حیاتِ دنیوی کا قرآنی فلسفہ

اب میں چاہوں گا کہ آپ کو بتاؤں کہ اصل میں یہ قربانی حضرت ابراہیم (علیٰ نبیّنا و علیہ الصّلوۃ والسلام) کی زندگی میں کس اہمیت کی حامل ہے اور ان کی قربانیوں کا وہ کون سا سلسلہ ہے جس کا آخری نقطہ عروج (Climax) یہ واقعہ ہے. حیاتِ دنیوی کے سلسلے کا جو فلسفہ قرآن بیان کرتا ہے وہ سورۃ الملک کی دوسری آیت میں بڑی جامعیت کے ساتھ ہمارے سامنے آ جاتا ہے میں نے یہاں خاص طور پر ’’حیاتِ دنیوی کا فلسفہ‘‘ کے الفاظ ادا کئے ہیں، کیونکہ ہمارے دین کے نزدیک کُل حیات یہ نہیں ہے. حیاتِ انسانی بہت طویل ہے. بقولِ علامہ اقبال مرحوم؂

تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں،پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی!

لیکن یہ جو موت ہے اس کے ذریعہ سے حیاتِ انسانی کے طویل سلسلے کا ایک انتہائی قلیل ٹکڑا کاٹ لیا گیا ہے. یہ جو ٹکڑا کٹ گیا ہے، یعنی موت سے پہلے کی زندگی، تو اس حصے کو انسان دنیا میں بسر کر رہا ہے. اب سوچنا ہو گا کہ انسان کی اس دنیوی زندگی کی غرض و غایت کیا ہے! فرمایا : 

الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ 

’’وہ جس نے موت و حیات کا یہ سلسلہ اس لیے تخلیق فرمایا کہ (اس کے ذریعے) تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتا ہے.‘‘

یہ اس غرض و غایت کا بیان ہے. ’’ب ل و‘‘ ماد ہ عربی زبان میں جانچنے اور پرکھنے کے مفہوم میں آتا ہے. اسی سے باب افتعال میں لفظ ’’ابتلاء‘‘ ہے. اسی سے لفظ ’’بلویٰ‘‘ بنا ہے. اس ابتلاء کے ذریعے خوف کی حالت میں انسان کی ہمت، اس کے ثبات، اس کی عزیمت اور اس کے صبر کی آزمائش ہوتی ہے. یہ لفظ سورۃ الصافات کی ان آیات میں بھی آیا ہے جن میں حضرت ابراہیم ؑکی عظیم قربانی کا ذکر ہوا ہے. فرمایا : 
اِنِّ ھٰذَا لَھُوَالْبَلٰؤُ الْمُبِیْنُ ’’(اے ابراہیمؑ)یقیناً یہ ایک بہت ہی نمایاں ، واضح ، اور کھلی اور کٹھن آزما ئش تھی‘‘.

