روحِ ربانی‘ عظمت ِانسانی کا سبب

آج کے ہمارے اس خطاب کا حاصل یہ ہے کہ انسان ایک مرکب وجود کا حامل ہے‘ ایک اس کا مادی وجود ہے اور ایک اس کا روحانی وجود ہے. انسان اصل میں اس روحانی وجود کا نام ہے جس کے سامنے فرشتے جھکائے گئے ‘ورنہ مادئہ تخلیق کے اعتبار سے تو ِجنات ّہم سے بہت اونچے ہیں کہ وہ آگ سے پیدا کیے گئے ہیں . ان کا وجود بہت لطیف ہے کہ وہ ہمیں نظر نہیں آتے اور مختلف شکلیں اختیار کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں. وہ نظامِ شمسی میں بہت دور تک چلے جاتے ہیں‘ جبکہ ہم تو بڑے بڑے راکٹ بنا کر بھی بڑی مشکل سے چاند تک پہنچنے کا دعویٰ کر سکے ہیں‘ معلوم نہیں پہنچے بھی ہیں یا نہیں! اور وہ تو آسمانوں تک کی خبر لے آتے ہیں‘ اس لیے کہ وہ اس دور میں پیدا ہوئے ہیں جبکہ ابھی کہکشائیں وجود میں آ رہی تھیں. چنانچہ خلقت کے اعتبار سے ِجن انسان سے بلند ہیں اور انسان اس اعتبارسے بہت پست ہے. یہی فرق تھا جس کی بنا پر عزازیل نامی جن ‘ جو بعد میں ابلیس اور شیطانِ لعین قرار پایا‘ نے آدم ؑکو سجدہ نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا: 

اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ ؕ خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿۷۶﴾ 
(صٓ) 
’’میں اس (آدم )سے بہتر ہوں‘ مجھے تو نے پیدا کیا آگ سے اور اسے پیدا کیا مٹی سے.‘‘

مٹی پستی کی شے ہے ‘جیسے اقبال نے جواب ِشکوہ میں کہا ہے ؏ ’’شوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں!‘‘ابلیس اس روحِ ربانی کو نہیں سمجھتا تھا جو اس آدم کی عظمت کی دلیل ہے اور جس کے عز و شرف کے اظہار کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی ذات کی جانب منسوب کیا ہے. قرآن مجید میں اس کا تذکرہ دوجگہ آیا ہے: 
فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ ﴿۷۲﴾ (الحجر:۲۹. ص:۷۲

’’پھر جب میں اس (انسان) کی تخلیق مکمل کر دوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تب تم سب گر پڑنا اس کے سامنے سجدے میں.‘‘

یہ بڑے گہرے مضامین ہیں اور بدقسمتی سے آج ہم ان چیزوں سے بہت دور چلے گئے ہیں‘ اسی لیے سورۃ الحشر میں فرمایا گیا: 
وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنۡسٰہُمۡ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ (الحشر:۱۹’’اور ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا.‘‘
آج ہم اپنی عظمت سے غافل ہیں .ہم تو مسجود ملائک ہیں ‘لیکن آج ہماری سوچ یہ ہے کہ ہم حیوانوں میں سے بس ایک حیوان ہیں اوراس کے سوا کچھ نہیں. 

اقول قولی ھذا واستغفر اللّٰہ لی ولکم ولسائر المسلمین والمسلمات