دین کے جملہ فرائض میں باہمی ربط وتناسب

میں نے ’’ مشتے نمونہ از خروارے‘‘ کے طور پر آپ کے سامنے یہ تمام اوامر و نواہی بیان کیے ہیں. ان کے بارے میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان میں باہمی ربط کیا ہے؟اور کون سی چیز بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور کون سی چیز ثانوی حیثیت رکھتی ہے؟ اس کا جاننا بہت ضروری ہے‘اس لیے کہ اگران فرائض میں درجہ بندی کا خیال نہ رکھا جائے تو؏ ’’گر حفظ ِ مراتب نہ کنی زندیقی‘‘ کے مصداق یہ بات انسان کی بربادی کا باعث بن سکتی ہے. ہو سکتا ہے ایک شے جو آپ سے من بھر مطلوب ہے ‘وہ تو آپ ایک تولہ کر کے فارغ ہو جائیں اور جو تولہ بھر مقصود تھی اس کے اوپر آپ ایک من کاڈھیرلگا دیں. یہ نسبت و تناسب کا اُلٹ ہو جانا بھی انسان کی تباہی و بربادی ‘ناکامی اور آخرت کے خسران پر منتج ہو سکتا ہے.

اس نسبت وتناسب کو سمجھنے کے لیے میں آپ کے سامنے ایک عمارت کا نقشہ رکھتا ہوںایک مرتبہ جمعہ میں خطاب کرتے ہوئے اچانک وہ نقشہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈال دیا . یہ کوئی تیس پینتیس سال پرانی بات ہے‘لیکن اس کے بعد جہاں بھی میں نے وہ نقشہ بیان کیا ہے تو اس سے بہت سے لوگوں کوانشراح حاصل ہوا ہے. یہ واقعتا ایسے ہی ہے کہ ایک آدمی کی بینائی کمزور ہو گئی ہے‘ وہ ٹھیک طور پر دیکھ نہیں پاتا ‘لیکن جب اسے عینک لگ جاتی ہے تو اسے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے روشنی حاصل ہو گئی اور جو چیزیں پہلے دھندلی نظر آ رہی تھیں اب وہ صاف نظر آنے لگ جاتی ہیں. اسی طریقے سے دین کے جملہ فرائض میں نسبت وتناسب کو سمجھنے کے لیے یہ نقشہ ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے. آپ ایک تین منزلہ عمارت کا تصور اپنے ذہن میں قائم کریں جس کی پہلی منزل پر صرف چار ستون کھڑے ہیں.ستونوں کے علاوہ نہ کوئی دیواریں ہیں اور نہ کوئی کمرے وغیرہ ہیں. آج کل کے رواج کے مطابق گویا پارکنگ لاٹ کے طور پر وہ جگہ چھوڑ دی گئی.البتہ اس پہلی منزل کے نیچے ایک بنیاد ہے اور ان بنیادوں پر یہ چاروںستون کھڑے ہیں.پھر ان بنیادوں کے بھی دو حصے ہیں‘ایک حصہ وہ ہے جو نظر آرہا ہے اور وہ سطح زمین سے اوپر ہوتا ہے‘جسے آپ پلنتھ (plinth) اور کرسی بھی کہہ دیتے ہیں.یہ بھی بنیادہے‘ لیکن اصل بنیاد وہ ہے جو زیرزمین ہے اور نظر نہیں آتی. ظاہر بات ہے کہ عمارت کی مضبوطی کا سارادار و مدار اس پر ہے. جتنی اونچی عمارت آپ نے بنانی ہے اس کی فائونڈیشن اتنی ہی گہری ہونی چاہیے. 

ان بنیادوں پر چار ستون ہیں اور پھران چار ستونوں کے اوپر پہلی چھت آ گئی. اب اس کے اوپرتعمیر (construction) کی وجہ سے ستون نظر نہیں آئیں گے لیکن ستون اوپر چڑھتے رہیں گے اور ان ستونوں پر ہی دوسری چھت بھی آئے گی. آج کل انجینئرنگ کا اصول یہی ہے کہ بلڈنگ کا سارا سٹرکچر ستونوں پر استوار ہوتا ہے. باقی دیواروں کوبڑی آسانی سے اِدھر اُدھر کیا جا سکتا ہے اور اس سے چھت پرکوئی فرق واقع نہیں ہوتا ‘اس لیے کہ چھت کا ساراوزن تو ستونوں پر ہے ‘نہ کہ دیواروں پر . اب ان ستونوں پر دوسری چھت آ گئی. پھر یہی ستون اوپر جائیں گے اور تیسری چھت بھی انہی پرآ جائے گی. غور کیجیے کہ چار ہی ستون ہیں اور اس کے اوپر تین چھتیں ہیں اور ظاہر بات ہے کہ نیچے بنیاد (foundation) بھی ہے.