پس معلوم ہوا کہ خا لق کائنات کی طرف سے موت و حیات کا یہ نظام ابتلاء،آزمائش ، امتحان اور جانچنے اور پر کھنے کے لیے تخلیق فرمایا گیا ہے.ساتھ ہی اسی آیت میں ااس جا نچ اور پر رکھ کی غایت بھی بیان کر دی گئی کہ 
اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا یعنی وہ (اللہ تعالیٰ)یہ دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتا ہے. تم جو اس دنیا میں اپنے خالق کی ذات سے محجوب کر دئیے گئے ہو اور اصل حقاٰئق تمھاری نگاہوں سے اوجھل کر دیئے گئے ہیں. حقیقت الحقائق ذاتِ باری تعالیٰ ہے ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ الحق اللہ کی ذات ہے اور وہ آنکھوں سے اوجھل ہے. اب تمھاری آزمااٰئش اور تمھارا امتحان اس میں ہے کہ ہم نے تم کو جو استعدادات دی ہیں ـــــــــــــــــــــ،عقل ،نظر اور تفکرو تدبّرکی جو صلاحتیں عطا کی ہیں ، جو بصیرتِ باطنی عنایت کی ہے، تو ایک تو ان کے ذریعے ہم کو پہچانو.ان آنکھوں سے دیکھے بغیر دل کی آنکھوں سے ہمیں دیکھو اور ہماری معرفت حاصل کرو پہلی آزمائش یہ ہے.یہ تو گویا نظری ، فکری ،عقلی اور عملی آزمائش ہےکہ آیا تم حجابات ہی سے محجوب ہو کر رہ جاتے ہو، پردوں ہی کے نقش و نگار دیکھنے میں محو ہو جاتے ہو ،یہیں کی ظاہری آرائش و زیبائش تمہیں مبہوت کر دیتی ہے اور تم اسی کے اندر گم ہو کر رہ جاتے ہو، جس کو علامہ اقبال مرحوم نےیوں تعبیر کیا ہے ؏ ’’ کافر کی پہچان کی آفاق میں گم ہے‘‘ ہم نے تمہیں پردوں میں رکھا ہے.پھر پردے بھی بڑے خوش نما ہیں.اس زمین میں جو کچھ ہے اس کو ہم نے اس کی زینت کے لیے بنایا ہے. اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَی الۡاَرۡضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبۡلُوَہُمۡ اَیُّہُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾ گویا اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ دراصل اس زمین کی زیبائش و آرائش اور سنگھار ہے. اس میں بھی ایک آزمائش ہے ، ابتلاءہے، امتحان ہے.تو پہلی آزمائش عقل اور فکر و نظر کی آمائش ہے. انسان کی جو قوّت نظری ہے اس کا امتحان ہےکہ یہ انسان اپنے رب ،مالک اور خالق کو پہچانتا ہے یا نہیں جبکہ دوسری آزمائش انسان کی ارادے ، عمل اور سیرت و کردار پختگی سے متعلق ہے. اب اگر اپنے مالک و خالق حقیقی کو پہچان لیا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہئے کہ انسان اسی سے دل لگائے، اسی سے لوَ لگائے، اسی کو مطلوب و مقصود بناۓ، اس کی عبادت و ا طاعت کرے . اب قدم قدم پر امتحانات آئیں گے.دنیا کی چیزیں انسان کو اپنی طرف کھینچیں گی.بقولِ شاعر ؏ ’’اُدھر جاتا ہےدیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے!‘‘وہ ان آرائشوں او ر زیبائشوں کی طرف توجہ کرتا ہے یا ہماری طر ف متوّجہ ہوتا ہے.ان کو مطلوب و مقصود سمجھتا ہے یا ہمیں مطلوب و مقصود بناتا ہے. اگر اس کے سامنے یہ متبادل (alternative) راستے رکھ دئیے جائیں کہ اللہ کےراستے کو چھوڑو یا اپنے عزیزوں کو چھوڑو، وطن کو خیر باد کہہ دو ،تو دیکھیں وہ کون سا راستہ اختیار کرتا ہے. وہ وطن اور اپنے اعزّہ و اقارب کے حق میں فیصلہ کرتا ہےیا اللہ کے حق میں فیصلہ کرتا ہے! اگر اس کے سامنے یہ دو راہا آجاتا ہے کہ یا والدین کو چھوڑے یا اللہ کی توحید کو کو چھوڑے ، تو دیکھیں کہ کس کو چھوڑتا ہے! اگر اس کے سامنے یہ معاملہ آجاۓ کہ اپنی زندگی کی قربانی قبول کرے یا اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کا رشتہ توڑدے اور معبود انِ باطل کی پرستش کرے لگے، تو دیکھیں کہ اس کے بارے میں اس کا فیصلہ کیا ہوتا ہے؟ اور اگر اس کے سامنے یہ مرحلہ آ جاۓ کہ دنیا کی جو محبوب ترین شے ہو سکتی ہے اسکی محبّت اور اللہ کی محبّت کے درمیان فیصلہ کرنے کو کہا جاۓ تو دیکھیں کہ وہ کدھر کا رخ کرتا ہے ؎

رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں 
ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے!

یہ کل امتحان ہے جیسا کہ میں نےعرض کیا کہ پہلا امتحان عقل و فکر کا امتحان ہے.
دوسرا امتحان ارادے، نیت، سیرت و کردار اور عمل کا امتحان ہے. تو یہ ہے امتحان اور یہ ہے زندگی کی اصل غرض و غایت 
خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًاؕ اس کی ترجمانی بھی علامہ اقبال مرحوم نے بڑی خوبصورتی سے کی ہے وہ کہتے ہیں ؎

قلزمِ ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباب !
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی!

یہ جو ہماری زندگی ہے یہ حباب کی مانند ہے، بڑی عارضی، بڑی فانی ، پانی کا بلبلہ، جو اَب پھٹا کہ اب پھٹا. بلبلے کی اس سے زیادہ اور کیا حیثیت ہے. اس حیاتِ دنیوی کی پائیداری پر کوئی اعتماد نہیں ہو سکتا کہ یہ کب تک رہے گی. لیکن جتنی دیر بھی یہ بلبلہ قائم رہے اس کی بھی ایک غرض و غایت ہے. وہ بھی عبث نہیں ہے. ذرا اس کائنات کی وسعتوں کا تصور کیجۓ ، جس کو علامہ مرحوم نے اس شعر میں قلزم سے تعبیر کیا ہے. پس یہ زندگی ایک آزمائش اور امتحان سے زیادہ کوئی حیثیت اور و قعت نہیں رکھتی

یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ ٔ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے!