عید الضحیٰ اور فلسفۂ قربانی

حج کا رُکنِ رکین تو وقوفِ عرفات ہے اس کے علاوہ سورۃ الحج میں دوبنیادی ارکان کا ذکر ملتا ہے، ایک اللہ کے نام پر جانور کی قربانی اور دوسرے بیت اللہ کا طواف. اور ان میں بھی زیادہ زور اور تکرار و اصرار قربانی پر ہے جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ حج ارکانِ اسلام میں سے جامع ترین رکن ہے. لیکن اس کا معاملہ یہ ہے کہ یہ ایک خاص مقام اور جگہ سے متعلق ہے. حج آپ کسی دوسرے مقام پر کر ہی نہیں سکتے. اس کی ادایئگی کے لئے تو آپ کو مقررہ تاریخوں اور دنوں میں ارضِ مقدس جانا پڑے گا اور اس میں مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ کی شرط موجود ہے. اس کی استطاعت ہر ایک کو تو حاصل نہیں ہےتو ’’مَا لَا یُدْرَکُ کُلّہٗ لَا یُتْرَکُ کُلُّہٗ‘‘ یہ ایک اصول ہے.عقل عام (commom sence) کے تحت یہ کہا جاتا ہے کہ جو چیز کُل کی کُل حاصل نہ ہو سکتی ہو تو اسے کُل کی کُل کو چھوڑ ہی نہیں دینا چاہئے.

اس میں سے کچھ بھی ملتا ہو وہ تو لو. بس اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ حج کے ارکان میں سے ایک رکن قر بانی ہے. گویا بلا شبہ عید الضحیٰ اور اس کے ساتھ ’’قربانی‘‘ حج ہی کی توسیع کی حیثیت رکھتی ہے. اس لئے کہ حج اس اعتبار سے ایک محدودیت کا حامل ہے کہ اس کے تمام مراسم و مناسک ایک متعین علاقے یعنی مَکہ مکرمہ اور اس کے نواح ہی میں ادا کئے جاتے ہین اور کئے جا سکتے ہیں . اس لئے اس لئے اس کے ایک رکن یعنی اللہ کے نام پر جانورں کی قربانی کو وسعت دے دی گئی ہے، تاکہ اس روئے زمین پر بسنے والا پر مسلمان اس میں شریک ہو جائے اور یہی عید الاضحی اور اس کے ساتھ قربانی کی اصل حکمت ہے لہذا واجب ہے کہ استطاعت رکھنے والا ہر مسلمان عید الضحیٰ پر قربانی کرے. وہ بیت اللہ کا طواف نہیں کر پا رہا ، وہ سعی بین الصفاو المروۃ نہیں کر پا رہا ، وہ منیٰ میں قیام نہیں کر سکتا ، وہ وقوفِ عرفہ سے محروم ہے. وہ ان تمام برکات سے تہی دست رہ گیا ہے تو اس میں ایک حصہ ایسا ہے کہ جو مقام و مکان کی قید سے آزاد ہے، اس لئے وہ پورے کرۂ ارضی کے تمام مسلمانوں میں بانٹ دیا گیا ہے، سب کو جس میں شریک کر لیا گیا ہے. وہ ہے نماز عید الاضحی اور اس کے ساتھ جانورں کی قربانی . تا کہ دنیا بھر کے مسلمان اس کام میں شریک ہو جائیں.

