نبی اکرم‘ کی ہم رکابی میں اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے حضرت معاویہؓ کے گھوڑے کے نتھنوں میں گئی ہے‘‘. یہ فرق ہے صحابیت اور غیر صحابیت میں. بہرحال میں نے عرض کیا کہ امیر معاویہؓ کے دورِ حکومت کے بیس سال میں امن رہا. واضح رہے کہ حضرت حسین ؓ بھی وہی ہیں‘ حضرت حسنؓ بھی دس سال تک زندہ رہے. سن ۴۱ھ میں یہ صلح ہوئی تھی اور سن ۵۱ھ میں حضرت حسن ؓ کا انتقال ہوا ہے. ان کا انتقال زہر کے اثر سے ہوا. زہر کس نے 
دیا‘ کیوں دیا؟ اس کا تعلق حضرت معاویہ ؓ سے ہونا بعید از قیاس ہے. ان کوکیوں ضرورت پیش آئی تھی کہ وہ حضرت حسن ؓ کو زہر دلواتے جبکہ صلح کے بعد ان دونوں کے قریبی اور دوستانہ مراسم تھے. زہر دینے والا کوئی سمجھ میں آ سکتا ہے تو وہ وہی گروہ ہو سکتا ہے کہ جس نے آنجناب کو ’’عار الْمُوْمِنِیْنَ‘‘ اور ’’ مُذِلَّ الْمُوْمِنِیْنَ‘‘ جیسے اہانت آمیز خطابات دیئے تھے اور آپ‘کو طرح طرح سے ذہنی اذیتیں پہنچائی تھیں. ظاہر ہے کہ زہر دلایا ہو گا تو اسی گروہ نے دلوایا ہو گا. جن سے ان کی مصالحت ہے ‘ان کی طرف سے زہر دلانے کا امکان بہرحال عقل انسانی تسلیم نہیں کرسکتی.

اس کے بعد آتا ہے امیر یزید کی بحیثیت ولی عہد نامزدگی اور پھر ان کے دورِ حکومت میں سانحۂ کربلا کا واقعہ جو دردناک بھی ہے اور افسوس ناک بھی اور جس نے بلاشک و شبہ تاریخ اسلام پر بہت ہی ناخوشگوار اثرات چھوڑے ہیں. اس مسئلہ پر گفتگو سے قبل مَیں چاہتا ہوں کہ آپ سے عرض کروں کہ اس موقع پر یہ بات ذہن میں رکھ لیجئے کہ اگرچہ اُمت میں اختلاف اور افتراق کے افسانے بہت ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہمارے باقی اختلافات فقہی اختلافات ہیں ‘عقائد کے اختلافات نہیں ہیں عقائد کے اختلافات تو ہمارے ہاں کے کچھ نچلی سطح کے نام نہاد واعظین اور مولویوں نے بنا لیے ہیں کہ جن کی دوکان چلتی ہی ان اختلافات کے بل پر ہے ورنہ ذہن میں رکھئے کہ دیوبندی ہوں‘ بریلوی ہوں ان کے عقائد ایک ہیں‘ عقائد کی مستند کتب ان کے ہاں ایک ہیں‘ ان کی فقہ بھی ایک ہے. پھر اہل سنّت کے جو دوسرے گروہ ہیں ‘ وہ مالکی ہوں‘ شافعی ہوں‘ حنبلی ہوں‘ اہلحدیث ہوں‘ ان میں فقہی معاملات میں اختلافات ہیں‘ عقائد ایک ہی ہیں. ہاں عقائد میں جو اختلاف اور فرق واقع ہوا ہے تو وہ شیعوں اور سنیوں کے مابین ہوا ہے.اس اختلاف کو واقعتا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا.تاریخی واقعات کے بارے میں رائے اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھا جا سکتا ہے. شخصیات کے بارے میں بھی اگر اختلاف ہو تو اسے بھی کسی حد تک نظر انداز کیا جا سکتا ہے. کسی کا ذاتی رجحان اگر یہ ہو کہ وہ حضرت علی ؓ ‘کوحضرت ابوبکر ؓ سے افضل 
سمجھتا ہے تو یہ بھی ایسی بنیادی و اساسی بات نہیں ہے کہ جس کی بنا پر ’’من دیگرم تو دیگری‘‘ کا معاملہ ہو سکے. البتہ یہ ضرور ہے کہ پوری اُمت محمد علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام حضرت ابوبکر ؓ کو افضل ترین شخصیت ہی نہیں سمجھتی بلکہ پوری نوعِ انسانی میں انبیاء کرام کے بعد افضل البشر سمجھتی ہے. لیکن اسے بھی عقیدے کا بنیادی اختلاف قرار نہیں دیا جا سکتا. شاہ ولی اللہ دہلویؒ یہ لکھتے ہیں کہ:

’’اگر میری طبیعت کو اس کی آزادی پر چھوڑ دیا جائے تو وہ حضرت علیؓ کی فضیلت کی قائل ہوتی نظر آتی ہے. لیکن مجھے حکم ہوا ہے کہ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ ‘ حضرت عمر ؓ کی فضیلت کا اقرار کروں.‘‘

میری ناقص رائے میں خلفائے راشدین کی فضیلت میں تقدیم و تاخیر اگرچہ فی نفسہٖ ایک اہم مسئلہ ہے تاہم اسے عقیدے کا اختلاف قرار نہیں دیا جا سکتا. اصل اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک معصومیت ختم ہو چکی ہے جناب محمد ‘ پر. ہمارے نزدیک آنحضور‘ خاتم النبیین والمرسلین کے ساتھ ساتھ خاتم المعصومین بھی ہیں اور ہم اسے ایمان بالنبوت اور ایمان بالرسالت کا ایک لازمی جزو سمجھتے ہیں‘ اور یہ بات یقینا بنیادی عقیدے سے متعلق ہے. اس لیے کہ یہ عقیدہ ختم نبوت کا لازمی نتیجہ ہے. چونکہ عصمت و معصومیت خاصۂ نبوت ہے‘ نبوت ختم ہوئی تو عصمت و معصومیت بھی ختم ہوئی. اب نبوت کے بعد اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے. وحی ٔ نبوت کا دروازہ بند ہے اور تاقیامِ قیامت بند رہے گا. تاریخِ انسانی کا بقیہ سارا دور اجتہاد کا ہے. اجتہاد میں مجتہد اپنی امکانی حد تک کوشش کرتا ہے کہ اس کی رائے قرآن و سنّت ہی سے ماخوذ و مستنبط ہو لیکن وہ 
معصوم عن الخطا نہیں ہے. اس اجتہاد میں خطاء بھی ہو سکتی ہے. لیکن اگر نیک نیتی کے ساتھ خطا ہے تو ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ مجتہد مخطی کو بھی اجر و ثواب ملے گا‘ اگرچہ اکہرا .اور مجتہد اگر مصیب ہو یعنی صحیح رائے تک پہنچ گیا ہو تو اسے دوہرا اجر ملے گا جبکہ شیعہ مکتب فکر کا عقیدہ امامتِ معصومہ کا ہے . ہمارے نزدیک جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا ‘معصومیت خاصۂ نبوت ہے.

