(iii) تیسری منزل: اقامت ِدین کی جدوجہد اور خواتین

اب آیئے تیسری منزل کی طرف. یہ اقامت دین‘ اسلامی انقلاب یا تکبیر رب کی منزل ہے. اس سطح پر ایک ایسی منظم جماعت کی تشکیل ناگزیر ہے جس کی حیثیت ایک بنیانِ مرصوص کی ہو اور جو باطل نظام کی تبدیلی کے لیے نہ صرف یہ کہ ایک عوامی تحریک برپا کر سکے‘ بلکہ قتال فی سبیل اللہ کے کٹھن اور جاں گسل مراحل سے گزرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہو. لیکن یہ وہ ذمہ داری ہے جس سے انتہائی ناگزیر حالات اور ہنگامی صورت حال کے سوا اللہ نے خواتین کو بری کیا ہے. اس ضمن میں بعض خواتین و حضرات کو شاید مغالطہ ہو جاتا ہے. ان کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خواتین نے بھی ہجرت کی ہے‘ اور اس راہ میں خواتین کی گردنیں بھی کٹی ہیں. مثلاً حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر حضرت یاسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جان قربان کی ہے‘ اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت کی ہے. تو چونکہ جان کا نذرانہ دینا اورہجرت کرنا صحابیاتl سے ثابت ہے‘ لہذا خواتین کو بھی اللہ کی راہ میں سربکف نکلنا چاہیے. 

اس استدلال میں جو مغالطہ ہے اسے سمجھنا بہت ضروری ہے. اصل میں ان خواتین صحابیات رضی اللہ عنھن کی ہجرت اور شہادت کی نوعیت پہلی منزل ہی کے تتمہ کی تھی‘ کیونکہ اگر ایمان پر گردن کٹتی ہو‘ جو اسلام کی پوری عمارت کی جڑ اور بنیاد ہے تو مسلمان خاتون بھی مسلمان مرد کی طرح اپنی گردن کٹوائے گی اوریہاں کوئی فرق نہیں ہو گا. حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے توحید کی بنیاد پر جان دی. ابوجہل دباؤ ڈال رہا تھا کہ توحید سے برگشتہ ہوجاؤ اور شرک کی روش اختیار کرو‘ میرے معبود کی بھی کچھ نہ کچھ الوہیت تسلیم کرو. حضرت سمیہ اور ان کے شوہر حضرت یاسر ( رضی اللہ عنہما ) نے اس سے انکار کیا اور دونوں شہید کر دیے گئے. لیکن یہ بجائے خود ’’قتال فی سبیل اللہ‘‘ اورمیدان میں آکر باطل سے پنجہ آزمائی کا مرحلہ نہیں ہے‘ بلکہ انہوں نے ایمان پر ثابت قدم رہتے ہوئے ہرجبر و تشدد کو برداشت کیا‘ حتیٰ کہ اپنی جان قربان کر دی.

اور آج بھی اگر کسی مؤمنہ مسلمہ خاتون کے لیے ایسی صورت حال پیدا ہو جائے کہ اسے کفر اختیار کرنے یا جان کا نذرانہ دینے میں سے ایک بات کا انتخاب کرنا پڑے تو اس کے لیے عزیمت کی راہ یہی ہے کہ وہ کفر اختیار کرنے کی بجائے اپنی جان قربان کر دے‘ اگرچہ اسلام نے رخصت کا راستہ اختیار کرنے کی اجازت بھی دی ہے کہ اگر دل میں کفر کا شائبہ پیدا نہ ہو تو کلمۂ کفرکہہ کر جان بچائی جا سکتی ہے. چنانچہ حضرت سمیہ اور حضرت یاسر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے یہی کیا تھا کہ وقتی طور پر کلمہ ٔ کفر کہہ کر جان بچا لی. یہ واقعتا بڑی عجیب بات ہے کہ بوڑھے والدین نے عزیمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے جان دے دی اور کلمۂ کفر ادا نہیں کیا. اور یہ عزیمت بالکل مختلف چیز ہے. یہ جہاد و قتال میں گردن کٹوانا نہیں ہے‘ بلکہ ایمان پر قائم رہنے کے لیے جان کی بازی لگا دینا ہے. اسی طرح ہجرت کا معاملہ ہے کہ جہاں دین پر قائم رہنا ممکن نہ رہے وہاں سے ہجرت کر جانا مسلمان مرد و عورت دونوں کے لیے لازم ہے. چنانچہ حضرت رقیہ‘ حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہما اور دیگر خواتین نے اپنے محرموں کے ساتھ ہجرت کی‘ کیونکہ مکہ میں رہتے ہوئے ان کے لیے توحید پر قائم رہنا ناممکن ہو گیا تھا. بہرحال یہ وہ باتیں ہیں جو مسلمان مردوعورت دونوں کے لیے ضروری ہیں اور اس سلسلے میں دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے. یہی بات ہے جو سورۂ آلِ عمران کے آخر میں آئی ہے:

فَاسۡتَجَابَ لَہُمۡ رَبُّہُمۡ اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی ۚ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَ قٰتَلُوۡا وَ قُتِلُوۡا لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ (آیت ۱۹۵)
’’پس جواب میں ان کے رب نے فرمایا: میں تم سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں‘ خواہ مرد ہو یاعورت‘ تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو. لہذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لیے لڑے اور مارے گئے ان سب کے قصور میں معاف کر دوں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی.‘‘

ان تمام افعال میں مرد و خواتین برابر کی شریک ہیں. مردوں کی طرح خواتین کو بھی اللہ کے راستے میں ایذائیں پہنچائی گئیں‘ انہیں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں ہجرت پر مجبور کیا گیا. چنانچہ انہوں نے ہجرت بھی کی اور توحید پر قائم رہنے کے لیے اپنی گردنیں بھی کٹوائیں… لیکن دوسری طرف محمد رسول اللہ اور آپ ؐ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرب میں جو انقلابی تحریک برپا کی اور جس طرح جہاد و قتال کے مراحل طے کیے اس میں خواتین کہیں شریک نظر نہیں آتیں. اس ضمن میں میں نے جو چند باتیں نوٹ کی ہیں‘ وہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں.

رسول اللہ نے ہجرت کے فوراً بعد جو آٹھ مہمیں بھیجی ہیں‘ ان میں کسی خاتون کا کوئی تذکرہ تک موجود نہیں. اللہ کی راہ میں سب سے پہلی باقاعدہ جنگ غزوۂ بدر ہے‘ جسے قرآن ’’یوم الفرقان‘‘ سے تعبیر کرتا ہے‘ اور اس کی تمام تفاصیل کتب حدیث و سیرت میں موجود ہیں. اس میں کسی خاتون کی شرکت کا کوئی تذکرہ نہیں. اب ہمیں یہیں سے تو سمجھنا ہے کہ دین کا مزاج کیا ہے اور دین کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریاں کیا ہیں؟ دین کا ہم سے مطالبہ کیا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ جہاد و قتال کے ضمن میں خواتین کی کچھ ایسی ذمہ داریاں ہوتیں جو حضور ہمیں نہ بتاتے؟ معاذ اللہ‘ ثم معاذ اللہ! آپؐ اگر ایسا کرتے تو اللہ کے ہاں آپؐ کی بہت سخت مسؤلیت ہو جاتی. تو ہمیں یہ معروضی طور پر (Objectively) سمجھنا ہے کہ خواتین کی ذمہ داریاں کیا ہیں‘ نہ کہ خود اپنی طرف سے کچھ اضافی ذمہ داریاں عائد کرنا ہیں. صرف غزوۂ اُحد میں خواتین کی میدانِ جنگ میں موجودگی کا ذکر ملتا ہے‘ جبکہ انتہائی ایمرجنسی کی کیفیت پیدا ہو چکی تھی. مدینہ منورہ میں ستر(۷۰)صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شہادت کی اطلاع پہنچی تھی اور اس کے ساتھ یہ خبر بھی اڑ گئی تھی کہ رسول اللہ بھی شہید ہو گئے ہیں. اس پر پورے مدینے کے اندر ایک کہرام مچ گیا تھا. یہ معرکہ مدینے سے ڈھائی تین میل کے فاصلے پر ہو رہا تھا. چنانچہ کچھ خواتین والہانہ انداز میں دامن ِاُحد کی طرف دوڑیں اور انہوں نے زخمیوں کو پانی بھی پلایا اور ان کی مرہم پٹی وغیرہ بھی کی. 