ایک بات نوٹ کر لیجئے کہ شریعتِ محمدی علیٰ صا حبہا الصلوۃ و السلام سے قبل ارکانِ حج میں سے بہت بڑا رکن یہ قربانی ہی تھا . مثلا ًٍ سورۃ الحج میں، جس کا اکثر و بیشتر حصّہ مکّی ہے اور کچھ دورانِ ہجرت نازل ہوا ہے، حج کے احکام کا جوذکر آتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے سب سے زیادہ زور طواف اور قربانی پر ہے. لیکن سورۃ البقرۃ میں حج کے ارکان کا جو بیان آیا ہے اس میں قیام ِ معنی ٰٰٰٰ، وقوف ِ عرفات ، قیام مزدلفہ اور وہاں پر ذکر الہیٰ کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے. اور وہاں قربانی کا ذکر نہیں ہے. آپ کو یہ بات بڑی عجیب معلوم ہو گی . اصل بات سمجھئے ، وہ یہ کہ شریعتِ محمدی ؐ میں حج کے موقع پر قربانی کی اہمیت کم ہو گئی ہے، اتنی نہیں رہی جتنی پہلے تھی یہ باہر سے آنے والے جو قربانی دیتے ہیں یہ ’’ تمتّع‘‘ کی قربانی دیتے ہیں ، کیونکہ ایک ہی سفر میں وہ عمرہ بھی کر رہے ہوتے ہیں اور حج بھی . ’’تمتّع‘‘ اسی کو کہتے 
ہیں. یہ اس تمتع کا شکرانہ ہے جو ہر شخص قربانی کی شکل میں کر رہا ہے . وہاں کا یعنی عرب کا جو مفرد حاجی ہے ، اس پر قربانی واجب نہیں ہے. لیکن یہ قربانی پوری دنیا میں عام کر دی گئی ہے.

اب ہمارے ہاں جو منکرینِ حدیث ہیں ان کی عقل بالکل الٹی ہے ، ان کی مت ماری گئی ہے لہذا غلط استدلال کرتے ہیں . وہ وہاں کی قربانی کے تو قائل ہیں ، یہاں کی قربانی کے قائل نہیں ہیں . دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہاں قربانی کا گوشت ضائع ہوتا ہے . حالانکہ عقلی طور پر یہ موقف بالکل غلط ہے. یہاں گوشت کی ایک بوٹی بھی ضائع نہیں ہوتی . گوشت ضائع تو وہاں ہوتا ہے . وہاں کا معاملہ یہ ہے کہ ایک ہی مقام پر لاکھوں جانور ذبح ہوتے ہیں . ضیاع بھی اگرکسی درجہ میں کوئی دلیل ہے تو ضیاع تو وہاں ہوتا ہے، یہاں تو نہیں ہے. یہاں تو قربانی کے جانور کی اکثر و بیشتر کوئی چیز بھی ضائع نہیں ہوتی . کھالیں ضائع نہیں ہوتیں . ان کی قیمت فروخت سے ملک کے بے شمار دارالعلوموں اور رفاہی ادراوں کو ایک معقول آمدنی ہوتی ہے اور اس آمدنی سے بے شمار رفاہی کام انجام پاتے ہیں. بال ضائع نہیں ہوتے، ان کے اون تیار ہوتی ہے اور مختلف نوع کی صنعتوں میں کام آتی ہے. یہاں رَودے ضائع نہیں ہوتے ، آنتیں اور انتڑیاں تک ضائع نہیں ہوتیں ، ان کو بھہ کام میں استعمال کیا جاتا ہے. اب تو خون بھی جمع ہو رہا ہے جو پولٹری فیڈ میں استعمال ہورہا ہے.

