نبی اکرم ﷺ کا بنیادی طریق کار

نبی اکرم  کا بنیادی طریق کار
یا 
انقلابِ نبویؐ کا اساسی منہاج


سورۃ الجمعہ کی روشنی میں مع اضافی مضامین


٭ آنحضور  کی دو بعثتیں
٭ خصوصی … اُمّیّین کی جانب
٭ عمومی … جملہ … اٰخَرِین
٭ حاملِ کتاب اُمّت کی ذمہ داریاں
٭ ان سے اعراض وروگردانی پر سزا وعقوبت
٭ اس ضمن میں یہود کی مثال!
٭ انبیاء کرامؑ کی امتوں میں عملی ا ضمحلال و اخلاقی زوال کا اصل سبب
٭ اللہ کے چہیتے ہونے کا زعم
٭ اصل فیصلہ کُن بات: زندگی عزیز تر ہے یا موت؟
٭ حکمت واحکام جمعہ

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ الۡمَلِکِ الۡقُدُّوۡسِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱﴾ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ٭ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ۙ﴿۲﴾وَّ اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳﴾ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۴﴾مَثَلُ الَّذِیۡنَ حُمِّلُوا التَّوۡرٰىۃَ ثُمَّ لَمۡ یَحۡمِلُوۡہَا کَمَثَلِ الۡحِمَارِ یَحۡمِلُ اَسۡفَارًا ؕ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵﴾قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ ہَادُوۡۤا اِنۡ زَعَمۡتُمۡ اَنَّکُمۡ اَوۡلِیَآءُ لِلّٰہِ مِنۡ دُوۡنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۶﴾وَ لَا یَتَمَنَّوۡنَہٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷﴾قُلۡ اِنَّ الۡمَوۡتَ الَّذِیۡ تَفِرُّوۡنَ مِنۡہُ فَاِنَّہٗ مُلٰقِیۡکُمۡ ثُمَّ تُرَدُّوۡنَ اِلٰی عٰلِمِ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ 

’’اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں بادشاہ پاک ذات زبردست حکمتوں والا. وہی ہے جس نے اٹھایا اَن پڑھوں میں ایک رسول انہی میں کا پڑھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیتیں اور ان کو سنوارتا ہے اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور عقلمندی، اور اس سے پہلے وہ پڑے ہوئے تھے صریح بھول میں.اور اٹھایا اس رسول کو ایک دوسرے لوگوں کے واسطے بھی انہی میں سے جو ابھی نہیں ملے ان میں، اور وہی ہے زبردست حکمت والا. یہ بڑائی اللہ کی ہے دیتا ہے جس کو چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے. مثال ان لوگوں کی جن پر لادی توریت پھر نہ اٹھائی انہوں نے جیسے مثال گدھے کی پیٹھ پر لے چلتا ہے کتابیں، بُری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی باتوں کو، اور اللہ راہ نہیں دیتا بے انصاف لوگوں کو. تو کہہ اے یہودی ہونے والو اگر تم کو دعویٰ ہے کہ تم دوست ہو اللہ کے سب لوگوں کے سوائے آرزو کرو اپنے مرنے کی اگر تم سچے ہو. اور وہ کبھی نہ منائینگے اپنا مرنا ان کاموں کی وجہ سے جنکو آگے بھیج چکے ہیں انکے ہاتھ، اور اللہ کو خوب معلوم ہیں سب گنہگار. تو کہہ موت وہ جس سے تم بھاگتے ہو سو وہ تم سے ضرور ملنے والی ہے پھر تم پھیرے جاؤ گے اس چھپے اور کھلے جاننے والے کے پاس 
فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ٪﴿۸﴾یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹﴾فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانۡتَشِرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ ابۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰﴾وَ اِذَا رَاَوۡا تِجَارَۃً اَوۡ لَہۡوَۨا انۡفَضُّوۡۤا اِلَیۡہَا وَ تَرَکُوۡکَ قَآئِمًا ؕ قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ مِّنَ اللَّہۡوِ وَ مِنَ التِّجَارَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿٪۱۱﴾ 
پھر جتلا دے گا تم کو جو تم کرتے تھے. اے ایمان والو جب اذان ہو نماز کی جمعہ کے دن تو دوڑو اللہ کی یاد کو اور چھوڑ دو خرید وفروخت، یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم کو سمجھ ہے. پھر جب تمام ہو چکے نماز تو پھیل پڑو زمین میں اور ڈھونڈو فضل اللہ کا اور یاد کرو اللہ کو بہت سا تاکہ تمہارا بھلا ہو. اور جب دیکھیں سودا بکتا یا کچھ تماشا متفرق ہو جائیں اس کی طرف اور تجھ کو چھوڑ جائیں کھڑا، تو کہہ جو اللہ کے پاس ہے سو بہتر ہے تماشے سے اور سوداگری سے، اور اللہ بہتر ہے روزے دینے والا. ‘‘