وہ اپنے ائمہ کو بھی معصوم مانتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان سے خطاء کا صدور ممکن نہیں. ہمارے اعتبار سے تو اس نوع کی امامت ایک قسم کی نبوت بن جاتی ہے اور ہر قسم کی نبوت کو ہم حضرت محمد‘ پر ختم سمجھتے ہیں. لہذا نبوت کے بعد جو بھی زمانہ آیا ‘اس میں کسی کا جو بھی اقدام ہے اس میں ہم احتمالِ خطاء کو بعید از امکان نہیں سمجھتے خواہ وہ اقدام حضرت علی ؓ کا ہو خواہ حضرت ابوبکر ؓ یا حضرت عمر ؓ یا حضرت عثمان ؓ کا.لہذا اگر کوئی شخص ان میں سے کسی کے کسی فیصلہ یا اقدام کے بارے میں یہ رائے دینا چاہے کہ فلاں معاملے میں ان سے خطاء ہوئی تو اسے حق ہے ‘ وہ کہہ سکتا ہے. البتہ دلیل سے بات کرے اور اسے اجتہادی خطاء سمجھے تو یہ بات ہمارے عقیدے سے نہیں ٹکرائے گی . یہ دوسری بات ہے کہ پوری چودہ سو سال کی تاریخ میں حضرت ابوبکر ؓ کے دور سے لے کر آج تک کسی شخص نے صدیق اکبرؓ ‘کی کسی خطاء کو پکڑا نہیں ہے. لیکن اس کے باوجود ہم یہ کہتے ہیں کہ امکانِ خطاء موجود تھا اور وہ معصوم عن الخطاء نہیں تھے. لہذا کوئی شخص اگر یہ کہنا چاہے کہ ان سے خطاء ہوئی‘ یہ نہ کرتے یا یوں کرتے تو بہتر تھا تو ہم اس کی زبان نہیں پکڑیں گے ‘ چونکہ ہم ان کی معصومیت کے قائل ہی نہیں ہیں.

حضرت عمر ؓ کو تو خود اپنی بعض اجتہادی آراء میں خطاء کا احساس ہوا‘ جن سے انہوں نے علی الاعلان رجوع کر لیا. البتہ اپنی ایک خطاء کا وہ صرف اعتراف کر سکے ‘ اس کا ازالہ نہ ہو سکا. وہ یہ کہ حضرت ابوبکر ؓ کے عہد خلافت میں خود انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ پر زور دے کر وظائف کے تعین کے معاملے میں ایک فرق رکھوایا‘ یعنی یہ کہ بدری صحابہ‘کودوسروں کے مقابلے میں کافی زیادہ وظیفہ ملنا چاہئے اور اصحابِ شجرہ کو بدری صحابہ ؓ سے کم لیکن دوسروں سے زیادہ وظیفہ ملنا چاہئے. یہ فرقِ مراتب حضرت عمرؓ نے رکھوایا اور اپنی حیاتِ دُنیوی کے آخری ایام میں آپ اس پر پچھتائے. اس کی وجہ کیا تھی‘ وہ بھی جان لیجئے یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مسلمانوں کے جوشِ جہاد اور شوقِ شہادت کی وجہ سے نہایت عظیم الشان فتوحات ہوتی چلی گئیں اور مالِ غنیمت بے حد و حساب دار الاسلام میں آنے لگا. اب جو بڑے بڑے وظائف باقاعدگی سے ملے تو اس نے سرمایہ داری کی شکل اختیار کر لی‘ اس لیے کہ معاشرے میں بالفعل یہ صورت حال پیدا ہو گئی تھی کہ صدقہ خیرات لینے والا کوئی مستحق ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا تھا. بنا بریں ارتکازِ دولت کی شکل پیدا ہونی شروع ہو گئی اور وظائف میں فرق و تفاوت نے اصحابِ دولت و ثروت کے مابین بھی عظیم فرق و تفاوت پیدا کر دیا. اگر وہ دولت کسی ہموار و مساوی طریقے پر منتقل ہوتی تو یہ صورت حال رونما نہ ہوتی. یہ وہ چیز تھی جس کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق ؓ نے کہا تھا کہ : 

’’لو استقبلت ما استدبرت لاخذت فضول اموال الاغنیاء ولقسمتہ بین الناس‘‘ …او کما قال
’’اب اگر کہیں وہ صورت حال دوبارہ پیدا ہو جائے جو اب پیچھے جا چکی ہے تو میں لوگوں کے اموال میں جو فاضل ہے‘ وہ لے کر دوسرے لوگوں میں تقسیم کر دیتا.‘‘

پس معلوم ہواکہ آنجناب کو ایک احساس ہوا.یہ بات میں نے صرف اس لیے عرض کی ہے کہ اہل سنّت کا یہ موقف واضح ہو جائے کہ خطاء کا احتمال و امکان ہر صحابی کے بارے میں ہو سکتا ہے‘ لیکن ہم اس خطاء کو اجتہادی خطاء قرار دیں گے اور اسے نیک نیتی پر محمول کریں گے. یہ بات ہر صحابی کے بارے میں کہی جائے گی. یہی بات اور یہی رائے نہ صرف حضرت امیر معاویہؓ ‘ حضرت عمرو بن العاصؓ ‘ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے میں کہی جا سکتی ہے بلکہ حضرت علیؓ اور حضرت حسین ؓ کے بارے میں بھی. یہاں تک کہ حضراتِ شیخین اور حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے.

لہذا یہ بات پیش نظر رکھئے کہ اب گفتگو کا جو مرحلہ آ رہا ہے جو حضرت امیر معاویہؓ کے ایک اہم اقدام سے متعلق ہے‘ اس کے بارے میں بھی دو رائیں ممکن ہیں. ان کو یہ بات حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓنے سوجھائی (جو مسلمہ طور پر ایک نہایت ذہین و فہیم‘ مدبر اور دُور رَس نگاہ رکھنے والے صحابی مانے جاتے ہیں) کہ ’’دیکھئے مسلمانوں میں آپس میں جو کشت و خون ہوا اور پانچ برس کا جو عرصہ آپس کی لڑائی جھگڑے میں گزرا‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے بعد پھر وہی حالات پیدا ہو جائیں.لہذا اپنی جانشینی کا مسئلہ اپنی 
زندگی ہی میں طے کر کے جایئے‘‘.

اب کوئی شخص چاہے (اور ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے) تو وہ بڑی آسانی سے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ پر یہ فتویٰ لگا دے کہ انہوں نے کسی لالچ اور کسی انعام کی امید کی وجہ سے یا چاپلوسی کے خیال سے یہ رائے دی . معاذ اللہ ! ہم یہ رائے نہیں دے سکتے. حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ ان اصحاب رسول اللہ‘ میں شامل ہیں جنہوں نے حدیبیہ میں نبی اکرم‘ کے دست مبارک پر وہ بیعت کی تھی جس کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے ‘ اور اس بیعت پر سورۂ فتح میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کا اظہار فرمایا ہے. چنانچہ وہ اصحابِ شجرہ میں سے ہیں. پھر حضرت علیؓ کے پورے عہد حکومت میں وہ حضرت علیؓ کے بڑے حامیوں(Supporters) میں رہے اور ہر مرحلے میں انہوں نے حضرت علی ؓ کا ساتھ دیا.لیکن وہ اُمت کے حالات کو دیکھ رہے تھے. آپس کی خانہ جنگی کا انہیں تلخ اور درد ناک تجربہ ہوا تھا.

وہ جو انگریزی کی مثل ہے کہ ’’بہت سا پانی دریا میں بہہ گیا ہے‘‘ اس کے مصداق حالات میں بہت کچھ تبدیلی آ چکی ہے. یہ ۶۰ ہجری کے لگ بھگ کا زمانہ ہے. آنحضور‘ کی وفات پر پورے پچاس برس گزر چکے ہیں. کبار صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی عظیم اکثریت اللہ کو پیار ی ہو چکی ہے. اب تو صغارِ صحابہ ‘میں بھی کچھ ہی لوگ موجود ہیں اور یہ گویا صحابہ کی دوسری نسل کے افراد ہیں جیسے حضرت زبیر بن العوام ؓ شہید ہو چکے‘ اب ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ ہیں. حضرت عمرؓ شہید ہو چکے‘ اب ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ہیں. حضرت عباس اللہ کو پیارے ہو چکے البتہ ان کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ موجود ہیں. اسی طرح حضرت ابوبکر ؓ کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر ؓ ہیں. الغرض چند صغارِ صحابہؓ کو چھوڑ کر تقریباً ننانوے فی صد لوگ تو بعد کے ہیں .پھر وہ جوش و جذبۂ ایمانی بھی پچاس سال کے بعد اس درجے کا نہ رہا تھا جو خلافت ِراشدہ کے ابتدائی پچیس سال تک نظر آتا ہے.اس ضمن میں ’’جوہر اندیشہ‘‘ اور شدتِ احساس کا عالم تو یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے دور میں ایک موقع پر جب کچھ عیسائی آئے اور ان کو قرآن مجید کی آیات سنائی گئیں اور شدتِ تاثر سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تو خود حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا: 

’’ھکذا کنا حتی قَسَتِ القلوب‘‘
’’یہی حال کبھی ہمارا ہوا کرتا تھا کہ قرآن مجید پڑھتے تھے اور سنتے تھے تو ہماری آنکھوں سے آنسو جاری ہو جایا کرتے تھے‘ یہاں تک کہ دل سخت ہو گئے.‘‘

ذرا غور فرمایئے ‘یہ بات حضرت ابوبکر ؓ اپنے متعلق فرما رہے ہیں کہ ہمارے دل سخت ہو گئے. اسی طرح انتقال کے وقت حضرت عمر ؓ اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’مَیں اگر برابر برابر پر چھوٹ جاؤں تو بہت بڑی کامیابی سمجھوں گا‘‘ .پھر یہی حضرت عمر فاروق ؓ ہیں جو حضرت حذیفہؓ سے پوچھتے تھے کہ: ’’میں قسم دے کر تم سے پوچھتا ہوں ‘کہیں میرا نام ان منافقوں کی فہرست میں تو نہیں تھا جن کے نام نبی اکرم‘ نے تمہیں بتائے تھے؟‘‘ تو ان جلیل القدر صحابہ کے شدتِ احساس کی اگر یہ صورت تھی تو آپ سوچئے کہ ؏ ’’تابہ دیگراں چہ رسد!‘‘ لہذا ان حالات میں حضرت مغیرہ ؓ کی سمجھ میں مصالح امت کا یہی تقاضا آیا کہ امیر معاویہ ؓ اپنا کوئی جانشین نامزد فرما دیں‘ چونکہ اس وقت فی الواقع بحیثیت مجموعی امت کے حالات اس جمہوری اور شورائی مزاج 
(Republican Character) کے متحمل نہیں رہے ہیں جو محمد رسول اللہ‘ نے پیدا فرمایا تھا.لہذا حالات کے پیش نظر ایک سیڑھی نیچے اتر کر فیصلہ کرنا چاہئے. چنانچہ حضرت مغیرہ ؓ نے دلائل کے ساتھ حضرت معاویہؓ سے اصرار کیا کہ وہ اپنا جانشین نامزد کریں اور اس کی بیعت ِولی عہدی لیں. پھر ان ہی نے جانشینی کے لیے یزید کا نام تجویز کیا. یہاں یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہئے کہ جو شخص کسی بھی درجے میں حضرت مغیرہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بدنیت قرار دے گا ‘اس کا معاملہ اہل سنّت سے جدا ہو جائے گا. اہل سنّت کا عقیدہ یہ ہے کہ ’’الصحابۃ کلھم عد ول‘‘. بدنیتی کی نسبت ہم ان کی طرف نہیں کر سکتے‘ اختلاف کر سکتے ہیں. ہم انہیں معصوم نہیں مانتے. ان سے خطاء ہو سکتی ہے. ان کے کسی فیصلہ کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ یہ صحیح فیصلہ نہیں تھا. کوئی یہ کہے تو اس سے اس کے ایمان‘ عقیدہ اور اہل سنّت میں سے ہونے پر کوئی حرف نہیں آئے گا. یہ رائے دی جا سکتی ہے. لیکن جو شخص بدنیتی کو کسی صحابی ٔ رسولؐ ‘کی طرف منسوب کرتا ہے تو جان لیجئے کہ وہ خواہ اور کچھ بھی ہو بہرحال اہل سنّت والجماعت میں شمار نہیں ہو گا.

اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے یعنی یہ کہ جن کی نیک نیتی ہر شبہ سے بالاتر ہے‘ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ یہ عمل اسلام کے مزاج کے ساتھ مناسبت رکھنے والا نہیں ہے. ان میں پانچ نام بہت مشہور ہیں .تین تو اُمت کے مشہور ’’عبادلہ‘‘ میں سے ہیں یعنی حضرت عبد اللہ بن زبیر‘ عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم. ایک حضرت حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور ایک حضرت ابوبکر کے صاحبزادے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہما.انہوں نے یزید کی بیعت ِولی عہدی سے انکار کیا .اور ذہن میں رکھئے کہ یہ تاریخی جملہ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ ‘ کا ہے کہ جب مدینہ کے گورنر نے ولی عہدی کی بیعت لینی چاہی ہے تو انہوں نے بڑے غصے سے کہا کہ ’’کیا اب تم رسول اللہ اور خلفائے راشدین کی سنّت کے بجائے قیصر و کسریٰ کی سنّت رائج کرنا چاہتے ہو کہ باپ کے بعد بیٹا جانشین ہو‘‘.

تیسری جانب یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ ان پانچ حضرات کو چھوڑ کر امت کی عظیم ترین اکثریت نے بیعت کر لی ‘جس میں کثیر تعداد میں صحابہ ‘بھی شامل تھے. اب اس واقعہ کے بعد اگر کوئی چاہے تو ان سب کو بے ضمیر قرار دے دے .کسی کی زبان کو تو نہیں پکڑا جا سکتا. کہنے والے یہ بھی کہہ دیں گے کہ حضرت امیر معاویہؓ نے ان کے ایمان دولت کے ذریعے خرید لیے تھے. لیکن ذرا توقف کر کے غور فرمالیجئے کہ ؏ ‘’’ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں‘‘ کے مصداق سب سے پہلے اس زد میں حضرت حسن ؓ کی ذات گرامی آئے گی.گویا انہوں نے حضرت معاویہؓ کے حق میں دولت کے عوض دستبرداری قبول کر کے اپنی خلافت فروخت کی تھی. 
معاذ اللہ ‘ ثم معاذ اللہ… لیکن ایسی بات کہنے والوں کو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ اس طرح ہدفِ ملامت و اہانت کون کون سی لائق صد احترام ہستیاں بنتی ہیں. ہم ان سب کو نیک نیت سمجھتے ہیں .جو بھی صحابہ کرام ؓ اس وقت موجود تھے ‘ان میں سے جنہوں نے ولی عہدی کی بیعت کی اور جنہوں نے انکار کیا وہ سب کے سب نیک نیت تھے. سب کے پیش نظر اُمت کی مصلحت تھی. حضرت حسنؓ نے جو ایثار فرمایا تھا وہ تو تاقیامِ قیامت اُمت پر ایک احسان عظیم شمارہو گا. یہ بات بھی پیش نظر رکھئے کہ جو دوسرا مکتب فکر ہے وہ حضرت حسن ؓ کو بھی امامِ معصوم مانتا ہے لہذا ان کا طرز عمل خود ان کے اپنے عقیدے کے مطابق صد فی صد درست قرار پاتا ہے.

اب آیئے! حضرت حسین ؓ کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں! اہل سنّت اس معاملے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ پوری نیک نیتی سے آنجناب یہ سمجھتے تھے کہ اسلام کے شورائی اور جمہوری مزاج کو بدلا جا رہا ہے. حالات کے رخ کو اگر ہم نے تبدیل نہ کیا تو وہ خالص اسلام جو حضرت محمد‘ لے کر آئے تھے اور وہ کامل نظام جو حضور‘ نے قائم فرمایا تھا‘ اس میں کجی کی بنیاد پڑ جائے گی‘ لہذا اسے ہر قیمت پر روکنا ضروری ہے. یہ رائے ان کی تھی اور پوری نیک نیتی سے تھی. پھر شہر کوفہ کے لوگ ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے برابر ان کو پیغامات بھیج رہے تھے اور کوفیوں کے خطوط سے حضرت حسین ؓ کے پاس بوریاں بھر گئی تھیں. یہ بھی ذہن میں رکھئے کہ کوفہ صرف ایک شہر ہی نہیں تھا بلکہ سیاسی اور فوجی حیثیت سے اس کی بھی بڑی اہمیت تھی. لہذا آنجناب کی رائے تھی کہ اہالیانِ کوفہ کے تعاون سے وہ حالات کا رخ صحیح جانب موڑ سکتے ہیں.

