بیع پر بیع (سودے پر سودا)کرنے کی ممانعت

اگلی بات رسول اللہ نے زیر مطالعہ حدیث میں یہ فرمائی: وَلَا یَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَیْعِ بَعْضٍ ’’اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے‘‘. آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایک شخص کوئی چیز خرید رہا ہے اور آپ آگے بڑھ کر اس سے زیادہ قیمت لگا دیتے ہیں تو یہ طرزِعمل صحیح نہیں ہے. آپ انتظار کریں‘ اگر ان کا سودا ہوجا ئے تو ٹھیک ہے اور اگر ان کی بات نہیں بنتی تو پھر آپ سودا کرسکتے ہیں. اسی طرح احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ اگر کہیں کسی کے رشتے کی بات چل رہی ہو تو وہاں آپ رشتے کی بات نہ کریں جب تک کہ ان کا فیصلہ نہ ہو جائے. وہ رشتہ ہو گیا تو آپ کی زبان پر یہ دعا ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس رشتے میں برکت ڈالے. اہل ایمان کے لیے آپ کے جذبات یہی ہونے چاہئیں .اوراگر کسی وجہ سے ان کا رشتہ نہیں ہوتا تب آپ رشتے کا سوال کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں.ایک حدیث میں رسول اللہ  نے ان دونوں باتوں کو اکٹھا بیان کیا ہے.آپ  کا ارشاد ہے:

اَلْمُؤْمِنُ اَخُو الْمُؤْمِنِ‘ فَلَا یَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ اَنْ یَبْتَاعَ عَلٰی بَیْعِ اَخِیْہِ وَلَا یَخْطُبَ عَلٰی خِطْبَۃِ اَخِیْہِ حَتّٰی یَذَرَ (۱
’ہر مؤمن دوسرے مؤمن کا بھائی ہے ‘پس اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے اور نہ ہی یہ کہ وہ اس کے پیغام ِ نکاح پراپنا پیغامِ نکاح بھیجے ‘حتیٰ کہ وہ دست بردار ہو جائے.‘‘