قرآن کا فلسفۂ تاریخ

آج کی گفتگو کے لیے میں قرآن حکیم کی اس آیت کو بطور ِعنوان اختیار کررہاہوں جس میں قرآن کا فلسفہ تاریخ بیان ہوا ہے: 

بَلۡ نَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ عَلَی الۡبَاطِلِ فَیَدۡمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ ؕ وَ لَکُمُ الۡوَیۡلُ مِمَّا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۸﴾ 
(الانبیائ: ۱۸
’’مگر ہم تو حق کو باطل پر دے مارتے ہیں ‘ جو اس کا بھیجا نکال دیتا ہے ‘ اور دیکھتے ہی دیکھتے نابود ہوجاتا ہے . اور تمہارے لیے تباہی ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو.‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ باطل کی سرکوبی کے لیے حق کا کوڑا اس کے سرپر مارتا ہے ‘ جس سے باطل کا سر پاش پاش ہوجاتا ہے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے نیست ونابود ہوجاتا ہے . ا س مقام پر باطل کے لیے ’’فاذا ہوذاہق‘‘ کے الفاظ آئے ہیں .یہی لفظ (زہق)سورۃ الاسرائ(آیت۸۱میں بایں طور آیا ہے : 

جَآءَ الۡحَقُّ وَ زَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا ﴿۸۱﴾ 
’’حق آگیا اور باطل مٹ گیا ‘ باطل تو یقینا مٹنے والا ہے .‘‘

باطل میں یہ ہمت اور مقاومت نہیں ہے کہ وہ حق کے مقابل کھڑا ہوسکے . البتہ اگر اہل حق ہی بے یقینی کا شکار ہوجائیں ‘ ان میں منافقت پیداہوجائے یا وہ بزدل ‘ بے حمیت اور بے غیرت ہوکر اند ر سے کھوکھلے ہوجائیں تو بات دوسری ہے . پھر تو ’’راج کرے گا خالصہ ‘ہورکرے نہ کرے ‘‘کے مصداق باطل ہی ناچے گا بلکہ ننگا ناچ ناچے گا . ا س بھیانک صورتحال کی عکاسی نبی اکرم  کی اس لرزا دینے والی حدیث میں ملتی ہے جو حضرت علیh ؓ سے مروی ہے اور جسے امام بیہقی ؒ ’’شعب الایمان‘‘میں لائے ہیں . حدیث کے الفاظ ہیں : 

یُوشِکُ اَنْ یَا تِیَ علیَ النّاسِ زمانٔ لَا یبقٰی مِنَ الاسلامِ اِلَّا اسْمُہٗ وَلا یبقیٰ مِن القرآنِ اِلَّا رَسْمُہٗ مَساجدھم عامرۃٔ وھی خرابٌ مِنْ الھُدٰی، علمائوھُم شَرٌّ مَنْ تحتَ اَدیمِ السَّمَائِ، مِن عِندِھم تخرُج الفتنۃُ وَفِیھم تَعُود (مشکوۃ‘ کتاب العلم) 
’’قریب ہے کہ لوگوں پر یہ وقت آجائے کہ اسلام میں سے اس کے نام کے سوا کچھ نہیں بچے گا اور قرآن میں سے اس کے حروف کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا . ان کی مساجد بظاہر بڑی آبادہوں گی (اور عالیشان ہوں گی )لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی . ان کے علماء آسمان کی چھت کے نیچے کے بدترین لوگ ہوں گے ‘ جو فتنوں کو جنم دیں گے اور یہ فتنے واپس انہی میں لوٹ جائیں گے .‘‘

آج ہمیں اس صورت حال کی جھلک اپنے ان علماء میں نظر آتی ہے جنہوں نے دین کو پیشہ بنالیا ہے . ان کی ساری دلچسپی امت میں فتنے پیدا کرنے او راس میں تفرقہ پیدا کرکے اپنی دوکان چمکانے سے ہے . انہیں معلوم ہے کہ امت میں جتنا زیادہ اختلاف ابھرے گا‘ لوگوں کو مناظروں کے لیے مولویوں کی اتنی ہی زیادہ ضرورت ہوگی . 

تو اگر حق اس درجے کمزور اور کھوکھلاہوچکا ہوتو پھر باطل کا بول بالا رہے گا ‘ لیکن اگر کچھ بھی باصلاحیت ‘ اعلیٰ کردار کے حامل لوگ‘جنہیں خریدا نہ جاسکتا ہو‘ جو دین کو پیشہ نہ سمجھیں بلکہ اس کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھتے ہوں ‘ معتدبہ تعداد میں تیا رہوجائیں تو پھر وہ دیکھیں گے کہ باطل میں مقابلہ کرنے کی قوت نہیں ہے . علامہ اقبال نے اپنے اس فارسی شعر میں متذکرہ بالا آیت 
(بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلیَ الْبَاطِلِ…) والا انداز ہی اختیار کیا ہے ؎

با نشۂ درویشی در ساز و دمادم زن
چوں پختہ شوی خود را بر سلطنتِ جم زن!

پہلے درویشی اختیار کرو . یعنی تربیت وتزکیہ کے مراحل سے خود کو گزارو‘ اپنے سیرت وکردار کو تزکیہ نفس کے ذریعے ایک خاص سطح تک لے کر جاؤ‘ پھر دعوت کے تقاضے پورے کرو ‘ لوگوں پر اتمامِ حجت کرو‘ ان کے طعنے اور گالیا ں سنواور صبر کرو . اس طرح’’تو خاک میں مل اور آگ میں جل‘جب خشت بنے تب کام چلے ‘‘کے مصداق جب پختہ 
ہوجاؤتو باطل سے ٹکرا جاؤ. سمندر کے کنارے سے کچی ریت اٹھا کر اس کا گولہ بنا کر کہیں مارو گے تو ریت بکھر جائے گی، اس سے کسی کا بھی کچھ نہیں بگڑے گا، یہاں تک کہ یہ شیشے کو بھی نہ توڑ سکے گی، لیکن اسی ریت کو اگر بھٹی میں پکا کر روڑا بنا لو گے تو یہ کارآمد ثابت ہو گا. محمدٌ رسول اللہ نے پہلے اپنے ساتھیوں کی تربیت اور ان کا تزکیہ کیا. جب وہ آزمائشوں کی بھٹیوں سے گزر کر کندن بن گئے تو انہیں باطل کے مقابل لا کھڑا کیا اور ان کا کوڑا بنا کر باطل کے سرپر دے مارا جس سے باطل نابود ہو گیا اور حق کا بول بالا ہو گیا اس طرح ’’مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ (صلی اللہ علیہ وسلم و رضی اللہ عنہم اجمعین) نے جزیرہ نمائے عرب میں اسلامی انقلاب برپا کر دکھایا.

ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ نے حق کا کوڑا باطل پر برسایا اور اس کا بھیجا نکال دیا. یہ محض تعبیر کا فرق ہے کہ ہم اس کی نسبت رسول اللہ اور آپؐ کے ساتھیوں کی طرف کریں یا اللہ تعالیٰ کی طرف کریں، اس لئے کہ فاعلِ حقیقی تو اللہ کے سوا کوئی ہے ہی نہیں، اور اس کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اذنِ رب ہی سے ہوتا ہے. شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے وصیا میں یہ جملہ حرزِ جان بنانے کے قابل ہے کہ ’’لافاعلَ فِی الحقیقۃِ ولا مؤثرَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ یعنی فی الحقیقت اللہ کے سوا کوئی فاعل اور کوئی مؤثر ہے ہی نہیں.سورۃ الانبیاءکی متذکرہ بالا آیت کا آخری ٹکڑا بھی بہت اہم ہے کہ ’’وَلَکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ ‘‘ یعنی ’’تمہارے لئے تباہی و بربادی ہے ان باتوں سے جو تم بناتے ہو ‘‘. اس میں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے حضرات کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ان الفاظ کا اطلاق ان پر بھی ہو سکتا ہے. 

زیر نظر آیت میں دراصل قرآن کا فلسفہ تاریخ بیان ہوا ہے کہ حق و باطل کی کشاکش روزِاول سے چلی آرہی ہے ، جس میں اگر چہ اکثر و بیشتر باطل کا پلڑا بھاڑی دکھائی دیتا ہے، لیکن جب کبھی حق کو با کردار صاحبِ حق مل جائیں تو اس کا منطقی نتیجہ باطل کے نیست و نابود ہوجانے اور حق کے غالب ہو جانے کی صورت میں نکلتا ہے. قرآن کے اس فلسفۂ تاریخ کو اقبال نے بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے ؎

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز 
چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بو لہبی!

