بیعت کی تاکیدی اہمیت

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: 

مَنْ مَاتَ وَلَیْسَ فِی عُنُقِہٖ بَیْعَۃٌ مَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃً 
(۱
’’جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت کا قلادہ نہ تھا تو وہ جاہلیت کی موت مرا.‘‘

یعنی ایسا شخص حقیقی معنوں میں ایک مسلمان کی موت نہیں مرا. یہ حدیث بالکل واضح ہے‘ لیکن ہم میں سے اکثر لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ اگر ہم کسی متقی شخص کے ساتھ اپنے آپ کو بیعتِ ارشاد کے ذریعے وابستہ کر لیں تو اس حدیث پر عمل ہو جائے گا. یہ خیال بالکل غلط ہے! مذکورہ حدیث میں بیعت 
(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین عند ظھور المسلمین…سے مراد وہ بیعت ہے جو اُمت کی مجموعی ہیئت سے تعلق رکھتی ہے‘ اور اس کی صرف دو ہی صورتیں ممکن ہیں. ایک یہ کہ کم از کم شرائط پوری کرنے والی اسلامی ریاست یا نظامِ خلافت قائم ہو تو خلیفۃ المسلمین یا امیر المؤمنین کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی. اگر ایسا نہیں ہے تو مسلمانوں پر ایسی ریاست اور ایسا نظام بالفعل قائم کرنے کے لیے کوشش فرض ہو جاتی ہے‘ اور اس جدّوجہد کے لیے جو حزب اللہ قائم ہوگی ‘اس کے امیر سے بیعت کی جائے گی. 

ظاہر ہے کہ نظامِ خلافت آسانی سے قائم ہو جانے والی شے تو نہیں ہے‘ بلکہ اس کے لیے ہمیں جدوجہد کرنا پڑے گی اور بڑی بڑی قربانیاں دینا پڑیں گی. اپنا وقت‘ صلاحیتیں‘ اور وسائل کھپانے پڑیں گے. دنیا میں کوئی بھی بڑا کام اجتماعی جدوجہد کے بغیر نہ کبھی ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے. اگر اسلامی ریاست قائم نہیں ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے قائم کرنے کے لیے کوشش کریں‘ اور یہ کوشش ایک مضبوط اور منظم جماعت ہی کے ذریعے ہو سکتی ہے نہ کہ انفرادی طور پر. اور ایک مضبوط اور منظم جماعت صرف بیعت ہی کے اصول کو اختیار کر کے وجود میں لائی جا سکتی ہے.

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف ایک ہی ایسی صورت ہے جس میں ایک مسلمان کو بیعت کے بغیر زندگی گزارنے کی اجازت ہے. یعنی فتنے اور فساد کی وہ کیفیت جس میں کسی کو کسی کا ہوش نہ ہو‘ کسی کو معلوم نہ ہو کہ کیا ہو رہا ہے‘ ایسے میں کس کا ساتھ دینا چاہیے اور کیا کرنا چاہیے. اگر آپ کا خیال یہ ہے کہ آپ فتنہ و فساد کے عہد میں رہ رہے ہیں‘ اور اس لیے بیعت سے مستثنیٰ ہیں‘ تو جان لیجیے کہ ایسی حالت میں آپ کے لیے جائز نہیں کہ کسی مہذب معاشرے میں رہیں‘ بلکہ ضروری ہے کہ آپ ہر شے کو چھوڑ کر کسی جنگل میں جا بسیں. لیکن اگر آپ ایک نارمل زندگی گزار رہے ہیں‘ شہری زندگی اور ٹیکنالوجی کے تمام فوائد اور سہولتوں سے مستفید ہو رہے ہیں اور پھر بھی آپ کا خیال ہے کہ فتنہ و فساد کی وجہ سے آپ کو بیعت سے استثناء مل گیا ہے تو یہ خیال محض خود فریبی ہے.

اللہ تعالیٰ ہمیں ہمت دے کہ ہم حق کو اختیار کریں خواہ وہ کسی جگہ سے ملے‘ اور ہمیں توفیق دے کہ ہم مسلمان جئیں اور مسلمان مریں. اور توفیق دے کہ ہم وہ کام کریں جو اسے پسند ہوں. آمین

اقول قولی ھٰذا واستغفر اللّٰہ لی ولکم ولسائر المسلمین والمسلماتoo