مولانا ابوالکلام آزاد ایک زمانہ میں بہت بڑے انقلابی تھے‘ جنہوں نے ان کی زندگی کے حالات پڑھے ہیں ان کوعلم ہوگا کہ مولانا نے خود اعتراف کیا ہے کہ ایک زمانے میں ملک میں جو انقلاب پسند تھے جن کو انتہا پسند (Extremist) یا جن کو دہشت پسند (Terrorist) کہا جاتا ہے‘ مولانا آزاد کا ان سے بھی کچھ عرصہ تعلق رہا ہے. مولانا جلد ہی ان سے الگ ہوگئے. چونکہ انہوں نے علیٰ وجہ البصیرت اس طریقے کو صحیح نہیں سمجھا اور انہوں نے کانگریس کے ساتھ استخلاصِ وطن کے لیے تعاون کیا. لیکن کانگریس میں اعلیٰ مقام پر فائز رہنے کے باوجود تین باتیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں اور یقینی ہیں:
ایک یہ کہ مولانا نے اپنی وضع و قطع کو کبھی نہیں بدلا. کانگریس میں ہمیشہ اسی وضع کے ساتھ رہے.

دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے حقوق اور اسلام کے مفادات کو انہوں نے قربان کرنا تو درکنار کبھی نظر انداز بھی نہیں کیا. ان امور کے لیے وہ برابر مساعی و جدوجہد کرتے رہے.

تیسرے یہ کہ قرآن مجیدکا جو انقلابی فکر ہے اس کو اجاگر اور مہمیز کرنے والاتحقیقی حواشی کے ساتھ اس کا ترجمہ ان کے پیش نظر تھا‘ اس پر بھی وہ برابر کام کرتے رہے. اس کا قدرے تفصیلی ذکر میں آگے کروں گا.