ہدف کی تعیین کی اہمیت

اس مسئلہ کی اہمیت مَیں آپ حضرات کے سامنے واضح کر دوں کہ حضور  کی سیرت مطہرہ میں بعض پہلو بظاہر متضاد نظر آتے ہیں. اور یہ تضادات اسی صورت میں حل ہو سکتے ہیں جب حضور کی زندگی کا ہدف اور مشن ہمارے سامنے ہو. دشمنانِ اسلام خاص طور پر مستشرقین نے ان پر اعتراضات بھی کئے ہیں اور حملے بھی. میں ان میں سے چند کا بطورِ مثال ذکر کرتا ہوں. مثلاً یہ کہ مَکّہ میں نبی اکرم  اور حضورؐ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سخت ترین مصیبتیں جھیل رہے ہیں‘ حضورؐ کے ساتھیوں کو دہکتے انگاروں پر لٹایا جا رہا ہے‘ مَکّہ کی سنگلاخ اور تپتی ہوئی زمین پر گردن میں رسی ڈال کر جانوروں کی لاش کی طرح گھسیٹا جا رہا ہے. ایک مؤمنہ کو نہایت بہیمانہ ہی نہیں بلکہ انتہائی کمینگی سے شہید کیا جا رہا ہے. ایک مؤمن کے ہاتھ پاؤں چار اونٹوں سے باندھ کر ان اونٹوں کو چار سمت میں ہانک دیا جاتا ہے کہ جسم کے چیتھڑے اڑ جاتے ہیں‘ لیکن جوابی کارروائی کی اجازت نہیں ہے. مَکّہ میں بارہ برس تک حضور  کے کسی جاں نثار نے مشرکین مَکّہ کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی‘ کوئی بدلہ نہیں لیا. اس لئے کہ حضور کا فرمان تھا کہ اپنے ہاتھ باندھے رکھو! کوئی جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی. حالانکہ مَکّہ میں جو حضرات گرامی دولت ِ ایمان سے مالامال ہوئے تھے ان میں سے ہر ایک شجاعت و بہادری میں اگر ایک ایک ہزار کے برابر نہیں تو ایک ایک سو کے برابر ضرور تھا . اور ان کی تعداد ایک سو کے لگ بھگ تھی. لیکن نبی اکرم کے حکم ’’ کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ‘‘ کی تعمیل میں کسی نے اپنی مدافعت میں بھی ہاتھ نہیں اٹھایا. ایک طرف یہ انتہا ہے‘ دوسری طرف مدنی دَور میں حضور  کے ہاتھ میں تلوار ہے‘ عَلم ہے .