محمدٌرسول اللہ ؐ اور ابو لہب کے درمیان تصادم صرف مکہ کی سرزمین ہی پر نہیں ہوا، بلکہ یہ ہمیشہ سے موجود دو کردار ہیں جو حق اور باطل کی علامت ہیں اور ان کے درمیان کشاکش، تصادم اور معرکہ آرائی روزِ اول سے جاری ہے. کبھی وہ چراغِ مصطفوی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صورت میں جلوہ گر ہوا تھا اور شرار بولہبی فرعون کی شکل میں آیا تھا. کبھی وہی چراغ مصطفوی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی صورت میں ظہور کر رہا تھا اور نمرود اس وقت شرار بولہبی کا مظہر تھا. ازل سے جاری حق و باطل کی یہ معرکہ آرائی بتدریج اپنے نقطۂ عروج کی طرف بڑھ رہی ہے. یہ قانون فطرت ہے کہ ہر چیز ارتقاء کے مراحل طے کرتے ہوئے اپنے نقطۂ کمال کو پہنچتی ہے. آپ جانتے ہیں کہ انسان کا طبعی سائنس کا علم ارتقاء کر کے کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا ہے کہ ؎ 

عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارامہِ کامل نہ بن جائے!

انسان چاند پر تو قدم رکھ آیا ہے، جبکہ مریخ کا طواف ہو رہا ہے اور اسے وہاں اترنے میں کیا دیر لگے گی! اسی طرح حق و باطل کی کشمکش بھی ارتقاء کے مراحل طے کرتے کرتے اپنے نقطۂ عروج کو پہنچ رہی ہے اور یوں سمجھئے کہ اب فائنل شوڈائون ہونے والا ہے. حق و باطل کا آخری مقابلہ بڑا ہی خون ریز اور تباہ کن ہو گا، جس کی تفاصیل ہمیں ’’کتاب الملاحم‘‘ کی احادیث میں ملتی ہے. مَلاحِم، مَلْحَمَۃ کی جمعہ ہے، یعنی ایسی گھمسان کی جنگ کا موقع جہاں گوشت کے ٹکڑے اڑ رہے ہوں. آپ کے علم میں ہو گا کہ ’’لحم‘‘ گوشت کو کہتے ہیں اور ’’مَلْحَم‘‘ قصاب کی دوکان کو.

لفظ ’’مَلحمَۃ‘‘ کے حوالے سے مجھے فتح مکہ کا یہ واقعہ یاد آ گیا ہے کہ اس روز حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہاتھ میں علم تھامے یہ رجز پڑھ رہے تھے 
’’اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَلْحَمَۃِ‘‘ یعنی آج ٹکڑے اڑانے کا دن ہے، آج ہم کفارِ قریش سے ان کیزیادیتوں کے گِن گِن کو بدلے لیں گے. جب یہ بات رسول اللہ کے علم میں آئی تو اپؐ نے حضرت سعدؓ کو بلا کر فرمایا کہ نہیں، بلکہ ’’اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَرْحَمَۃ‘‘ یعنی آج تو رحمتِ خداوندی کے ظہور کا دن ہے. چنانچہ فتح مکہ کے بعد آپؐ نے سردارانِ قریش کو جمع کر کے پوچھا کہ آج تمہارے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے؟ اس پر انہوں نے انتہائی لجاجت کے ساتھ خوشامد کرتے ہوئے عرض کیا: کریمٌ ابنِ کریمٍ… یعنی آپ خوب بھی ایک نہایت شریف انسان ہیں اور ایک نہایت شریف انسان کے بیٹھے ہیں! مطلب یہ کہ ہم آپ سے اس طرزعمل کی توقع رکھتے ہیں جو آپؐ کی شرافت و نجابت کے شایان شان ہو. آپؐ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا، آج میں تم سے وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسفؑ نے کہی تھی: ’’لَاتْثَرِیْبَ عَلیکُمُ الْیَومَ، اِذْھَبُو ا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَائُ‘‘ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے. جاؤ ، تم سب آزاد ہو!