میں عرض کر چکا ہوں کہ ایسے تمام معاملات اجتہادی ہوتے ہیں. اس رائے میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بھی شریک تھے کہ ولی عہدی کی جو رسم پڑ گئی ہے وہ اسلام کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی لیکن وہ آگے جا کر اختلاف کرتے ہیں. ان کا اختلاف کامیابی کے امکانات کے بارے میں تھا. وہ کوفہ والوں کو قطعی ناقابل اعتبار سمجھتے تھے. ظاہر بات ہے کہ کسی اقدام سے پہلے خوب اچھی طرح جائزہ لینا ہوتا ہے کہ اقدام کے لیے جو وسائل و ذرائع ضروری ہیں ‘وہ موجود ہیں یا نہیں. نبی اکرم‘ اور اہل 
ایمان پر قتال مکہ میں فرض نہیں ہوا تھا بلکہ مدینہ میں ہوا ‘جبکہ اتنی قوت بہم پہنچ گئی تھی کہ قتال سے اچھے نتائج کی توقع کی جا سکے. حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ‘کی مخلصانہ رائے تھی کہ کامیاب اقدام کے لیے جو اسباب درکار ہیں‘ وہ فی الوقت موجود نہیں ہیں. لہذا وہ حضرت حسینؓ کو کوفہ والوں کی دعوت قبول کرنے اور وہاں جانے سے باصرار والحاح منع کرتے رہے. لیکن حضرت حسینؓ ‘ کی رائے یہ تھی کہ کوفہ والوں کی دعوت قبول کرنی چاہئے .اصل معاملہ یہ تھا کہ جو سچا انسان ہوتا ہے وہ اپنی سادگی اور شرافت میں دوسرو ں کو بھی سچا ہی سمجھتا ہے اور اپنی صداقت کی بنیاد پر دوسروں سے بھی حسنِ ظن رکھتا ہے. کوفہ کوئی معمولی شہر نہیں تھا‘ انتہائی strategic مقام پر واقع تھا. یہ سب سے بڑی چھاؤنی تھی جو حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں قائم کی گئی تھی‘اس لیے کہ یہ وہ مقام ہے جس سے اُس شاہراہ کا کنٹرول ہوتا ہے جو ایران اور شام کی طرف جاتی ہے.

لہذا حضرت حسینؓ یہ رائے رکھتے تھے کہ اگر کوفہ کی عظیم اکثریت ان کا ساتھ دینے کے لیے آمادہ ہے‘ جیسا کہ ان کے خطوط سے ظاہر ہوتا ہے تو اس کے ذریعے اسلامی نظام میں لائی جا رہی تبدیلی کا ازالہ کیا جا سکتا ہے اور اس کا راستہ روکا جا سکتا ہے. لیکن اس رائے سے اختلاف کر رہے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس‘ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین. یہ اختلاف بھی معاذ اللہ بدنیتی پر مبنی نہیں تھا. حضرت حسین ؓ بھی اور یہ تینوں عبادلہ بھی نیک نیت تھے. ان تینوں حضرات نے لاکھ سمجھایا کہ آپ کوفہ والوں پر ہر گز اعتماد نہ کیجئے. یہ لوگ قطعی بھروسے کے لائق نہیں ہیں. یہ لوگ جو کچھ آپ کے والدِ بزرگوار کے ساتھ کرتے رہے ہیں‘ اس کو یاد کیجئے. جو کچھ آپ کے برادرِ محترم کے ساتھ کر چکے ہیں ‘اس کو پیش نظر رکھئے. یہ عین ممکن ہے کہ ان کے دل آپ کے ساتھ ہوں‘ لیکن ان کی تلواریں آپ کی حمایت میں نہیں اٹھیں گی بلکہ معمولی خوف یا دباؤ یا لالچ سے آپ کے خلاف اٹھ جائیں گی. لیکن حضرتِ حسینؓ کا ایک فیصلہ ہے جس پر وہ کمالِ استقامت کے ساتھ عمل پیرا ہیں‘ اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس معاملہ میں فرمانِ خداوندی اور سنّت ِ رسول‘ پر عمل کر رہے ہیں یعنی فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ یعنی پہلے خوب غور کر لو‘ سوچ لو‘ امکانات کا جائزہ لے لو. تدبیر کو بروئے کار لانا ضروری ہے. سازوسامان کی فراہمی ضروری ہے. یہ بھی دیکھو کہ جو صورتِ حال (situation) فی الواقع درپیش ہے‘ اس کے تقاضے پورے کرنے کی اہلیت ہے یانہیں.لیکن جب ان مراحل سے گزر کر ایک فیصلہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اقدام کرو. ’’فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ‘‘ یہ رہنمائی ہے قرآن و سنّت میں.

آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت حسین ؓ نے 
assessment میں غلطی کی لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے کسی بدنیتی سے یا حکومت و اقتدار کی طلب میں یہ کام کیا. معاذ اللہ‘ ثم معاذ اللہ. اہل سنّت کا یہ عقیدہ ہر گز نہیں ہے. میں ذاتی طور پر اس بات سے کھلم کھلا اور سرعام اعلانِ براء ت کرتا ہوں. اگر کسی کو یہ شک و شبہ یا غلط فہمی ہو کہ معاذ اللہ میری یہ رائے ہے کہ حضرتِ حسین ؓ کے اس اقدام میں کوئی نفسانیت یا کوئی ذاتی غرض تھی تو میں اس سے بالکلیہ بری ہوں .الحمد للہ ‘ثم الحمد للہ. کسی کی یہ رائے اگر ہو تو ہو لیکن اچھی طرح جان لیجئے کہ اہل سنّت کے جو مجموعی اور مجمع علیہ عقائد ہیں ان میں یہ بات شامل ہے کہ حضرتِ حسینؓ کے اقدام اور مشاجراتِ صحابہؓ کے ضمن میں کسی صحابی ٔ رسولؐ پر بدنیتی اور نفسانیت کا حکم لگانے سے ایمان میں خلل واقع ہو گا. بلاتخصیص ہم تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو عدول مانتے ہیں ‘البتہ معصوم کسی کو نہیں مانتے اور ہر ایک سے خطاءِ اجتہادی کے احتمال و امکان کو تسلیم کرتے ہیں.حضرتِ حسین ؓ کی نیک نیتی سے ایک رائے تھی‘ نیک نیتی ہی سے ایک اندازہ (assessment) تھا اور جب اس پر انشراح ہو گیا تو دین ہی کے لیے عزیمت تھی.