سورۃ الجمعہ کا ’عمود‘ اس کی آیت ۲ سے متعین ہوتا ہے، جس میں نبی اکرم  کا بنیادی طریقِ کار یا ’اساسی منہجِ عمل‘ بیان ہوا ہے. یعنی 
یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ٭ (لوگوں کو اللہ کی آیات سنانا، ان کا تزکیہ کرنا اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دینا!)
الحمدللہ کہ راقم الحروف نے جہاں سورۃ الصف کی مرکزی آیت پر مفصل ومدلل کلام کیا ہے ’’نبی اکرمؐ کا مقصدِ بعثت‘‘ نامی کتابچے میں، وہاں سورۃ الجمعہ کی اس مرکزی آیت پر بھی کافی وشافی بحث سپردِ قلم کر دی ہے، اپنے اس مقالے میں جو ’’انقلابِ نبویؐ کا اساسی منہاج‘‘ کے عنوان سے متذکرہ بالا کتاب میں بھی شامل ہے اور علیحدہ مطبوعہ بھی موجود ہے. بہرنوع اس مقام پر اس کے اعادے کی چنداں حاجت نہیں. 

’عمود‘ کی تعیین کے بعد اس سورۂ مبارکہ کے مضامین کا تجزیہ بہت آسان ہے! سورۃ الصف کی طرح سورۃ الجمعہ کا پہلا رکوع بھی دو حصوں پر مشتمل ہے. جب کہ اس کا دوسرا رکوع جو بالکل سورۃ الصف کی مانند 
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے، فی نفسہٖ ایک مکمل مضمون لئے ہوئے ہے. اس طرح باعتبارِ مضامین اس سورۂ مبارکہ کے بھی تین حصے ہوئے: 
حصہ اول چار آیات پر مشتمل ہے:

٭ پہلی آیت سورۃ الصف کے مانند ایک نہایت پُر جلال تمہید پر مشتمل ہے جس میں بات اصلاً وہی بیان ہوئی ہے جو سورۃ الصف کی پہلی آیت میں وارد ہوئی ہے. صرف اس فرق کے ساتھ کہ وہاں
’’سَبَّحَ ‘‘ تھا یعنی فعلِ ماضی اور یہاں ’’یُسَبِّحُ‘‘ ہے یعنی فعلِ مضارع، جو شامل ہے حال اور مستقبل دونوں کو. ان دونوں کو جمع کر لیا جائے تو ’زمان‘ کا کامل احاطہ ہو جاتا ہے، دوسری طرف مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ سے گویا کون ومکان کی کُل وسعت مراد ہے. اس طرح تسبیح باری تعالیٰ زمان ومکان کی جملہ وسعتوں کا احاطہ کر لیتی ہے.