آپ ؐ کے جاں نثار اصحابِ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاتھوں میں تلواریں ہیں‘ نیزے ہیں‘ تیر کمان ہے. جوابی کارروائی ہو رہی ہے‘ بلکہ جیسا کہ میں ’’ منہج انقلاب نبویؐ ‘‘ کے موضوع پر اپنی مسلسل تقریروں میں تفصیل سے بیان کر چکا ہوں ۱ ؎ کہ صرف جوابی کارروائی ہی نہیں بلکہ ہجرت کے بعد حضور نے اقدام میں پہل کی ہے . لیکن پچھلی چند صدیوں میں جب نہ صرف ہندوستان بلکہ عالم اسلام کے کثیر رقبہ پر مغربی سامراج کا سیاسی و عسکری استیلاء تھا اور اکثر مسلم ممالک کسی نہ کسی مغربی طاقت کے غلام تھے‘ حکمران اقوام کی طرف سے اسلام پر بڑے شدید اعتراضات کئے گئے کہ اسلام تو بڑا خونخوار مذہب ہے اور مسلمان بڑی خونی قوم ہے. اور اسلام تو تلوار کے زور پر پھیلا ہے ؏ ’’ بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے افسانوں سے‘‘. اغیار نے ہم پر یہ تہمت اس شدّ و مدّ سے لگائی کہ علامہ شبلی مرحوم جیسے عالمِ دین‘ سیرت نگار‘ مؤرخ نے بھی معذرت خواہانہ انداز اختیار کیا اور سیرت کی پہلی جلد میں لکھ دیا کہ نبی اکرم  اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ نے اقدام میں نہ پہل کی اور نہ تلوار اٹھائی ‘بلکہ تلوار اگر اٹھائی تو مجبوراً اور اپنی مدافعت میں اٹھائی. علامہ شبلی مرحوم تو پھر بھی اس معاملے میں قابلِ عفو قرار دیئے جا سکتے ہیں کہ ان کا دَور وہ تھا جب انگریز کی حکومت تھی‘ اس کا غلبہ تھا. لیکن مجھے نہایت حیرت اور افسوس اس بات پر ہے ‘اور یہ بات قابل اعتبار ذرائع سے میرے علم میں آئی ہے کہ حال ہی میں ایک دینی ۱ ؎ الحمدللہ اس موضوع پر ’’ منہج انقلاب نبویؐ ‘‘ کے نام سے ڈاکٹر صاحب موصوف کے دس خطابات کتابی شکل میں موجود ہیں. جماعت کے پلیٹ فارم سے ایک نامور عالمِ دین کی طرف سے پاکستان کی آزاد فضا میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’اسلام میں کوئی جارحانہ جنگ نہیں ہے بلکہ صرف مدافعانہ جنگ ہے. حضور اور خلافتِ راشدہ کے دَور میں جتنی جنگیں ہوئی ہیں وہ صرف دفاعی جنگیں تھیں ‘‘. اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ.

جبکہ ضمنی طور پر یہ مسئلہ زیر گفتگو آ گیا ہے تو ایک اہم اور اصولی بات عرض کر دوں کہ تصادم کا آغاز اصولاً داعی انقلاب کرتا ہے. اقدام اس کی جانب سے ہوتا ہے. آپ حضرات غور کیجئے کہ رسول اللہ  نے اپنی دعوت کا آغاز کہاں سے فرمایا! آپؐ نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور گلی گلی صدا بلند فرمائی یَااَیُّہَا النَّاسُ قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ تُفْلِحُوْا (مسند احمد) اس دعوت کے مضمرات اور مفہوم پر غور کیجئے‘ حضور فرما رہے ہیں کہ تمہارا مذہب غلط ہے اور اس مشرکانہ مذہب پر قائم شدہ تمہارا نظام فاسد ہے. یہ صدیوں سے قائم و رائج نظام کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے یا نہیں! مَکّہ کی پُرامن فضا میں نعرئہ بغاوت کس نے بلند کیا! پُرسکون شہری زندگی کے تالاب میں پتھر کس نے پھینکا کہ پورے تالاب میں ارتعاش کی لہریں اٹھ گئیں! …