ہڈیاں جمع ہو کر استعمال ہوتی ہیں . گویا قربانی کے گوشت کے علاوہ ، جو کھانے کے کام آتا ہے اور ناس کا کافی حصہ ان لوگوں کو بھی پہنچ جاتا ہے جن چاروں کو اس مہنگائی کے دور میں شاید سال بھر کے دوران گوشت خرید نا نصیب نہ ہوتا ہو ، اس کی ہر چیز استعمال میں آجاتی ہے. لہذا یہاں تو کسی چیز کے ضائع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. یہاں توقربانی کے جانور کا ریزہ ریزہ آپ استعمال کر لیتے ہیں ، جبکہ ’’منیٰ‘‘ میں منحر کے مقام پر جو قربانی ہوتی ہے اس کے گوشت کا کچھ حصہّ تو استعمال میں آتا ہے باقی رات بلڈ وزر آتے ہیں اور تمام ذبح شدہ جانورں کو کھال سمیت سمیٹ کر ایک گہرے گڑھے میں دبا دیتے ہیں مزید یہ کہ مّکہ فتح ہوا ہے ۰۸ھ میں ، جس کے بعد مسلمانوں کو حج کا موقع ملا ہے، لیکن احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مدینہ منورہ میں اس فتح سے قبل ہی عیدالاضحی کے موقع پر نبی اکرم ؐ اور صحابہ کرامؓ قربانی کیا کرتے تھے . میں آپ کو وہ حدیث سنا چکا ہو ں کہ آنحضور ؐ سے صحابہ ؓ نے دریافت کیا تھا کہ ’’ یا رسول اللہ ؐ ! ان قربانیوں کی نوعیت کیا ہے؟‘‘ تو جواباً آپ ؐ نے ارشاد فرمایا تھا: سُنّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھم.حقیقت یہ ہے کہ انسان جب سیدھی راہ سے ہٹتا ہے تو اس کی عقل اندھی ہو جاتی ہے تو وہ عقل عام یعنی common sense سے بھی تہی دست ہو جاتا ہے.

دوسرے وہاں جو لو گ گئے ہیں وہ حرم شریف میں نمازیں ادا کر رہے ہیں ، کعبہ شریف کا دیدار اور پھر کا طواف کر رہے ہیں . منیٰ میں قیام ہو رہا ہے. وقوفِ عرفات سے شاد کام ہو رہے ہیں. مزدلفہ میں ذکر الہیٰ ہورہا ہے، جیسا کہ حکم قرآنی ہے: 
فَاِذَاۤ اَفَضۡتُمۡ مِّنۡ عَرَفٰتٍ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ عِنۡدَ الۡمَشۡعَرِ الۡحَرَامِ ۪ان کو طوافِ قدوم ، طوافِ افاضہ اور طوافِ وداع کی سعادتیں بھی نصیب ہو رہی ہیں . وہ سعی بھی کر رہے ہیں . تو ان کے لئے تو بہت سی بر کات ہیں ، جن میں ایک اضافی برکت قربانی بھی ہے. اور جیسا کہ میں ابھی عرض کر چکا ہوں کہ قربانی مفرد پر تو واجب ہی نہیں ہے. اسی طرح قران کی نیت کرنے والے پر بھی قربانی واجب نہیں ہے. قران اس حج کو کہتے ہیں کہ اس نیت سے احرام باندھا جائے کہ اسی احرام میں عمرہ بھی کروں گا اور حج بھی قربانی تو صرف تمتع کرنے کی نیت والے حاجی پر واجب ہے یعنی وہ پہلےعمرے کی نیت کرے اور پھر عمرے کے بعد احرام کھول دے. پھر حج کے موقع پر دوبارہ حج کی نیت سے احرام باندھے. یعنی ایک ہی سفر میں آپ نے عمرہ اور حج دونوں کی سعادت حا صل کی.لہذا اس سہولت یعنی اس تمتع کے شکرانے کے طور پر آپ پر قربانی واجب ہو گی. اب میری بات غور سے سماعت فرمایئے. وہ یہ کہ اصل میں شریعت محمدی علیٰ صاحبہاالصلوۃوالسلام میں قربانی کی اہمیت اور وجوب زیادہ ان لو گوں کے لئے ہے جو حج پر نہیں گئے تھے ، لہذا حج کے سلسلہ کی بقیہ برکات سے محروم ہیں . ان کے لئے عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد رکنِ رکین در حقیقت یہ قربانی ہے، جو سنّتِ ابراہیمؑ سے تعلق ہے. گویا بھیڑوں، بکروں ، گایوں اور اونٹوں کی قربانی اصلاً علامت کی حیثیت رکھتی ہے اطاعت و فر ماں برداری اور تسلیم و انقیاد اور اس پر مداومت اور استقامت کی اس روح کے لئے جو حضرت ابراہیم (علیٰ نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام) کی پوری شخصیت میں رچی بسی ہوئی تھی اور ان کی پوری زندگی میں جاری و ساری تھی.