یہ ایک بالکل ہنگامی صورت حال اور استثنائی کیفیت تھی. اس طرح کی استثنائی ہنگامی صورت حال اب بھی پیدا ہو سکتی ہے. فرض کیجئے کہ لاہور پر حملہ ہو جائے اور یہاں پر گھر گھر مورچے لگا کر جنگ کرنی پڑے تو ظاہر بات ہے کہ خواتین بھی شریک ہو جائیں گی اور وہ اس ملک کے تحفظ اور دفاع کے لیے اپنے مردوں کا ساتھ دیں گی. تو غزوۂ اُحد کے بارے میں یہ بات نوٹ کر لیجئے کہ وہاں ایک انتہائی ہنگامی صور ت حال پیدا ہوگئی تھی جس کی بنا پر خواتین کو اس میں شریک ہونا پڑا. اس کے علاوہ ایک ضروری بات نوٹ کرنے کی یہ ہے کہ غزوۂ احد تک ابھی حجاب کا حکم نازل نہیں ہوا تھا. اس کے بعد غزوۂ اَحزاب میں‘ جو شدید ترین آزمائش کا مرحلہ تھا اور جس کے بارے میں قرآن مجید میں وَ زُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِیۡدًا ﴿۱۱﴾ (الاحزاب) ’’اور بڑی شدت سے ہلا ڈالے گئے!‘‘ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں‘ کوئی خاتون محاذِ جنگ پر نہیں آئیں‘ بلکہ وہاں خواتین کو ایک بڑی حویلی کے اندر جمع کردیا گیا تھا. یہ الگ بات ہے کہ ایک یہودی مشتبہ حالت میں ادھر آرہا تھا تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہانے خیمے کی چوب نکال کر اسے ضرب لگا کر مار دیا. یاد رہے کہ حجاب کا حکم اوّلاً سورۃ الاحزاب میں آیا ہے جو غزوۂ احزاب کے بعد نازل ہوئی ہے‘ جبکہ سورۃ النور مزید ایک سال بعد ۶ ھ میں نازل ہوئی.

۷ھ میں غزوۂ خیبر پیش آیا. اس غزوہ سے متعلق یہ واقعہ کتب حدیث میں موجود ہے‘ جس سے غزوۂ خیبر میں خواتین کے کردار پر روشنی پڑتی ہے. اس واقعے کو امام احمد رحمہ اللہ علیہ نے اپنی مسند اور امام ابوداؤد رحمہ اللہ علیہ نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے:

’’حشرج بن زیاد ؒ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ غزوۂ خیبر کے موقع پر آنحضور کے ساتھ پانچ خواتین کے ہمراہ باہر نکلیں‘ جن میں چھٹی وہ خود تھیں. وہ کہتی ہیں کہ جب حضور کو ہمارے نکلنے کی اطلاع ہوئی تو آپؐ نے ہمیں بلوایا. جب ہم حاضر ہوئیں تو آپ کو غضبناک پایا. آپؐ نے پوچھا: تم کس کے ساتھ نکلی ہو اور کس کی اجازت سے نکلی ہو؟ ہم نے عرض کیا: ہم اون کاتیں گی اور کچھ اللہ کی راہ میں کام کریں گی. ہمارے پاس کچھ مرہم پٹی کا سامان بھی ہے. ہم (مجاہدین کو) تیر پکڑا دیں گی‘ انہیں ستو گھول کر پلا دیں گی. آپ نے فرمایا: اٹھو‘ واپس چلی جاؤ! پھر جب اللہ نے خیبر فتح کرا دیا تو حضور اکرم نے (مال غنیمت میں سے) ہمارے لیے بھی مردوں کی طرح حصہ نکالا. حشرج کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: دادی جان! (مال غنیمت میں سے) کیا چیز ملی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: کچھ کھجوریں!‘‘

اس حدیث میں رسول اللہ کا ان خواتین سے یہ استفسار کہ تم کس کے ساتھ نکلی ہو اور کس کی اجازت سے نکلی ہو‘ بہت اہم ہے. اس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ کوئی خاتون اگر کہیں باہر نکلتی ہے تو سب سے پہلے اس سے یہ پوچھا جائے گا کہ اس کے ساتھ محرم ہے یا نہیں؟ سیرت کا یہ اہم واقعہ ہماری خواتین کو پیش نظر رکھنا چاہیے.
مزید برآں ’’الاستیعاب‘‘ میں منقول حضرت اسماء بنت یزید ( رضی اللہ عنہا) کا واقعہ بھی اس ضمن میں بہت اہم ہے. ہمارے ہاں بہت سی خواتین میں جب دینی جذبہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی حدود سے تجاوز کر جاتی ہیں‘ اور یہ خواتین خود دین کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی رعایت نہ رکھتے ہوئے ‘اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں کوتاہی کرتے ہوئے‘ اور بچوں کی پرورش کے فریضے کو پامال کرتے ہوئے دین کا کام کرنا چاہتی ہیں. ایسی خواتین کے لیے سیرت کا یہ واقعہ نہایت فیصلہ کن اور سبق آموز ہے. حضرت اسماء ؓ بنت یزید ایک انصاریہ خاتون ہیں اوریہ مشہور صحابی حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی پھوپھی زاد بہن ہیں‘ جن کے متعلق حضور نے فرمایا تھا: اَعْلَمُھُمْ بِالْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ ابْنُ جَبَل. ان کے متعلق روایت ہے کہ وہ ایک مرتبہ نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ مجھے عورتوں کی ایک جماعت نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے. وہ سب کی سب وہی کہتی ہیں جو میں عرض کرتی ہوں اور سب وہی رائے رکھتی ہیں جو میں آپؐ کے سامنے پیش کر رہی ہوں. عرض یہ ہے کہ:

’’ آپ کو اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے. چنانچہ ہم آپؐ پر ایمان لائیں اور ہم نے آپؐ کی پیروی کی. لیکن ہم عورتوں کا حال یہ ہے کہ ہم پردوں کے اندر رہنے والیاں اور گھروں کے اندر بیٹھنے والیاں ہیں. ہمارا کام یہ ہے کہ مرد ہم سے اپنی خواہش پوری کر لیں اور ہم ان کے بچے لادے لادے پھریں. مرد جمعہ و جماعت‘ جنازہ و جہاد ہر چیز کی حاضری میں ہم سے سبقت لے گئے. وہ جب جہاد پر جاتے ہیں تو ہم ان کے گھر بار کی حفاظت کرتی ہیں اور ان کے بچوں کو سنبھالتی ہیں. تو کیا اجر میں بھی ہم کو ان کے ساتھ حصہ ملے گا؟‘‘
آنحضور نے ان کی یہ فصیح و بلیغ تقریر سننے کے بعد صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’کیا آپ لوگوں نے اس سے زیادہ بھی کسی عورت کی عمدہ تقریر سنی ہے‘ جس نے اپنے دین کی بابت سوال کیا ہو؟‘‘
تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قسم کھا کر اقرار کیا کہ نہیں یا رسول اللہ! اس کے بعد آنحضرت حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

’’اے اسماء! میری مدد کرو اور جن عورتوں نے تمہیں اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے ان تک میرا یہ جواب پہنچا دو کہ تمہارا اچھی طرح خانہ داری کرنا‘ اپنے شوہروں کو خوش رکھنا اور ان کے ساتھ ساز گاری کرنا مردوں کے ان سارے کاموں کے برابر ہے جو تم نے بیان کیے ہیں.‘‘

حضرت اسماء رضی اللہ عنہارسول اللہ کی یہ بات سن کر خوش خوش اللہ کا شکر ادا کرتی ہوئی واپس لوٹ گئیں اور انہوں نے اس پر کسی انقباض کا اظہار نہیں کیا.

اس واقعے میں ہماری خواتین کے لیے یہ سبق ہے کہ ہماری محنت و کوشش کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ ہم اللہ کے ہاں اپنی ذمہ داریوں سے بریٔ الذمہ ہو جائیں. اللہ تعالیٰ نے اگر ایک ذمہ داری ڈالی ہی نہیں تو خواہ مخواہ اپنے اوپر اس ذمہ دای کا بوجھ لاد لینا اپنی جان پر ظلم کے مترادف ہے‘ اور یہ ایسا طرز عمل ہے جس کے جواب میں اللہ کی طرف سے نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی والا معاملہ پیش آ سکتا ہے. یعنی کوئی شخص اگر کسی ایسی ذمہ داری کو اختیار کر لے جو اس پر عائد نہیں کی گئی تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اسے اس ذمہ داری کے حوالے کر دیتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد‘ نصرت اور تائید شامل حال نہیں ہوتی. اور آدمی اگر حد سے تجاوز کر جائے تو اندیشہ ہے کہ وَ نُصۡلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿۱۱۵﴾٪ (النساء) کے الفاظ کے مطابق جنت کی طرف جانے کے بجائے جہنم کی طرف پیش قدمی ہو جائے. لہذا اس طرزِ عمل سے بچنا انتہائی ضروری ہے. اللہ تعالیٰ نے فریضہ اقامت دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کی جدوجہد مردوں پر فرض کی ہے اور عورتوں پر بھی یہ ذمہ داری براہ راست عائد نہیں کی. البتہ خواتین سے مطلوب یہ ہے کہ وہ اس جدوجہد میں اپنے مردوں کی معین و مددگار ہوں. بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور مردوں پر اس کا زیادہ بوجھ نہ پڑنے دیں. وہ مردوں کے لیے اس راہ میں زیادہ سے زیادہ وقت فارغ کرنا ممکن بنائیں. اُن پر اپنی فرمائشوں کا بوجھ اس طرح نہ لاددیں کہ وہ انہی مسائل میں اُلجھ کر رہ جائیں اور دین کی سربلندی کے لیے جہد وکوشش نہ کر سکیں. خواتین اگر ان امور کو مدنظر رکھتے ہوئے شوہروں سے تعاون کریں تو یہ ان کی طرف سے اقامت دین کی جدوجہد میں شرکت کا بدل بن جائے گا اور ان کے لیے اجر کثیر اور ثوابِ عظیم کا باعث ہو گا. اور خواتین کے لیے اس سے بڑھ کر خوش آئند بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ انہیں گھر بیٹھے بٹھائے مردوں کے برابر اجر و ثواب مل جائے!!