اب اصل گفتگو کی طرف آئیے. میں عرض کر رہا تھا کہ ہجرت کے بعد مَکّہ والوں کے خلاف اقدام میں پہل حضور کی طرف سے ہوئی ہے. ہجرت کے بعد پہلے چھ مہینے حضور نے داخلی استحکام میں صرف فرمائے. اس کے بعد آپؐ نے غزوئہ بدر سے قبل آٹھ چھاپہ مار دستے بھیجے جن میں سے چار میں آپؐ خود سپہ سالار تھے. ان مہموں کے دو مقصد تھے. پہلا مقصد تھا قریش مَکّہ کے قافلوں کے راستوں کو مخدوش بنانا جو قریش کی معاشی زندگی کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتے تھے. اسے موجودہ دَور کی اصطلاح میں قریش کا 
(Economic Blockade) کہا جائے گا. دوسرا مقصد تھاقریش کی سیاسی ناکہ بندی . آج کی اصطلاح میں جو (Political Isolation & Containment of Quraish) کہلائے گا. چونکہ رسول اللہ نے مَکّہ اور مدینہ منورہ کے مابین بسنے والے بعض قبیلوں کو اپنا حلیف بنا لیا اور بعض کو غیر جانب دار کہ وہ جنگ کی صورت میں نہ حضور کا ساتھ دیں گے نہ قریش کا.انہی مہموں میں سے ایک مہم عبداللہ بن حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرکردگی میں وادیٔ نخلہ بھیجی. یہ وادی طائف اور مَکّہ کے مابین واقع ہے اور اس راستے سے قریش کے تجارتی قافلے طائف ہو کر یمن کے ساحل تک جاتے تھے. حضور کی ہدایت تھی کہ قریش کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھو اور ہمیں خبر دیتے رہو. انؓ کو لڑائی کا کوئی حکم نہیں دیا گیا. لیکن صورتِ حال ایسی پیش آئی کہ اس دستہ کی قریش کے ایک قافلے سے مڈبھیڑ ہو گئی جو کافی مالِ تجارت اور پانچ افراد پر مشتمل تھا. ان مشرکین میں سے ایک شخص قتل ہوا‘ دو افراد فرار ہو گئے ‘ دو کو قیدی بنا لیا گیا اور ان کو اور مالِ غنیمت کولے کر یہ حضراتؓ مدینہ واپس آ گئے. تفاصیل کے لئے نہ موقع ہے نہ وقت. بتانا یہ مقصود تھا کہ ہجرت کے چھ ماہ بعد آٹھ مہمات کی صورت میں اقدام کی پہل نبی اکرم کی طرف سے ہوئی اور پہلا مشرک مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوا.

مزید برآں یہ بات تو ساری دنیا کو معلوم ہے کہ حضور نے مدینہ تشریف لانے کے بعد متعدد جنگیں لڑی ہیں. جیسے قرآن مجید میں نقشہ کھینچا گیا ہے : 
یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیَقۡتُلُوۡنَ وَ یُقۡتَلُوۡنَ ۟ ’’ اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں‘ قتل کرتے بھی ہیں قتل ہوتے بھی ہیں‘‘. تو مَکّی زندگی اور مدنی زندگی کا فرق آپ کے سامنے ہے. ان میں بظاہر بہت بڑا تضاد موجود ہے.
یہی وجہ ہے کہ مشہور مؤرخ ٹائن بی (۱۸۸۹ء تا ۱۹۷۵ء ) 
(Toyn Bee) جسے اس دَور میں فلسفہ تاریخ میں اتھارٹی تسلیم کیا جاتا ہے‘ اس نے ایک جملے میں پورا زہر بھر دیا ہے. نقل کفر کفر نہ باشد. وہ کہتا ہے :

"Muhammad failed as a Prophet but succeeded as a statesman"
اس کے اس جملہ کی زہرناکی کو آپ نے محسوس کیا! وہ یہ کہہ رہا ہے کہ مَکّہ میں محمد ( ) کی زندگی تو نبیوں کے مشابہ ہے. دعوت ہے‘ تبلیغ ہے‘ وعظ ہے‘ نصیحت ہے‘ تلقین ہے‘ انذار ہے ‘ تبشیر ہے‘ صبر ہے‘ پتھراؤ ہو رہا ہے‘ لیکن جوابی کارروائی نہیں ہو رہی ہے. عیسائیوں کے جو آئیڈیل ہیں یعنی حضرت یحیی اور حضرت عیسیٰ علیہما الصلوٰۃ والسلام‘ ان کی زندگی کا نقشہ یہی تو تھا! حضرت مسیحؑ نے تلوار تو کبھی نہیں اٹھائی! حضرت مسیحؑ کبھی کسی حکومت کے سربراہ تو نہیں بنے! حضرت یحیی کے ہاتھ میں کبھی تلوار تو نہیں آئی! تو ٹائن بی کے نزدیک مَکّہ میں حضور کی جو سیرت نظر آتی ہے وہ نبوت کے نقشہ پر کچھ نہ کچھ پوری اترتی ہے. وہ اگرچہ حضور کی نبوت کی تصدیق نہیں کرتا لیکن یہ مانتا ہے کہ سیرت کا مَکّہ میں جو نقشہ ہے وہ نبیوں کی سیرت و زندگی سے مشابہ ہے ‘لیکن اس کے کہنے کے مطابق وہاں حضور ناکام ہو گئے. نعوذ باللّٰہ منْ ذالک. وہاں سے تو جان بچا کر نکلنا پڑا. البتہ اسے مدینہ میں محمد بالکل ایک نئی شکل میں نظر آتے ہیں. سپہ سالار ہیں‘ شہسوار ہیں‘ صدرِ مملکت ہیں‘ مدینہ کی شہری ریاست کے سربراہ ہیں‘ آپؐ ہی چیف جسٹس ہیں‘ مقدمات آ رہے ہیں اور آپؐ فیصلے صادر فرما رہے ہیں. معاہدے کر رہے ہیں‘ مدینہ آتے ہی یہود کے تینوں قبیلوں کو معاہدہ میں جکڑ لیا ہے‘ عرب کے دوسرے قبائل سے معاہدے ہو رہے ہیں. تو وہ کہتا ہے کہ یہ صورت تو ایک سیاستدان (statesmam) کی نظر آتی ہے.اس میں پیغمبرانہ شان اسے نظر نہیں آتی. اس کا کہنا ہے کہ سیاست دان کی حیثیت سے محمد: کامیاب ہو گئے‘ ان کی کامیابی بحیثیت پیغمبر نہیں تھی. 

اسی ایک جملہ کی شرح ہے جو ایک برطانوی مؤرخ مسٹر منٹگمری وہاٹ نے ایک دوسرے انداز سے کی ہے. آپ حضرات نے نام سن رکھا ہو گا. ابھی زندہ ہے‘ مرکزی حکومت کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ہر سال جو سیرت کانفرنس ہوتی ہے تو چند سال قبل مسٹر وہاٹ کو حکومت کی طرف سے مدعو کیا گیا تھا کہ وہ آ کر ہمیں سیرتِ مطہرہ سمجھائے. اس شخص نے سیرت پر دو کتابیں علیحدہ علیحدہ لکھی ہیں. ایک کا نام ہے 
(Muhammad at Makkah) اور دوسری کا نام ہے (Muhammad at Madina) ( ) اس نے حضور کی سیرت کو دو حصّوں میں بانٹ کر دراصل اس ظاہری تضاد کو نمایاں کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مَکّہ والے محمد ( ) اور ہیں اور مدینہ والے محمد ( ) اور ہیں . میں نے یہ مثال اس لئے دی ہے کہ کسی نہ کسی درجہ میں اور بظاہر تضاد واقعتا نظر آتا ہے. دشمنوں نے اسے (exploit) کیا اور اسے تنقید و تنقیص کا موضوع بنا لیا. لیکن ہمیں بھی یہ ماننا پڑے گا کہ دو: رنگ جدا ہیں. میں بعد میں وضاحت کروں گا کہ ان کا آپس میں ربط کیا ہے.