اس آیۂ عظیمہ میں دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ اس کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے چار اسماءِ حسنیٰ آئے ہیں، جو ایک بہت غیر معمولی بات ہے اس لئے کہ عام طور پر آیات کے اختتام پر اسمائِ باری تعالیٰ دو، دو کے جوڑوں ہی کی صورت میں آتے ہیں. غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب عمود والی آیت ہے، جس میں آنحضورؐ کے اساسی منہجِ عمل کے بیان کے ضمن میں چار امور کا ذکر ہے. اور آنحضورؐ کی یہ چاروں شانیں دراصل عکس ہیں، اللہ تعالیٰ کے چار اسمائِ حسنیٰ کا! ’’تلاوتِ آیات‘‘ میں نقشہ ہے شہنشاہِ ارض وسماء 
(اَلْمَلِک) کے فرامین (Proclamations) کو بآوازِ بلند پڑھ کر سنانے کا. عملِ ’’تزکیہ‘‘ میں عکس جھلکتا ہے اللہ کی قُدّوسیّت کا (اَلْقُدُّوْس) ’’تعلیمِ کتاب‘‘ یعنی احکامِ شریعت اور قوانینِ حلال وحرام کی تعلیم میں ظہور ہوتا ہے اللہ کے اختیارِ مطلق کا یعنی یہ کہ وہ جو چاہے حکم دے. اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۱﴾ اور یہی مفہوم ہے اللہ کے (اَلْعَزِیْز) ہونے کا. اور ’’تعلیمِ حکمت‘‘ کا تعلق ہے الہ کے نامِ نامی واسمِ گرامی (اَلْحَکِیْم) سے!
٭ دوسری آیت جہاں اصلاً بحث کرتی ہے آنحضورؐ کے ’’اساسی منہجِ انقلاب‘‘ سے وہاں ضمنی طور پر اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضورؐ (اُمِّیِّین )ہی میں سے اٹھائے گئے اور آپؐ کی بعثت بھی اولاً واصلاً ان ہی کی جانب تھی. یہ گویا آپؐ کی ’’بعثتِ خصوصی‘‘ ہے. 
٭تیسری آیت نے آپؐ کی ’’بعثتِ عمومی‘‘ کو واضح کر دیا، جو (اِلٰی کَافَّۃٍ لِّلنَّاس) ہے اور روئے ارضی پر بسنے والی کل اقوام ومللِ عالم اور تاقیامِ قیامت جملہ ادوارِ تاریخ نوعِ بشر کو محیط ہے. اٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ کے الفاظ عجب وصل مع الفصل کی سی کیفیت کے حامل ہیں کہ اگرچہ وہ تمام اقوام جو بعد میں اس امت میں شامل ہوں گی ’’ملت کی وحدت میں گم‘‘ ہوتی چلی جائیں گی اور اس طرح ایک ہی امتِ مسلمہ کے اجزائے لا ینفک بنتی چلی جائیں گی. لیکن مقام اور مرتبے کے اعتبار سے اولیت کا جو شرف (اُمِّّیِّین ) کو حاصل ہو گیا ہے اس میں کوئی دوسری قوم ان کی شریک نہیں ہو سکتی اور اس اعتبار سے باقی سب کا شمار بہرحال اٰخَرِیْنَ ہی میں ہو گا.

٭چوتھی آیت نے اس فضیلت کے باب میں اٹل ضابطہ بیان فرمادیا، کہ یہ خالصۃً اللہ کی دَین ہے جسے چاہے دے! کسی کو اس پر نہ حسد کرنا چاہئے نہ افسوس اللہ کا سب سے بڑا فضل تو ہو انبی اکرمؐ پر
اِنَّ فَضۡلَہٗ کَانَ عَلَیۡکَ کَبِیۡرًا ﴿۸۷﴾ اس کے بعد فضیلت کا درجہ مل گیا بنی اسماعیل کو جن میں سے آپؐ اٹھائے بھی گئے اور جن کی جانب آپؐ کی اولین بعثت بھی ہوئی. چنانچہ ان ہی کی زبان میں نازل ہوا اللہ کا آخری اور ابدی سرمدی کلام. اور ان ہی کے رسوم ورواج اور اطوار وعادات میں قطع وبرید اور کمی بیشی کے ذریعے تیار ہوا اللہ کے آخری اور کامل شریعت کا تانا بانا! اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی حد تک جملہ فرائضِ نبوت ورسالت ادا کئے آنحضور  نے بہ نفسِ نفیس! ؏ ’’یہ نصیب اللہ اکبر! لوٹنے کی جائے ہے!‘‘ اس کے بعد ایک عمومی درجۂ فضیلت ہے جو حاصل ہے ہر امتی رسولؐ کو، خواہ وہ مشرقِ بعید کا زرد رُو انسان ہوخواہ افریقہ کا سیاہ فام. اور خواہ ہندی ہو خواہ ایرانی. اور خواہ ہزار سال پہلے پیدا ہو خواہ آج یا آج کے بعد بھی! 

