قافلۂ ملی کا حدی خواں

اب تک جو کچھ عرض کیا گیا اس کے پیش نظر یہ بات بڑی ہی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ مسلمانانِ ہند کے قومی مسائلِ کا ذکر علامہ مرحوم کے اشعار میں کہیں موجود نہیں ہے اور اپنے اشعار میں وہ عالمی ملتِ اسلامیہ کے نقیب اور قافلۂ ملی کے حدی خواں نظر آتے ہیں. 

علامہ مرحوم کی شاعری کے دورِ اوّل میں، جیسا کہ سب کو معلوم ہے، نہ صرف یہ کہ ان کا جذبۂ حب الوطنی چھلکا پڑتا ہے بلکہ باقاعدہ ہندی قوم پرستی کے آثار بھی ملتے ہیں. لیکن ’’بانگ درا‘‘ ہی کے نصفِ آخر میں دفعۃً وہ عالمی ملت اسلامیہ کے ترجمان و حدی خواں کی حیثیت سے نمودار ہوجاتے ہیں اور ’’ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا‘‘ اور ’’میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے‘‘ کی جگہ ’’چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا، مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا‘‘ کا وجد آفریں ترانہ ان کی زبان پر جاری ہوجاتا ہے. ان دو انتہاؤں کے مابین ہندوستان کے مسلمانوں کے جداگانہ قومی تشخص کا مسئلہ جو ان کے سیاسی فکر کا مرکز و محور ہے، ان کے اشعار میں کہیں نظر نہیں آتا. 

میرے نزدیک یہ تصوّر پسندی (IDEALISM) اور حقیقت بینی (REALISM) کا حسین ترین امتزاج ہے جس سے ہمیں علامہ مرحوم کی شخصیت متصف نظر آتی ہے. یا یوں کہہ لیں کہ یہ ’’اَصْلُھَا ثَابِتٌ‘‘ اور ’’فَرْعُھَا فِی السَّمَاءِ‘‘ (۱کی عمدہ مثال ہے کہ ایک جانب فکر اور خیال انتہائی بلندیوں کو چھو رہے ہوں اور دوسری طرف انسان کا تعلق اپنے نزدیکی ماحول کے تلخ حقائق سے بھی منقطع نہ ہونے پائے. سورۂ ابراہیم کی ایک تمثیل سے ماخوذ: ترجمہ: ’’اس کی جڑ جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں!‘‘ 

علامہ مرحوم کی ملی شاعری میں، جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا گیا تھا، دونوں رنگ موجود ہیں، مرثیہ خوانی کا بھی اور حدی خوانی کا بھی.... پہلے اعتبار سے یوں سمجھیے کہ انہوں نے شبلی و حالی دونوں کی جانشینی کا فرض ادا کیا اور ملت اسلامیہ کے شاندار اور تابناک ماضی کی یاد سے بھی دلوں کو گداز کیا اور امّتِ مرحومہ کی موجودہ زبوں حالی کا نقشہ بھی نہایت مؤثر اور دلدوز انداز میں کھینچا. مثال کے طور پر حالی کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے: ؎

اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے
امّت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے 
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے


پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ ابھرنا دیکھے
انے نہ کبھی کہ مدّ ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے

اور پھر پڑھیے وہ نظم جو ’’صقلیہ‘‘ (جزیرۂ سسلی) پر علامہ مرحوم نے کہی اور اندازہ کیجیے اقبال کی ملی مرثیہ خوانی کا!

رولے اب دل کھول کر اے دیدۂخوننا بہ بار!
وہ نظر آتا ہے تہذیبِ حجازی کا
تھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشینوں کا کبھی
بحر بازی گاہ تھا جن کے سفینوں کا کبھی
زلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں میں تھے
بجلیوں کے آشیانے جن کی تلواروں میں تھے
اک جہانِ تازہ کا پیغام تھا جن کا ظہور
کھا گئی عصرِ کہن کو جن کی تیغِ ناصبور 
مردہ عالم زندہ جن کی شورشِ قُم سے ہوا 
آدمی آزاد زنجیرِ توہّم سے ہوا 
غلغلوں سے جس کے لذّت گیر اب تک گوش ہے 
کیا وہ تکبیر اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہے؟

یا پڑھیے بانگِ درا میں اس کے قریب ہی کی وہ نظم جو ’’بلادِ اسلامیہ‘‘ کی یاد میں کہی گئی. اور جس میں دلّی، بغداد، قرطبہ اور قسطنطنیہ ایسے عروس ہائے بلاد میں سے ایک ایک کا نام لے لے کر انتہائی رقت انگیز پیرائے میں امّت مسلمہ کی عظمتِ گزشتہ و سطوتِ پارینہ کا مرثیہ پڑھا گیا. 

یا پڑھیے علامہ اقبال کی وہ طویل نظم جو ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ کے عنوان سے ’بالِ جبریل‘ میں شامل ہے. اس میں فکر و خیال کی عام بلند پروازی کے علاوہ جذبۂ ملی کی جو بے قرار از ابتدا تا انتہا جاری و ساری 
ہے اس سے بھی قطعِ نظر صرف وہ اشعار پڑھیے جو براہِ راست مسجدِ قرطبہ سے مخاطب ہوکر کہے گئے ہیں، اور اندازہ کیجئے جذباتِ ملی کے اس طوفان کا جو اس ’’کافرِ ہندی‘‘ کے قلب میں موجزن تھا!! اور غور کیجیے اس کے دو آخری بندوں پر کہ کس خوبصورتی کے ساتھ امت مرحومہ کی تجدید و احیاء کا پیغام دیا گیا اور کیسے جذبہ پرور انداز میں ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کی دعوت دی گئی. 

اور یہی در اصل علامہ مرحوم کی ملی شاعری کا وہ مثبت اور تعمیری پہلو ہے جو انہیں ملت کے سابق مرثیہ خوانوں سے ممتاز اور ممیز کرتا ہے. یعنی یہ کہ علامہ کے یہاں صرف درد انگیز نالے ہی نہیں ہیں انتہائی ولولہ انگیز پیغام عمل بھی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک شاندار مستقبل کی خوشخبری بھی ہے جس نے یاس اور قنوطیت کی ظلمت کا پردہ چاک کردیا اور دلوں میں امید کے چراغ روشن کر دیے. 

یوں تو علامہ کے اشعار میں یہ امید افزا پیغام گویا رچا بسا ہوا ہے، چنانچہ بانگِ درا کے متوسط حصے میں بھی جا بجا یہ رنگ موجود ہے کہ: ؎

نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کوالٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھرہوشیار ہوگا
اور ؎ 

اقبال کا ترانہ بانگِ درا ہے گویا
ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

لیکن خاص طور پر ’’طلوعِ اسلام‘‘ تو گیا از اول تا آخر ایک ’طبلِ رحیل‘ ہے:

سرشکِ چشمِ مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا
کتابِ ملتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صدہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا!
نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا!

اور ؎

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

علامہ مرحوم کی یہ ملی شاعری، جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں، حدودِ ارضی سے بالکل آزاد ہے اور ان کے اشعار کو پڑھتے ہوئے کسی کے حاشیۂ خیال میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی کہ ان کا قائل کبھی ایک محدود خطّۂ ارضی میں بسنے والے مسلمانوں کے خصوصی مسائل کے بارے میں بھی غور کرتا ہوگا. گویا ان کی شاعری ’’وَ لٰکِنَّہٗۤ اَخۡلَدَ اِلَی الۡاَرۡضِ ‘‘ (۱کے ہر شائبے سے بالکل پاک ہے. اندازہ کیجیے کہ ایک ہندی مسلمان ارضِ لاہور میں بیٹھا کہہ رہا ہےکہ:

طہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے

لیکن دوسری طرف اپنے گردوپیش سے بھی بے خبر نہیں ہے بلکہ حالات کی نبض پر ہاتھ دھرے مسلمانانِ ہند کے مسائل کی تشخیص بھی کر رہا ہے اور ان کا حل بھی پیش کر رہا ہے!
ملت اسلامیہ کی تجدید اور امّت مرحومہ کی نشاۃ ثانیہ کی جو فوری امید علامہ کو تھی، محسوس ہوتا ہے کہ عمر کے آخری دور میں اسے بہت سے صدموں سے دو چار ہونا پڑا اور شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بعد میں ایک قسم کی نا امیدی اور یاس کی سی کیفیت بھی علامہ مرحوم پر طاری ہوگئی تھی، جو مثلاً اس قسم کے اشعار سے ظاہر ہے کہ :. ؎

نہ مصطفیٰ نہ رضا شاہ میں نمود اس کی
کہ روحِ شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی

اور 
(۱) سورۃ الاعراف کی آیت نمبر۱۷۶ کا ایک ٹکڑا. ترجمہ: ’’لیکن وہ تو زمین کی جانب ہی جھکتا چلا گیا‘‘
(۲) یہ دوسری بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت طہران کی بجائے ارضِ لاہور کو عطا فرما دی جہاں ملتِ اسلامیہ کا یہ حدی خواں مدفون ہے. ابھی جو عالمی اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی تھی اس کے موقع پر جناب وقار انبالوی نے علامہ مرحوم کی روح سے خطاب کرکے کیا خوب کہا ؎

اے دیدۂ بیدارِ خودی! مردِ قلندر! رحمت ہے خدا کی ترے افکارِ مبیں پر
لاہورؔ بنا ہے تری ملت کا جنیواؔ کیا رنگِ بہاراں ہے گلستانِ یقیں پر
تعبیر سے ہم دوش ہے اقبال ترا خواب مسرور ہو تو خلد میں جمعیتِ دیں پر 


تیرے محیط میں کہیں گوہرِ زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج، دیکھ چکا صدف صدف!

لیکن اس کا اصل سبب یہ ہے کہ علامہ مرحوم نابغہ 
(GENIUS) اشخاص میں سے تھے، جن کے بارے میں یہ مسلم ہے کہ وہ وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ اپنے زمانے سے قدرے بعد کی باتیں کرتے ہیں. اب ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقویم میں تیس چالیس سال کا عرصہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ علامہ مرحوم نے جس دور کا خواب دیکھا تھا اس کی ابتدا ہورہی ہے. (۱(۱) (پ.ن. نومبر ۹۴ء) یہ بات راقم نے ۳ مئی ۱۹۷۳ء کو کہی تھی اور بحمد اللہ ایک سال سے کم مدت کے اندر اندر اس کی دو عظیم شہادتیں بھی رونما ہوگئی تھیں. چنانچہ ایک طرف اکتوبر۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگ میں ایک بالکل نیا نقشہ دنیا کی نگاہوں کے سامنے آگیا تھا. چنانچہ وہی عرب جو بزدل اور بھگوڑے مشہور ہوگئے تھے، ان کی بہادری، جرأت اور جانبازی کے چرچے عام ہوگئے اور وہ عالم عرب جس کا اختلاف وافتراق ضرب المثل بن چکا تھا دفعۃً ایک متحد قوت کی حیثیت سے دنیا کے سامنے آن کھڑا ہوا. یہاں تک کہ یہ ’’کنجشکِ فروماویہ‘‘ تیل کا ہتھیار استعمال کرکے امریکہ ایسے ’’شاہین‘‘ سے لڑگیا! دوسری طرف فروری۷۴ء کی عالمی اسلامی سربراہی کانفرنس منعقدہ لاہور نے عالمِ اسلام کے اتحاد کا ایک نہایت دلفزا منظر چشم عالم کے سامنے پیش کردیا جس کی اہمیت کا اصل اندازہ اس سراسیمگی سے لگایا جا سکتا ہے جو اس وقت بھارت اور اس کے کار پردازوں پر طاری ہوگئی تھی.

یہ دوسری بات ہے کہ علامہ اقبال ہی کے ان اشعار کے مصداق کہ ؎ دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش. تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا!. اور ’’اللہ کو پامردئ مومن پہ بھروسہ. ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا!‘‘. دنیا کی ابلیسی قوتوں نے احیاء دین و ملت کی اس چڑھتی لہر کو نہ صرف روک دیا بلکہ پسپائی پر مجبور کردیا. تاہم اس کے بعد سے اب تک یہ لہر اتار اور چڑھاؤ کے کئی ادوار سے گزر کر بہرحال اس حد تک آگے بڑھ آئی ہے کہ پوری مغربی دنیاء مسلم فنڈامنٹلزم سے خائف نظر آتی ہے. اور اگرچہ ابھی احیاء دین و ملت کا یہ عمل مستقبل قریب میں بعض بڑے بڑے صدمات سے دو چار نظر آتا ہے تاہم بالآخر جو نوید جانفزا اقبال نے دی تھی وہ الفاظ قرآنی 
’’لترکبن طبقاً عن طبق‘‘ اور احادیثِ نبویہ میں وارد شدہ پیشنگوئیوں کے مطابق لازماً پوری ہوکر رہے گی. اور .؏ . ’’بتا رہی ہے یہ ظلمت شب کہ صبح نزدیک آ رہی ہے‘‘ کے مصداق حوادث و واقعات عالم کی تیز رفتاری بتا رہی ہے کہ بالآخر پورے کرۂ ارضی پر ’’خلافت علی منہاج النبوت‘‘ کے نظام کا قیام اب بہت زیادہ دور نہیں ہے!
(اسرار احمد ۸ نومبر ۹۴ء)

ڈاکٹر اسرار احمد
اپریل ۲۰۱۹
یہ ایک یاد گار خطاب تھا جس میں محترم ڈاکٹر صاحب نے نہایت منفرد انداز میں مسلمانانِ پاکستان اور علامہ اقبال کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی.