نوافل

پانچ فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ کی تفصیل بحمد اللہ ہم سب کو معلوم ہے. ان کے علاوہ جن نوافل کی نبی اکرم  نے ترغیب و تشویق دلائی ہے اور فضیلت بیان کی ہے وہ یہ ہیں: 

تہجد : قرآن اور سنت دونوں سے تہجد کے نوافل کی سند اور ترغیب ملتی ہے. بلکہ آپ نے فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز تہجد کو قرار دیا ہے. 

نماز تراویح : 
دورِ نبویؐ ‘ دورِ صحابہ اور دورِ خلفائے راشدین ؓ میں یہ نماز پڑھی گئی.رمضان المبارک میں قیام اللیل اور خاص طور پر شب قدر کی عبادت کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے. 

نماز چاشت: 
یہ مستحب ہے‘ یعنی نبی اکرم  کا وہ فعل جو کبھی کبھی کیا ہو. کرنے کا ثواب ہے اور نہ کرنے کا گناہ نہیں ہے. بعض علماء کے نزدیک چاشت اور اشراق ایک ہی نماز کا نام ہے‘ جبکہ بعض کے نزدیک سورج نکلنے کے فوراً بعد کا وقت اشراق کا ہے اور زوال سے کچھ پہلے کا وقت چاشت کا ہے. 

تحیۃ المسجد: 
بخاری و مسلم کی حدیث ہے’’جب تم میں سے کوئی مسجد جایا کرے تو جب تک دو رکعت نفل نہ پڑھ لے نہ بیٹھے.‘‘ 

تحیۃ الوضوئ: صحیح مسلم میں نبی اکرم کا ارشاد ہے:’’جو شخص اچھی طرح وضو کر کے دورکعت نفل پورے خلوص سے پڑھ لیا کرے اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے.‘‘ 

نوافل سفر : 
سفر پر جانے سے پہلے دو نفل اور واپس گھر پہنچ کر دو نفل پڑھنا مستحب ہے. 
صلٰوۃ الاوّابین: 
یہ نوافل مغرب کے بعد دو دو رکعت کر کے چھ رکعات تک پڑھے جا سکتے ہیں. یہ ایک ضعیف حدیث سے ثابت ہیں. 

اس کے علاوہ استخارہ‘ توبہ اور حاجت کے لیے نوافل ادا کرنے‘ صلوٰۃ التسبیح اور مصیبت کے وقت نوافل وغیرہ کی سند ہمیں احادیث مبارکہ سے ملتی ہے.