اب دوسری نمایاں مثال میں آپ کو بتاتا ہوں. آپ سب نے پڑھ رکھا 
ہو گا اور سن رکھا ہو گا کہ ۶ھ میں حدیبیہ کے مقام پر حضور اور قریشِ مَکّہ کے مابین صلح کاایک معاہدہ ہوا تھا جو صلح حدیبیہ کے نام سے سیرت کی تمام کتابوں میں موجود ہیں. اس صلح کی شرائط بڑی حد تک یک طرفہ نظر آتی ہیں اور بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضور نے دب کر صلح کی ہے. یہاں تک کہ صحابہ کرامؓانتہائی مضطرب اور بے چین تھے کہ دب کر کیوں صلح کی جا رہی ہے ! ہم اتنے کمزور تو نہیں‘ ہم حق پر ہیں‘ ہم حق کے لئے جانیں دینے کے لئے تیار ہیں. چودہ سو صحابہ کرامؓ موت پر بیعت کر چکے تھے. سب حضور کے دستِ مبارک پر عہد کر چکے تھے کہ ہم سب یہاں جانیں دے دیں گے پیٹھ نہیں موڑیں گے. پھر ہم دب کر صلح کیوں کر رہے ہیں .صلح کی شرائط میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ واپس جاؤ‘ احرام کھول دو‘ اس دفعہ عمرہ کی اجازت نہیں دی جائے گی. اوّل تو یہی بات صحابہ کرامؓ کے لئے ناممکن القبول تھی. احرام باندھ کر آئے تھے. چنانچہ صحابہ کرامؓ میں اضطراب پیدا ہوا کہ عمرہ کئے بغیر احرام کیسے کھول دیں! پھر ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مَکّہ کا کوئی شخص اپنے ولی اور سرپرست کی اجازت کے بغیر مدینہ جائے گا (یعنی اسلام قبول کر کے جائے گا) تو مسلمانوں کو اسے واپس کرنا ہو گا ‘لیکن اگر کوئی شخص مدینہ سے اسلام چھوڑ کر (مرتد ہو کر) مَکّہ آجائے گا تو اسے قریش واپس نہیں کریں گے. بڑی غیر منصفانہ بات تھی. اس پر صحابہ کرامؓ بڑے جزبز ہوئے‘ انؓ کے جذبات میں جوش و ہیجان پیدا ہوا کہ یہ صلح تو مساوی شرائط پر نہیں ہو رہی .

چنانچہ جب صلح نامہ پر دستخط کے بعد نبی اکرم نے صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ احرام کھول دیئے جائیں اور قربانی کے جو جانور ساتھ ہیں ان کی یہیں قربانی دے دی جائے ‘ اس وقت صحابہ کرامؓکے جذبات کا عالَم یہ تھا کہ کوئی نہیں اٹھا. کیفیت یہ تھی کہ گویا اعصاب اور اعضاء شل ہو گئے ہیں. سب ہی دل شکستہ تھے. حضور نے دو مرتبہ پھر فرمایا کہ احرام کھول دیئے جائیں اور قربانیاں دے دی جائیں ‘لیکن پھر بھی کوئی نہیں اٹھا. حضور  ملول اور رنجیدہ ہو کر خیمہ میں تشریف لے گئے. عام معمول یہ تھا کہ سفر میں حضور کے ساتھ کوئی نہ کوئی زوجہ محترمہؓ ہوتی تھیں. چنانچہ اس سفر میں حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا آپؐ کے ساتھ تھیں. حضور نے ان سے ذکر فرمایا. انہوں نے عرض کیا کہ حضور  ! آپ کسی سے کچھ نہ 
کہئے. بس آپؐ قربانی دے دیجئے اور احرام کھول دیجئے . حضور  باہر تشریف لائے قربانی دی اور حجام کو بلایا کہ میرے سر کے بال مونڈ دو اور آپؐ نے احرام کھول دیا. صحابہ کرامؓ نے جب یہ دیکھا تو اب سب کے سب کھڑے ہو گئے. جو صحابہ قربانی کے جانور ساتھ لائے تھے انہوں نے قربانیاں دیں اور تمام صحابہ کرامؓ نے حلق یا قصر کرا کے احرام کھول دیئے. اس صورتِ حال کی تاویل اور توجیہہ یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ پر اس وقت انتظار کی سی حالت طاری تھی‘ وہ اس خیال میں تھے کہ شاید کوئی نئی شکل پیدا ہو جائے‘ شاید نئی وحی آجائے. لیکن جب حضور  نے احرام کھول دیا تو حالت ِ منتظرہ ختم ہو گئی اور سب نے حکم کی تعمیل کی ‘ورنہ معاذ اللہ ہم صحابہ کرامؓ کے متعلق ہر گز کسی حکم عدولی کا گمان تک نہیں کر سکتے. میں نے یہ سارا پس منظر آپ حضرات کے سامنے قدرے تفصیل سے اس لئے رکھا ہے کہ آپ صحیح اندازہ کر سکیں کہ ۶ ھ میں حدیبیہ کے مقام پر جو صلح کا معاہدہ ہوا اس کی شرائط واقعتا غیر مساوی تھیں اور حضور اکرم  بظاہر دب کر صلح فرما رہے تھے. گویا اس وقت آپؐ بہرصورت صلح کرنا چاہتے تھے.

