’’حَمد‘‘ کا اصل مفہوم

عام طور پر ہمارے ذہن میں حَمد کا مفہوم تعریف اور ثناء ہے‘ حالانکہ حمد کا اصل مفہوم ہے :شکر کرنا‘ تو اَلحَمْدُ لِلّٰہِ کا معنی ہو گا : کل شکر‘ کل ثناء اور کل تعریف اللہ کے لیے ہے. آپ دیکھتے ہیں کہ جو دعائیں ہمیں تلقین کی گئی ہیں ان میں شکر کے مقام پرلفظ حمد آتا ہے.مثلاً آپ بھوک اور نقاہت محسوس کر رہے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کھانا دیا. اب آپ کے اندر قوت اور طاقت لوٹ آئی تو آپ یہ دعا پڑھیں گے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنِیْ وَسَقَانِیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ’’کل شکر اُس اللہ کا ہے جس نے مجھے کھلایا‘ پلایا اور مجھے مسلمانوں میں سے بنایا‘‘. اسی طرح جب صبح ہماری آنکھ کھلتی ہے تو ہم پڑھتے ہیں: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانِیْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِیْ وَاِلَـیْہِ النُّشُوْر ’’کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے دوبارہ زندگی عطا کی اس کے بعد کہ مجھ پر موت طاری ہو گئی تھی اور پھر واپس اسی کی طرف لوٹ جانا ہے‘‘.نیند میں انسان کا شعور جاتا رہتا ہے‘ جبکہ موت میں انسان کی جان چلی جاتی ہے. لہٰذا یہ ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور حضور اکرم نے نیند اور موت کوایک دوسرے کی بہنیں قرار دیاہے‘لہٰذا جب صبح ہماری آنکھ کھلتی ہے تو یہ دعا زبان پر آ جانی چاہیے.