حصہ دوم 
بھی چار ہی آیات پر مشتمل ہے اور اس میں بھی سورۃ الصف کے عین مانند بنی اسرائیل کا کردار زیر بحث آیا ہے اور اس ضمن میں اس سورت میں لامحالہ طور پر ان کے کردار کے اسی رخ کی نقاب کشائی کی گئی ہے جو اس کے عمود سے مناسب رکھتا ہے.

حصہ اول میں بیان شدہ مضامین کا لب لباب یہی تو ہے کہ آنحضورؐ کا کُل منہجِ عمل گھومتا ہے قرآن مجید کے گرد، اسی کے ذریعے انذار وتبشیر اور اسی کی تعلیم وتبلیغ کے ذریعے آپؐ نے 
اہلِ عرب کی کایا بھی پلٹ دی اور جزیرہ نمائے عرب کی حد تک انقلابِ اسلامی کی تکمیل بھی فرما دی. اگر آپؐ کی بعثت صرف (اُمِّّیِّین ) کے لئے ہوتی تو گویا اس پر جملہ فرائضِ رسالت کی تکمیل ہوجاتی. لیکن آپؐمبعوث ہوئے تھے پورے کرہ ارضی اور جمیع نوعِ انسانی کے لئے. لہٰذا بعثتِ محمدیؐ کے اس دوسرے مرحلے کے فرائض سپرد ہوئے امتِ محمد علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے جو ’’حامل‘‘ اور ’’وارث‘‘ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡرِثُوا الۡکِتٰبَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ مُرِیۡبٍ ﴿۱۴﴾ (الشوریٰ) ہوئی کتابِ الٰہی کی جو لوگوں کے قلوب واذہان کی تبدیلی کے ضمن میں ’’نسخۂ کیمیا‘‘ ہے اور نظامِ زندگی پر دینِ حق کو غالب ونافذ کرنے کے ضمن میں ’’آلۂ انقلاب‘‘! اب اگر امت اس کتابِ الٰہی ہی کو پس پشت ڈال دے تو یہ گویا اصل میں بحیثیتِ امت اپنے جملہ فرائضِ منصبی سے روگردانی کے مترادف ہے. چنانچہ یہی پیشگی تنبہیہ تھی جو آنحضورؐ نے امت مسلمہ کو فرمائی تھی کہ یَا اَھْلَ الْقُرْاٰنِ لَا تَتَوَسَّدُو الْقُراٰنَ (البیہقی عن عبیدہ الملیکیؓ ) یعنی ’’اے قرآن والو! قرآن کو تکیہ نہ بنا لینا. (جو پیٹھ پیچھے رکھا جاتا ہے) ‘‘ اور یہی تنبیہہ ہے جو قرآن مجید کی ان سورتوں کے گروپ کے عام اسلوب کے مطابق یہاں یہود کی عبرت انگیز مثال کے ذریعے کی جا رہی ہے. یعنی ’’بے شک وہ لوگ جو حاملِ تورات بنائے گئے تھے، پھر انہوں نے اس کی ذمہ داریوں کو ادا نہ کیا، اس گدھے کے مانند ہیں جس پر کتابوں کا بوجھ لدا ہو‘‘. اور اس پر اکتفا نہ کرتے ہوئے یہ بھی واضح فرما دیا کہ …(i) کتابِ الٰہی کے ساتھ یہ طرزِ عمل اس کی تکذیب کے مترادف ہے اور (ii) اس کی نقد سزا جو اسی دنیا میں ملتی ہے وہ اللہ کی توفیق وہدایت سے محرومی ہے. اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ ذٰلِکَ! 

