سورۂ ابراہیم کا آغاز بھی قرآن مجید ہی کے ذکر سے ہوا کہ: 

الٓرٰ ۟ کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ لِتُخۡرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ۬ۙ 
’’ا ل ر. یہ وہ کتاب ہے جو ہم نے (اے نبیؐ !) آپ پر اس لیے نازل کی کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی میں لائیں!‘‘

اس کے بعد رسولوں اور ان کی قوموں کا ذکر ہوا‘حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قدرے تفصیل سے اور حضراتِ نوح‘ہود اور صالح علیہم السلام کا اجمالاً. اور اس میں نقشہ کھینچ دیا گیا کہ ان سب کی دعوت بھی وہی تھی جو آج نبی اکرم پیش فرما رہے ہیں اور ان کی قوموں نے بھی اُسی طرح کے بے بنیاد اعتراضات کیے تھے جیسے آج قریش مکہ خصوصاً اُن کے سردار کر رہے ہیں‘اور انہوں نے بھی اسی طرح اپنے رسولوں کو اپنی بستیوں سے نکال باہر کرنے کی دھمکی دی تھی جس طرح آنحضور اور ان کے جاں نثاروں پر مکہ کی سر زمین تنگ کر دی گئی ہے. اس سلسلے میں آخری بات جواز خود ظاہر تھی ‘بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی گئی کہ جس طرح اُن پر اللہ کے عذاب آئے اسی طرح تم بھی عذابِ الٰہی کے لیے تیار رہو. پھر گویا قریش کے عوام کو خطاب کر کے فرمایا گیا: آج تو تم اپنے سرداروں کے کہنے میں آ کر ہمارے نبی کی تکذیب کر رہے ہو اور ان کو ستانے سے بھی باز نہیں آتے‘ لیکن قیامت کے دن نہ تمہارے یہ سردار تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں گے اور نہ وہ شیطانِ لعین تمہارا ساتھ دے گا جو تمہارا اور تمہارے سرداروں اور پیشواؤ ںسب کا گُرو ہے. چنانچہ آیات ۲۱۲۲ میں نقشہ کھینچ دیا گیا:

’’اور پھر سب کے سب پیش ہوں گے اللہ کے سامنے‘تو کمزور (اور پس ماندہ) لوگ کہیں گے بڑائی والوں سے(اپنے سرداروں اور چوہدریوں سے): ہم تو تمہاری ہی پیروی کرتے رہے تو کیا اب تم لوگ ہمیں کسی قدر اللہ کے عذاب سے بچا سکتے ہو( اس میںکچھ کمی بھی کر اسکتے ہو یا نہیں)؟ تووہ کہیں گے کہ اگر اللہ نے ہمیں ہدایت دی ہوتی تو ہم بھی تم کو سیدھی راہ دکھا دیتے‘اب ہمارے لیے برابر ہے ہم صبر کریں یا فریاد‘بہرحال بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں!اور جب سارا معاملہ چُک جائے گا تو شیطان کہے گا: یقینااللہ نے بھی تم سے ایک وعدہ کیا تھا جو سراسر حق تھا (اور اُس نے اُسے پورا کر دیا ہے) اور میں نے بھی کچھ وعدے تم سے کیے تھے جو میں نے تم سے پورے نہیں کیے‘لیکن مجھے تم پر کوئی زور حاصل نہیں تھا‘سوائے اس کے کہ میں نے تم کو دعوت دی تو تم نے میری دعوت قبول کر لی ‘تو اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو. نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو!‘‘

اپنے نام کی مناسبت سے اس سورۂ مبارکہ کا ایک پورا رکوع حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر پر مشتمل ہے ‘اور انداز اس قدر دلنشیں ہے کہ آنجناب ؑ کی ایک دعا میں شرک سے بیزاری اورتوحید کا اقرار و اعلان بھی آ گیا. خانہ کعبہ کی تعمیر اور اس کے جوار میں اپنی نسل کی ایک شاخ کو آباد کرنے کا مقصد بھی بیان ہو گیا . بڑھاپے میں حضرت اسمٰعیل اور حضرت اسحق علیہما السلام ایسے بیٹے عطا ہونے پر ہدیۂ تشکر و اِمتنان بھی آگیا‘اور ذریت اسمٰعیل کے لیے دُعائے خیر بھی آ گئی‘ اور اپنے اور اپنے والدین اور کل اہل ایمان کے لیے دُعائے مغفرت بھی آ گئی.

سورت کے آخر میں کفار و مشرکین‘بالخصوص قریش مکہ اور ان کے سرداروں کو متنبہ کر دیا گیا کہ ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدوں کی خلاف ورزی کرے گا . وہ زبردست بھی ہے اور انتقام لینے والا بھی. اور یہ تنبیہہ ہے لوگوں کے لیے تاکہ خبردار ہو جائیں اور جان لیں کہ اللہ ہی اکیلا الٰہ ہے‘اور ہو ش مند لوگ یاد دہانی حاصل کر لیں. ہمارے سابق انبیاء و رُسل ؑکی قوموں نے بھی ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا تھا اور بڑی ڈھٹائی اور جسارت کے ساتھ ہم سے فیصلہ صادر کرنے کا مطالبہ کیا تھا. چنانچہ ہم نے ان کو ہلاک و برباد کر دیا. تو اپنے بارے میںاب تم خود سوچ لو.