جب ولی عہدی کی بیعت کا مسئلہ مدینہ منورہ میں پیش ہوا تھا تو حضرت عبداللہ بن زبیرؓ وہاں سے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے. حضرت حسین ؓ نے بھی ایسا ہی کیا. چند حضرات کی رائے یہ تھی کہ مکہ مکرمہ ہی کو 
Strong-Hold اور اصل Base بنایا جائے اور اس ولی عہدی کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے اپنی قوتوں کو مجتمع کیا جائے. ابھی اس سلسلہ میں کوئی مؤثر کام شروع نہیں ہو سکا تھا کہ حضرت امیر معاویہ ؓ کا انتقال ہو گیا اور بحیثیت ولی عہد حکومت امیر یزید کے ہاتھ میں آ گئی‘ جس کے بعد کوفہ والوں نے خطوط بھیج بھیج کر حضرت حسین ؓ کو اپنی وفاداری اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے جدوجہد اور اقدام کا یقین دلایا. آنجناب نے تحقیق حال کے لیے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ بھیجا. ان کی طرف سے بھی اطلاعات یہی موصول ہوئیں کہ اہل کوفہ بدل وجان ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں. حضرت حسینؓ نے کوفہ کے سفر کا ارادہ کر لیا اور کوچ کی تیاریاں شروع کر دیں.

حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ دونوں نے بہت سمجھایا کہ مکہ سے نہ نکلیے. یہ دونوں حضرات یہ کہتے ہوئے رو پڑے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح امیر المؤمنین حضرت عثمان ؓ کو ان کے گھر والوں کے سامنے ذبح کر دیا گیا اسی طرح آپ کے اہل و عیال کے سامنے آپ کو بھی ذبح کر دیا جائے. جب حضرتِ حسینؓ نے کوچ کیا ہے تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ ان کی سواری کے ساتھ دوڑتے ہوئے دور تک گئے ہیں اور اصرار کرتے رہے ہیں کہ خدا کے لیے باز آجائیے اور اگر جانا ہی ہے تو خواتین اور بچوں کو تو ساتھ لے کر نہ جائیے. اور یہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کون ہیں! رشتے میں ایک جانب سے حضرت حسینؓ کے چچا لگتے ہیں تو دوسری طرف نانا. اس لیے کہ والد یعنی حضرت علیؓ کے چچازاد بھائی ہیں اور نانا یعنی نبی اکرم‘  کے بھی چچازاد بھائی ہیں! لیکن اس وقت محبت سے مغلوب ہو کر کہہ رہے ہیں: اے ابن عم! خدا کے لیے باز آجاؤ یا کم از کم ان عورتوں اور بچوں کو مکہ مکرمہ ہی میں چھوڑ جاؤ.لیکن نہیں‘ دوسری جانب عزیمت کا ایک کوہِ گراں ہے‘ پیکر ِشجاعت ہے‘ سراپا استقامت ہے. نیک نیتی سے جو فیصلہ کیا ہے‘ اس پر ڈٹے ہوئے ہیں. اس کے بعد راستے میں جب اطلاع ملی کہ حضرت مسلم بن عقیلؓ جو ایلچی اور تحقیق کنندہ کی حیثیت سے کوفہ گئے تھے ‘وہاں شہید کر دیئے گئے اور کوفہ والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی سب کے سب نے گورنرِ کوفہ کے سامنے حکومت ِ وقت کے ساتھ وفاداری کا عہد استوار کر لیا ہے تو حضرت حسینؓ نے سوچنا شروع کیا کہ سفر جاری رکھا جائے یا مکہ واپسی ہو.

لیکن ذہن میں رکھئے کہ ہر قوم کا ایک مزاج ہوتا ہے جو انسان کی شخصیت کا جزو لاینفک ہوتا ہے. عرب کا مزاج یہ تھا کہ خون کا بدلہ لیا جائے خواہ اس میں خود اپنی جان سے بھی کیوں نہ ہاتھ دھو لینے پڑیں. چنانچہ حضرت مسلمؓ کے عزیز رشتہ دار کھڑے ہو گئے کہ اب ہم ان کے خون کا بدلہ لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے. حضرتِ حسین ؓ کی شرافت اور مروّت کا تقاضا تھا کہ وہ ان لوگوں کا ساتھ نہ چھوڑیں جو ان کے مشن میں ان کا ساتھ دینے کے لیے نکلے تھے. یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت مسلم بن عقیلؓ کے خونِ ناحق کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کرنے والوں کا ساتھ یہ پیکرِ شرافت و مروّت نہ دیتا! لہذا سفر جاری رہا. اسی دوران حضرت عبداللہ بن جعفرطیار ؓ جو چچا زاد بھائی ہیں‘ ان کے بیٹے حضرت عون اور حضرت محمد ان کا پیغام لے کر آئے ہیں کہ ’’خدا کے لیے اُدھر مت جاؤ‘‘. لیکن فیصلہ اٹل ہے. ان دونوں کو بھی ساتھ لیتے ہیں اور سفر جاری رہتا ہے حتی کہ قافلہ دشت ِ کربلا میں پہنچ گیا. اُدھر کوفہ سے گورنر ابن زیاد کا لشکر آ گیا. یہ لشکر ایک ہزار افراد پر مشتمل تھا اور اس کو صرف ایک حکم تھا کہ وہ حضرت حسینؓ کے سامنے یہ دو صورتیں پیش کرے کہ آپ نہ کوفہ کی طرف جا سکتے ہیں نہ مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ کی طرف مراجعت کر سکتے ہیں‘ ان دونوں سمتوں کے علاوہ جدھر آپ جانا چاہیں اس کی اجازت ہے. 

یہاں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ یہ تیسرا راستہ کون سا ہو سکتا تھا !وہ راستہ تھا دِمشق کا. لیکن افسوس کہ حضرت حسین ؓ نے اسے اختیار نہ کیا بلکہ آپ وہیں ڈٹے رہے. اب عمرو بن سعد کی قیادت میں مزید چار ہزار کا لشکر کوفہ پہنچ گیا. اور یہ عمرو بن سعد کون تھے؟ افسوس کہ ان کے نام کو گالی بنا دیا گیا ہے. یہ تھے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فاتحِ ایران اور یکے از عشرہ مبشرہ کے بیٹے جن کی حضرتِ حسینؓ کے ساتھ قرابت داری بھی ہے. وہ بھی مصالحت کی انتہائی کوشش کرتے ہیں اور گفت و شنید جاری رہتی ہے. اب حضرت حسینؓ کی طرف سے تین صورتیں پیش ہوتی ہیں. یعنی یہ کہ: ’’یا مجھے مکہ مکرمہ واپس جانے دو ‘یا مجھے اسلامی سرحدوں کی طرف جانے دو تا کہ میں کفار کے خلاف جہا دو قتال میں اپنی زندگی گزاردوں ‘یا میرا راستہ چھوڑدو. میں 
دمشق چلا جاؤں. میں یزید سے اپنا معاملہ خود طے کرلوں گا‘‘. لیکن اب گھیرا تنگ ہو گیا ہے اور صورتِ حال یکسر بدل گئی ہے.یہ بھی خوب جان لیجئے کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے!

حضرت حسینؓ نے میدانِ کربلا میں ابن زیاد کے بھیجے ہوئے لشکروں کے سامنے جو خطبات دیئے اس میں انہوں نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ میرے پاس کوفیوں کے خطوط موجود ہیں جنہوں نے مجھے یہاں آنے کی دعوت دی تھی. انہوں نے اس کوفی فوج کے بہت سے سرداروں کے نام لے لے کر فرمایا ’’اے فلاں ابن فلاں! یہ تمہارے خط ہیں کہ نہیں؟ جن میں تم نے مجھ سے بیعت کرنے کے لیے مجھے کوفہ آنے کی دعوت دی تھی.‘‘ اس پر وہ لوگ براء ت کرنے لگے کہ نہیں ہم نے یہ خطوط نہیں بھیجے. اب ان کی جان پر بنی ہوئی تھی‘ کیونکہ مصالحت کی صورت میں حکومت ِ وقت سے ان کی غداری کا جرم ثابت ہو جاتا. جنگ ِ جمل اور جنگ ِ صفین کے واقعات یاد کیجئے.

جہاں بھی مصالحت کی بات ہو گی‘ وہاں وہی سبائی فتنہ آڑے آئے گا جو اس سارے انتشار و افتراق اور خانہ جنگیوں کا بانی رہا ہے. مصالحت کی صورت میں تو ان کا کچا چٹھا کھل جاتا اور معلوم ہو جاتا کہ دوستی کے پردوں میں رہ کر کون دشمنی کرتا رہا ہے اور وہ کون ہیں جو سادہ لوح عوام کو دھوکا دے کر اور خواص کو بہلا پھسلا کر مسلمان کو مسلمان کے خلاف محاذ آرا کرتے رہے ہیں. حضرت حسینؓ کے پاس کوفیوں کے بوریوں بھرے خطوط تھے. مفاہمت کی صورت میں جب یہ سامنے آتے تو ان کا حشر کیا ہوتا‘ اس کو اچھی طرح آج بھی سمجھا جا سکتا ہے. نتیجہ یہ ہوا کہ ان سرداروں اور ان کے حواریوں نے مصالحت و مفاہمت کا سلسلہ جاری رہنے نہیں دیا اور عمرو بن سعد کو مجبور کر دیا کہ وہ حضرت حسینؓ کے سامنے یہ شرط پیش کرے کہ یا تو غیر مشروط طور پر Surrender کیجئے‘ ورنہ جنگ کیجئے. یہ سازشی لوگ حضرتِ حسینؓ کے مزاج سے اتنے ضرور واقف تھے کہ ان کی غیرت و حمیت غیر مشروط طور پر حوالگی کے لیے تیار نہیں ہو گی اور فی الواقع ہوا بھی یہی. 

یہاں یہ جان لیجئے کہ معاملہ تھا حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا ! اُن کی غیرت‘ اُن کی حمیت ‘اُن کی شجاعت اس توہین و تذلیل کو ہر گز گوارا نہ کر سکتی تھی. لہذا انہوں نے غیر 
مشروطSurrender کرنے سے انکار کر دیا اور مسلح تصادم ہو کر رہا‘ جس کے نتیجے میں سانحۂ کربلا واقع ہوا. دادِ شجاعت دیتے ہوئے آپ کے ساتھی شہید ہوئے. آپ کے اعزہ و اقارب نے اپنی جانیں نچھاور کیں اور آپ نے بھی تلوار چلاتے ہوئے اور دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا. اِنا للہ وانااِلیہ راجعون. 

یہ ہے اصل حقیقت اس سانحۂ فاجعہ کی. اصل سازشی ذہن کو پہچانئے!جیسے حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے درمیان اختلاف کا افسانہ جس نے بھی تراشا ہے ‘بڑی عیارانہ مہارت سے تراشااور گھڑا ہے. اس افسانے سے حقائق گم کر دیئے گئے ہیں. اب ہوتا یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ اصل مجرم کو Pin-Point کیا جائے‘ کوئی حضرت عثمان ؓ کو تنقید کا ہدف بناتا ہے تو کوئی حضرت علیؓ کو. اس طرح یہ دونوں فریق ان سازشی سبائیوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں. اس لیے کہ حضرت عثمان ؓ کی شخصیت مجروح ہوتی ہے تو بھی ان کا کام بنتا ہے اور حضرت علی ؓ کی ذاتِ گرامی مجروح ہوتی ہے تو بھی ان کے پوبارہ ہوتے ہیں. یہ حضرت عثمان ؓ کون ہیں؟ یہ ہیں ذوالنورین‘ نبی اکرم: کے دوہرے داماد اور یکے از عشرہ مبشرہ. اور یہ حضرت علی ؓ کون ہیں؟ آنحضور‘ کے تربیت یافتہ آپؐ کے چچا زاد بھائی‘ آپؐ کے داماد‘ آپؐ کے محبوب اور یکے از عشرہ مبشرہ. ان دونوں میں سے کسی کی بھی شخصیت مجروح ہوتی ہے تو اس کی زد پڑتی ہے نبی اکرم: کی ذاتِ اقدس پر‘ جو ان دونوں کے مزکی و مربی تھے . ان شخصیتوں میں اگر نقص اور عیب مانا جائے گا تو محمد رسول اللہ  کی تربیت پر حرف آئے گا اور آنحضرت‘ کی شخصیت ِ مبارکہ مجروح ہو گی. افسوس کہ آج بھی اُن سبائیوں کا کام دونوں طرف سے بن رہا ہے. 