راقم الحروف اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے اس کے قلم سے ’’مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق‘‘ ایسی تحریر نکلوا دی جس کو عوام وخواص سب نے پسند کیا اور جسے بعض اہلِ علم وفضل نے اس موضوع پر حرفِ آخر بھی قرار دیا. 

ایں سعادت بزورِ بازو نیست 
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ!

فلہ الحمد والمنہ… بہرحال یہاں صرف اس ربطِ کلام کی وضاحت کافی ہے. اس مضمون کی تفاصیل متذکرہ بالا کتابچے میں دیکھ لی جائیں.

حصہ دوم کی دوسری اہم بات اس مرض کی تشخیص ہے جس کے باعث کوئی مسلمان امت جہاد وقتال سے بھی پیٹھ موڑ لیتی ہے اور خود کتابِ الٰہی سے بھی محجوب ومہجور ہو جاتی ہے. …یعنی خدا کے محبوب اور چہیتے ہونے کے زعم 
نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰہِ وَ اَحِبَّآؤُہٗ ؕ …اور ساتھ ہی اس زعمِ باطل کی تردید وابطال کے لئے عملی کسوٹی (Practical Test) کی تعیین بھی فرما دی، یعنی یہ کہ اپنے دل میں جھانک کر دیکھو! موت عزیز تر ہے یا طولِ حیات؟ چنانچہ فوراً ہی ان کا پول بھی کھول دیا گیا کہ یہ موت سے انتہائی خائف اور گریزاں ہیں اور طولِ عمر کے حد درجہ شائق ودلدادہ (تقابل کے لئے دیکھئے ان آیات کا مثنّٰی سورۃ البقرہ میں آیات ۹۴ تا ۹۶). آخر میں نہایت زور دار الفاظ اور زجر وتوبیخ کے انداز میں فرما دیا کہ خواہ تم موت سے کتنا ہی بھاگو وہ وقتِ معین پر تمہارے سامنے آکھڑی ہو گی اور پھر تم لوٹائے جاؤ گے اس عالم الغیب والشہادہ کی جانب جو تمہارا سارا کچا چٹھا تمہارے سامنے کھول کر رکھ دے گا.

واضح رہے کہ ان آیات میں اصلاً مطلوب نہ یہود کو دعوت ہے نہ ملامت، یہ کام تو بتمام وکمال سورۃ البقرہ میں ہو چکا ہے. یہاں یہ دراصل ؏ ’’گفتہ آید درحدیثِ دیگراں!‘‘ کے انداز میں امتِ مسلمہ کو پیشگی طور پر خبردار کرنے کے لئے ہے اور یہی ہے وہ بات جو آنحضورؐ نے اس حدیث میں بیان فرمائی، جس میں آپؐ نے خبر دی کہ ایک زمانہ آئے گا کہ اقوامِ عالم تم پر ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے کسی دعوتِ طعام کا اہتمام کرنے والا دسترخون چنے جانے پر مہمانوں کو بلایا کرتا ہے. اس پر صحابہؓ نے سوال کیا کہ 
اَمِنْ قِلَّۃٍ نَحْنُ یَوْمَئِذٍ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ یعنی اے اللہ کے رسولؐ کیا یہ صورتِ حال ہماری تعداد کی کمی کے باعث ہو گی؟ تو جواباً اآپؐ نے ارشاد فرمایا نہیں تعداد تو تمہاری بہت ہو گی لیکن تم سیلاب کے اوپر کے جھاگ کے مانند ہو کر رہ جاؤ گے. اس لئے کہ تم میں وھن پیدا ہو جائے گا. پھر جب صحابہؓ نے پوچھا وَمَا الْوَھْنُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ اے اللہ کے رسولؐ یہ وھن کیا ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا حُبُّ الدُّنْیَا وَکَرَاہِیَۃُ الْمَوْت دنیا کی محبت اور موت سے نفرت وکراہت (رواہ ابوداؤدواحمد ابن حنبل رحمہما اللہ) 

حصہ سوم 
یا دوسرا رکوع کُل کا کُل ’’حکمت واحکامِ جمعہ‘‘ پر مشتمل ہے. یہود کی شریعت میں ’سبت‘ کے احکام بہت سخت تھے. اس پورے دن کے دوران کاروبارِ دنیوی مطلقاً حرام تھا اور حکم تھا کہ یہ پورا دن ذکر وشغل، تسبیح وتہلیل اور عبادت وریاضت میں بسر کیا جائے. امتِ مسلمہ کی خوش بختیوں کا کیا ٹھکانہ کہ:

اولاً … اسے اس فضیلت والے دن کی جانب از سرنو رہنمائی ملی جو ہفتہ کے دنوں کا سردار ہے، اور جسے یہود نے اپنی ناقدری کے باعث کھو دیا تھا. 

ثانیاً…حرمتِ بیع وشراء کا حکم صرف ایک تھوڑے سے وقفے تک محدود کر دیا گیا یعنی اذانِ جمعہ (اور وہ بھی اذانِ ثانی) سے لے کر نماز کے ادا ہو جانے تک! اس سے قبل اور اس کے بعد کے لئے ترغیب وتشویق تو نہایت زوردار ملتی ہے کہ اس پورے دن کو دین ہی کے لئے وقف کیا جائے (جیسا کہ بہت سی احادیث میں وارد ہوا ہے) لیکن اسے فرض نہیں کیا گیا.

ثالثاً… جمعہ کا پروگرام ایسا مرتب فرمایا گیا یعنی خطبہ ونماز کی ترتیب ایسی حسین رکھی گئی کہ وہ: 
وَ ذَکَرَ اسۡمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی ﴿ؕ۱۵﴾ کی کامل تصویر بن گئی. کہ پہلے کوئی نائبِ رسولؐ منبرِ رسولؐ پر کھڑے ہو کر فریضۂ تذکیر سرانجام دے (یہی حکمت ہے اس میں کہ آنحضورؐ جمعہ اور عیدین کی نمازوں میں بالعموم سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ پڑھا کرتے تھے، جن میں اسی ’تذکیر‘ کا حکم نہایت شدومد سے آیا ہے یعنی فَذَکِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّکۡرٰی ؕ﴿۹﴾ سورہ الاعلیٰ اور فَذَکِّرۡ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ ﴿ؕ۲۱﴾ سورہ الغاشیہ اور پھر مسلمان اللہ کے حضور میں دست بستہ ہو جائیں اور نماز ادا کریں.

ذرا غورکیا جائے تو یہ بات بالکل واضح طور پر نظر آتی ہے کہ جمعہ کے اس پروگرام میں اصل اہمیت خطبۂ جمعہ کی ہے. اس لئے کہ نماز تو ویسے بھی روزانہ پانچ بار پڑھی جاتی ہے اور خود نمازِ جمعہ بھی نمازِ ظہر کے قائم مقام ہے جس کی بجائے دو کے چار رکعتیں ہوتی ہیں. اس حقیقت کی جانب اشارہ سورۃ الجمعہ کی آخری آیت میں بھی ہے جس میں بعض مسلمانوں پر 
اس لئے عتاب فرمایا گیا کہ انہوں نے خطبۂ جمعہ کی اہمیت کو محسوس نہ کیا اور حکمِ جمعہ والی آیت میں بھی ہے جس میں فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ کے الفاظ وارد ہوئے اور ظاہر ہے کہ ذکر کا اطلاق اگرچہ نماز پر بھی درست ہے تاہم یہاں بدجۂ اولیٰ اس ’تذکیر‘ پر ہے جو اصل غرض وغایتِ خطبہ ہے. لیکن اس کی قطعی وحتمی تعیین ہوتی ہے اس حدیث شریف سے جس میں جمعہ کے لئے جلد آنے کی فضیلت کے درجات بیان ہوئے ہیں اور آخر میں فرمایا گیا ہے کہ 

فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طُوِیَتِ الصُّحُفُ وَرُفِعَتِ الْاَقْلَامُ وَاجْتَمَعَتِ الْمَلٰئِکَۃُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ یَسْتَمِعُوْنَ الذِّکْرَ فَمَنْ جَائَ بَعْدَ ذٰلِکَ جَائَ لِحَقِّ الصَّلٰوۃِ لَیْسَ لَہٗ مِنَ الْفَضْلِ شَیْیئٌ 

(ترجمہ) جب امام (خطبہ دینے کے لئے نکلتا ہے تو (حاضری کے) رجسٹر لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور قلم اٹھائے جاتے ہیں اور فرشتے منبر کے پاس توجہ سے خطبہ سننے کے لئے جمع ہو جاتے ہیں. تو جو شخص اس کے بعد آیا وہ صرف نماز ادا کرنے کے لئے آیا ہے. (جمعہ کی) فضیلت میں اس کے لئے کوئی حصہ نہیں ہے. 
(موطا امام مالک بحوالہ احیاء علوم الدین امام غزالیؒ ) 

جب یہ واضح ہو گیا کہ جمعہ کی اصل فضیلت خطبہ کی وجہ سے ہے اور خطبہ کی اصل غرض وغایت ہے ’تذکیر‘، تو واضح ہونا چاہئے کہ ’تذکیر‘ کے ضمن میں قرآن مجید میں صریح حکم وارد ہوا ہے کہ 
فَذَکِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ یَّخَافُ وَعِیۡدِ ﴿٪۴۵﴾ (سورہ ق آخری آیت ) چنانچہ حدیث شریف سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ خطبۂ جمعہ میں آنحضور  قرآن مجید کی آیاتِ مبارکہ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے. جیسا کہ مسلم شریف میں حضرت جابر ابنِ سمرہؓ کی روایت میں یہ الفاظ وارد ہوئے کہ ’’آنحضورؐ کے دو خطبے ہوتے تھے جن کے مابین آپؐ (تھوڑی دیر کے لئے ) بیٹھ جایا کرتے تھے. اور (خطبہ میں) آپؐ قرآن کی قراء ت فرمایا کرتے تھے. اور لوگوں کو تذکیر فرمایا کرتے تھے‘‘. درحقیقت نظامِ جمعہ کے ذریعے امت میں آنحضور  کے اسی عمل کو دوام اور تسلسل عطا کیا گیا ہے جو اس سورۂ مبارکہ کی آیت۲ میں یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ٭ کے عظیم اور بابرکت الفاظ میں بیان ہوا ہے. گویا اجتماعِ جمعہ کی حیثیت اس ’’حزبُ اللہ‘‘ کے ہفتہ وار اجتماع کی ہے جو نبی اکرم کے مقصدِ بعثت کی تکمیل یعنی ’’اظہارِ دین حق علی الدین کلہ‘‘ کے لئے قائم ہوا اورا س کا اہم ترین پروگرام قرآن مجید کی آیاتِ مبارکہ کی تلاوت اور اس کے علوم ومعارف کی تعلیم وتلقین ہے اس لئے کہ اس ’جماعت‘ کا اصل اور دائم وقائم اور غیر مبدل وغیر محرف ’’لٹریچر‘‘ قرآن حکیم ہی ہے.

اور اس طرح نہ صرف یہ کہ اس سورۂ مبارکہ کے تینوں حصے خود بھی ایک معنوی لڑی میں پروئے ہوئے نظر آتے ہیں بلکہ سورۂ ما قبل کے ساتھ مل کر ایک حسین وجمیل معنوی وحدت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جس میں آنحضورؐ کا مقصدِ بعثت بھی بیان ہو گیا، اس کی تکمیل کے لئے پُرزور دعوتِ سعی وعمل بھی آگئی اور اس کے لئے صحیح لائحہ عمل اور طریقِ کار بھی واضح ہو گیا. 
فَلَہُ الْحَمْدُ وَالشُّکْرُ