تو کتاب الملاحم میں ان جنگوں کی تفاصیل پر مشتمل احادیث ہیں جو بعد میں آنے والی ہیں. جیسا کہ میں نے عرض کیا، حق و باطل کی کشاکش ازل سے جاری ہے اور اپنے نقطۂ عروج کی طرف بڑھ رہی ہے. اب یہ مرحلہ پر پہنچ چکی ہے جس کے بارے میں اقبال نے کہا ہے ؎

دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردیٔ مومن پہ بھروسا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

اس کشاکشِ حق و باطل کا نقطۂ عروج 
(Climax) وہ جنگ عظیم ہو گی جسے احادیث میں ’’المَلحمۃ العظمیٰ‘‘ کا نام دیا گیاہ ے. یعنی یہ تاریخ انسانی کی عظیم ترین جنگ ہو گی، جس کی ہلاکت آفرینی کا نقشہ ایک حدیث میں بایں طور کھینچا گیا ہے کہ زمین لاشوں سے اس طرح اٹی پڑی ہو گی کہ ایک پرندہ مسلسل اڑتا چلا جائے گا لیکن اسے زمین پر اترنے کے لئے جگہ نہیں ملے گی.

عظیم جنگوں پر مشتمل اس دورِ فتن کا اختتام کس طور سے ہو گا؟ اس کے ضمن میں پیشینگوئیوں پر مشتمل احادیث میں بارہا بیان کر چکا ہوں. گویا پھر 
’’ۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ زَہَقَ الۡبَاطِلُ ‘‘ کا نقشہ سامنے آئے گا اور آیتِ قرآنی ’’بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ‘‘ بتمام و کمال ظاہر ہو گی. پورے عالمِ انسانی پر اللہ کے دین کا غلبہ ہو گا اور توحید کا پرچم لہرائے گا. نورِ توحید سے یہ کرۂ ارضی منور ہو جائے گا. گویا ’’وَاَشْرَقَتِ الاَرْضُ بِنُورِ رَبِّھَا‘‘ زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی. اس کی پیشینگوئیاں جہاں احادیث نبویہ میں موجود ہیں وہاں علامہ اقبال نے بھی اپنے اشعار میں جا بجا کی ہیں. اس ضمن میں ان کی ایک نظم تو میرے نزدیک الہامی نظم ہے. واضح رہے کہ وحی نبوت کے ختم ہو جانے کے بعد ہم رؤیائے صادقہ (سچے خواب) کے علاوہ کشف اور الہام کے قائل ہیں، کیونکہ ان کا ثبوت احادیث نبویہ سے ملتا ہے. اقبال کی اس نظم کے یہ اشعار ملاحظہ کیجئے ؎

آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی!
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغامِ سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گی!
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی!!
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے!
یہ چمن معمور ہو گا نغمۂ توحید سے!!

بہرحال یہ تو ہونا ہے. لیکن اس سے پہلے جو کچھ ہونا ہے اس کا بھی میں اپنی تالیف ’’سابقہ اور موجودہ مسلمان امتوں کا ماضی، حال اور مستقبل ‘‘ نامی کتاب میں قدرے تفصیل سے لکھ چکا ہے.

دورِ فتن میں ایک بہت نمایاں کردار جو ابھرے گا وہ دجال ہو گا، جس کے بارے میں حدیث میں آتا ہے کہ اس سے بڑا فتنہ پہلے کبھی ہوا ہے نہ آئندہ ہو گا. اس دجال کو حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ زمین پر آکر قتل کریں گے. اس دورِ فتن میں اہل ایمان میں سے بھی ایک نمایاں شخصیت ابھرے گی، جس کا نام مہدیٔ موعود ہے. علامہ اقبال کا ایک بڑا پیارا شعر ہے ؎

خونِ اسرائیل آ جاتا ہے آخر جوش میں
توڑ دیتا ہے کوئی موسیٰ طلسمِ سامری!

’’اسرائیل‘‘ حضرت یعقوب کا لقب ہے ‘ جن سے ان کی نسل بنی اسرائیل چلی . ان کے تایا حضرت اسماعیل تھے ‘ جن کی نسل سے محمد رسول اللہ  تھے . چنانچہ مہدیٔ موعود کے بارے میں یہ کہنا چاہیے کہ ’’خون اسماعیل آجائے گا آخر جوش میں !‘‘اس لیے کہ وہ نبی اکرم  کی آل سے ہوں گے ‘ حضرت فاطمہ ؓ کی نسل سے ہوں گے اور اس بحر سے نکلنے والے ایک نہایت قیمتی موتی ہوں گے.