خوب جان لیجئے کہ ایسے تمام لوگ چاہے وہ اس کا شعور رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں‘ سبائی ایجنٹ ہیں. ہمارا موقف یہ ہے کہ 
’’ الصحابۃ کلہم عدول‘‘ . کوئی بدنیتی اور نفسانیت نہ حضرت عثمان میں تھی نہ حضرت علی میں‘ نہ حضرت معاویہ میں تھی نہ حضرت مغیرہ بن شعبہ میں‘ نہ حضرت عمرو بن العاص میں تھی نہ حضرت ابو موسیٰ اشعری میں ‘ نہ حضرت حسین بن علی میں تھی نہ حضرت عبداللہ بن عباس یا عبداللہ بن عمر میں‘ رضوان اللہ علیہم اجمعین. ہاں ایک فتنہ تھا جس نے ہر مرحلہ پرجب بھی مصالحت و مفاہمت کی صورت پیدا ہوتی نظر آئی‘ اس کو تارپیڈو کیا اور اس کے بجائے ایسی نازک صورتِ حال (Critical Situation) پیدا کر دی کہ کشت و خون ہو‘ مسلمان ایک دوسرے کی گردنوں پر تلواریں چلائیں ‘ فتنہ اور بھڑکے ‘حق کے سیلاب کے آگے بند باندھا جا سکے اور ؏ ’’رکتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا‘‘ والی صورت ختم ہو سکے.چنانچہ کون انصاف پسند ایسا ہو گا جو نہ جانتا ہو کہ حضرت ذوالنورین ؓ کی مظلومانہ شہادت سے لے کر کربلا کے سانحۂ فاجعہ تک مسلمانوں کی آپس میں جو مسلح آویزش رہی ہے‘ اس میں درپردہ ان سبائیوں ہی کا ہاتھ تھا. مستند تواریخ اس حقیقت پر شاہد ہیں‘ البتہ ان کو نگاہِ حقیقت بین اور انصاف پسندی کے ساتھ پڑھنا ہو گا.

جنگ ِ جمل میں حضرت علی ؓ کو فتح ہوئی. آنجناب نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ بالکل وہی جو ایک بیٹے کو ماں کے ساتھ کرنا چاہئے. چالیس خواتین اور حضرت صدیقہؓ کے لشکر کے معتبر ترین لوگوں کے ہمراہ پورے ادب و احترام کے ساتھ اُن کو مدینہ منورہ پہنچا دیا. معلوم ہوا کہ نہ ذاتی دشمنی تھی نہ بغض و عناد. اور اِدھر کیا ہوا؟ معاذ اللہ‘ ثم معاذ اللہ‘ کیا امیر یزید نے خاندانِ رسالت ‘ؐ کی خواتین کو اپنی لونڈیاں بنایا؟ آخر وہ دِمشق بھیجی گئی تھیں‘ لیکن وہاں کیا ہوا؟ ان کا پورا احترام کیا گیا‘ ان کی دلجوئی کی گئی‘ ان کی خاطر و مدارات کی گئی. امیر یزید نے انتہائی تاسف کا اظہار کیا اور کہا کہ’’ ابن زیاد اس حد تک نہ بھی جاتا تو بھی میں اس سے راضی رہ سکتا تھا.

کاش وہ حسین ؓ کو میرے پاس آنے دیتا‘ ہم خود ہی باہم کوئی فیصلہ کر لیتے‘‘. لیکن کربلا میں جو کچھ ہوا ‘وہ اس فتنے کی وجہ سے ہوا جو کوفیوں نے بھڑکایا تھا . وہ اپنی دو عملی اور منافقت کی پردہ پوشی کے لیے نہیں چاہتے تھے کہ مصالحت و مفاہمت کی کوئی صورت پیدا ہو. ان کو جب محسوس ہوا کہ ہماری سازش کا بھانڈا پھوٹ جائے گا تو انہوں نے وہ صورتِ حال پیدا کر دی جو ایک نہایت دردناک اور الم انگیز انجام پر منتج ہوئی. یہ سانحۂ فاجعہ انتہائی افسوس ناک تھا‘ اس سے کون اختلاف کر سکتا ہے! اس نے تاریخ پر جو گہرے اثر ڈالے ہیں‘ وہ اظہر من الشمس ہیں .اس کڑوے اور کسیلے پھل کا مزا اُمت چودہ سو سال سے چکھتی چلی آ رہی ہے. ان دو واقعات یعنی شہادتِ حضرت عثمان اور شہادتِ حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی وجہ سے ہمارے درمیان افتراق‘ انتشار‘ اختلاف اور باہمی دست و گریباں ہونے کی جو فضا چلی آ رہی ہے اس پر ان لوگوں کے گھروں میں گھی کے چراغ جلتے ہیں جنہوں نے اس کی بنیاد ڈالی. جہاں جہاں اس کے اثرات پہنچے ‘ درحقیقت کامیابی ہوئی ہے ان کو جو دراصل ان فتنوں کی آگ کو بھڑکانے والے تھے. اب کوئی یزید کے نام کو گالی بنائے پھرتا ہے‘ کسی نے شمر کے نام کو گالی بنایا ہوا ہے‘کوئی عمرو بن سعد کے نام کو گالی بنائے ہوئے ہے. یہاں تک بات پہنچی ہے کہ لوگ حضرت امیرمعاویہ ؓ کی شان میں بھی توہین آمیز اور گستاخانہ انداز اختیار کرنے سے نہیں چوکتے.اللہ تعالیٰ ایسے سب لوگوں کو ہدایت دے اور ہمیں ان میں شامل ہونے سے بچائے اور اپنی پناہ میں رکھے‘ اور نبی اکرم: کے اس فرمان مبارک کو ہمیشہ مدنظر رکھنے کی توفیق عطا فرمائے کہ:

’’اَللّٰہ اَللّٰہ فِیْ اَصْحَابِیْ لَا تَتَّخِذُوْہُمْ غَرَضًا مِّنْ بَعْدِیْ فَمَنْ اَحَبَّہُمْ فَبِحُبِّیْ اَحَبَّہُمْ وَمَنْ اَبْغَضَہُمْ فَبِبُغْضِیْ اَبْغَضَہُمْ…‘‘
وآخِرُ دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العلمین