لیکن دو سال بعد جب ایک موقع پر قریش نے معاہدے کی ایک شق کی خلاف ورزی کی اور جب حضور  نے اس خلاف ورزی پر ان کی گرفت فرمائی تو قریش مَکّہ نے خود صلح کے خاتمے کا اعلان کر دیا .تب ابوسفیان کو جو اُس وقت پورے قریش کے قبیلہ کی سرداری کے منصب پر فائز تھے ‘یہ احساس ہوا کہ جذبات میں آ کر ہم سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے . یہ صلح ہمارے تحفظ 
(protection)کی حامل تھی. اس صلح کی تجدید ہونی چاہئے. چنانچہ ابو سفیان خود چل کر مدینہ پہنچے. سر توڑ کوششیں کیں. سفارشیں ڈھونڈیں کہ کسی طرح حضور  صلح کی تجدید کی منظوری دے دیں. لیکن بارگاہِ رسالت سے ابو سفیان کی صلح کی تجدید کے لئے کوئی مثبت جواب نہیں ملا. نبی اکرم  نے سکوت اختیار فرمایا. صلح کی تجدید کی حامی نہیں بھری. غور کیجئے یہاں بھی بظاہر ایک بڑا تضاد نظر آتا ہے. دو سال پہلے بظاہر دب کر صلح کر رہے ہیں. دو سال بعد قریش کے سردار کی طرف سے صلح کی درخواست ہو رہی ہے اور اس مقصد کے لئے وہ خود مدینہ آیا ہے لیکن حضور  صلح نہیں فرما رہے.

اب یہ جو ظاہری تضادات نظر آ رہے ہیں ان کے مابین ربط قائم ہو گا. لیکن یہ 
ربط کس چیز کے ذریعے قائم ہو گا؟ یہ ربط قائم ہو گا کہ نبی اکرم  کے اصل ہدف اور مقصود کی تعیین سے. جس کے لئے آغازِ نبوت سے مسلسل جدوجہد ہو رہی ہے. تو جان لیجئے کہ یہ ہدف اور یہ مقصود و مطلوب ہے ’’ اللہ کے دین کو غالب کرنا‘‘. اسی مقصد کے حصول کے لئے ایک وقت میں ہاتھ روکنے کا حکم ہے. مدافعت میں ہاتھ اٹھانے کی اجازت بھی نہیں ہے. ایک وقت میں ہاتھ کھولنے اور اقدام کرنے کا حکم ہے. ایک وقت میں اسی مقصد کے لئے صلح مفید ہے‘ لہذا صلح کی جا رہی ہے‘ اپنی انانیت کو آڑے آنے نہیں دیا جا رہا‘ دب کر اور کسی قدر شکست خوردگی کے انداز میں صلح کی جا رہی ہے اور ایک وقت میں اس مقصد کی خاطر جب صلح نہ کرنا مفید ہے تب صلح نہیں کی جا رہی ہے. تمام تضادات درحقیقت مقصد کو صحیح طور پر سمجھ لینے ہی سے رفع ہوتے ہیں. مستشرقین نے دراصل جو ٹھوکر کھائی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے رسولوں کی بعثت کے بنیادی مقصد ہی کو نہیں سمجھا.